اسلام آباد(پی ایف پی نیوز)

اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیر اہتمام رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں آن لائن کشمیری زبانوں(کشمیری، گوجری، پہاڑی) کا حمدیہ نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا۔ مجلس صدار ت میں علامہ جواد جعفری (مظفر آباد) اور مخلص وجدانی(مظفر آباد) شامل تھے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری (اسلام آباد) مہمان خصوصی تھے۔ ڈاکٹر صغیر خان (راولاکوٹ) اور کریم اللہ قریشی(مظفر آباد) مہمانان اعزاز تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان، نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت پروفیسر اعجاز نعمانی نے کی۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی نے ابتدائیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری زبان میں حمد و نعت گوئی کی ابتدا سید علی ہمدانی کی کشمیر آوری سے منسوب ہے۔1372عیسوی میں آپ نے اپنے نعتیہ مجموعے ”چہل اسرار“(فارسی زبان میں تھااور چالیس غزلوں پر مشتمل تھا) سے کشمیریوں کو حب رسول اور حمد گوئی کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ بعد میں تین نامور کشمیری ادیبوں نے آپ کے اس فارسی مجوعہ کا کشمیری زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے بعد شیخ نور الدین رشی کے کشمیری کلام ”شروکھ“ سے حمدو نعت گوئی کا سلسلہ کشمیر میں شروع ہوا۔ کشمیری حمد ونعت خواہوں نے اسے حمدیہ و نعتیہ کلام کے ذریعے اللہ تعالی اور رسول اکرم سے کشمیر سے خود ظلم ختم کر نےالتجا کی ہے۔ شیخ نورا لدین رشی کے بعد کشمیری حمد و نعت کہنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں خواجہ حبیب اللہ نوشہروی، فاخر کشمیری، محمود گامی، قطب الدین واعظ، میر ثنا اللہ کریدی ، مقبول شاہ کرالہ واری، رشید نازکی، عاشق تدالی ، عبد الاحد نادم، عبد الوھاب پرے، میر غلام رسول ناز کی قابل ذکر ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ گوجری زبان کا تحریری سرمایہ تلاش کرنے کی ضرورت  ہے۔ 1920کے بعد ریاست جموں و کشمیر میں گوجری زبان کے تحریر ی ادب کی دستاویز دستیاب ہیں ۔ جب تحریک حریت کشمیر نے زور پکڑا تو ریاست جموں و کشمیر کے گوجر اہل قلم نے گوجری زبان کو ذریعہ اظہار بنا کر اپنا کردار ادا کیا ۔ گوجری زبان میں حمدو نعت گوئی کی ابتداء1925سے  ملنا شروع ہوتی ہے جب کہ اس سے پہلے کے سرمایے کی تلاش کے لیے  تحقیق کی ضرورت ہے ۔ گوجری حمدو نعت کے میدان میں قابل ذکر شعرا میں مولوی میر الدین قمر، مولونا محمد اسماعیل راجوری ، محمد اسرائیل مہجور، نسیم پونچھی، فتح علی سروری، ڈاکٹر غلام حسین اظہر، اقبال عظیم اور رانا فضل حسین شامل ہیں۔ 

چیئرمین اکادمی نے مشاعرے میں شامل تیسری زبان کے متعلق  کہاکہ پہاڑوں، وادیوں اور ندیوں کے دیس میں بولی جانے والی زبان پہاڑی کہلاتی ہے ۔ اس زبان کی ابتدا و آغاز سے متعلق کسی دو ٹوک دور کا تعین نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ قدیم زبان ہے جو ہزاروں سالوں سے بولی جاری  ہے۔ اشوک اعظم کے عہد میں بدھ مت کی ترویج و تبلیغ کے لیے پہاڑی زبان کو علمی زبان کے طور پر ترقی دی گئی۔ ریاست جموں و کشمیر میں پہاڑی کی پہلی بڑی کتاب میاں محمد بخش کی ”سیف الملوک“ ہے جو شامکھی رسم الخط میں لکھی گئی۔ پہاڑی زبان میں لوک گیتوں ، لوک کہانیوں کے ساتھ حمدو نعت کے حوالے سے بھی بے پناہ کام موجود ہے۔ 

 انہوں نے مشاعرے کے تمام شعراءکا شکریہ ادا کیا کہ انہو ںنے اکادمی کی درخواست پر اس مشاعرے میں شرکت کی۔ مشاعرے میں غلام حسین بٹ(مظفر آباد)، محمد رفیق پروانہ(نیلم)، جاوید سحر(عباس پور)، عبد الرشید چوہدری (مظفر آباد)، منیر زاہد(عباس پور)، صفی ربانی(گڑھی حبیب اللہ)، شاہد شوق(مظفر آباد)، رفیق شاہد(عباس پور)، حنیف محمد(عباس پور)، حق نواز چودھری(عبا س پور)، توقیر گیلانی(کوٹلی)، حبیب الرحمن حبیب(مظفر آباد)، حمید کامران(راولاکوٹ)، ضیاءالرحمن(نیلم)، لیاقت لائق(راولاکوٹ) اور دیگر نے کشمیری زبانو ں(کشمیری، گوجری ، پہاڑی) میں حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کیا۔ 

پریس فار پیس فانڈیشن جو فلاحی کاموں کے ساتھ آزاد کشمیر میں مقامی ادب کے فروغ کے لئے کوشاں ہے کے مشیر براۓ ادب پروفیسر  فرہاد احمد فِگار نے ایک کامیاب مشاعرے  کے انعقاد پر اکادمی ادبیات پاکستان کو مبارک باد دیتے ہوۓ اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کے ادارے کشمیر اکیڈمی کو  اکادمی ادبیات پاکستان سے  سیکھنے کی ضرورت ہے



۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان


پروفیسر اعجاز نعمانی

)، منیر زاہد(عباس پور)


صفی ربانی(گڑھی حبیب اللہ)


۔ ڈاکٹر مقصود جعفری

)، توقیر گیلانی(کوٹلی)