July 5, 2022

عابد محمود عابد کی کتاب اداس ہنس لیں

مبصر: پروفیسرسید وجاہت گردیزی

عبداللہ حسین نے جب اداس نسلیں ناول لکھا تھا تب ان کے گمان میں بھی نہ ہوا ہوگا کہ یہی اداس نسلیں”اداس ہنس لیں” کا زمانہ دیکھیں گی۔اداس نسلیں فی زمانہ کورونا وبا،معاشی بدحالی، مہنگائی ،بے یقینی اورغلامی جیسی نہ ختم ہونے والی اداسیوں کا سامنے کرتے کرتے جذباتی پسماندگی کی حدیں پار کرتی جارہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک پرفیس بک پر ہر جگہ اداس نسلیں اپنے جذبات واحساسات کی تسکین کے لیے الٹی سیدھی چھلانگیں لگا کر یا کوئی مصنوعی چال چل کر ہنسنے کا اہتمام چاہتی ہیں۔ایسے عالم میں عابدمحمودعابد اگر منگلا جھیل کے شفاف نیلے پانیوں ،دریائے جہلم کی لہراتی موجوں اور سرزمین میرپور سے طنزیہ مزاحیہ شاعری کا شگفتہ گلدستہ”اداس ہنس لیں” نکال لایا ہے تو واقعی مسکرانے کی بات ہے کہ کوئی تو ہے جو اس نفسا نفسی کے عالم میں مخلوق کے لبوں پرمسکراہٹیں بکھیر رہا ہے ۔عابد محمود عابد کا تعلق میرپور آزادکشمیر سے ہے۔ وہ میرپور جس کا پتا  کھڑی شریف کے حضرت میاں محمد بخش یوں بیان کرتے ہیں

            جہلم گھاٹے  پربت  پاسے  میرپورے تھیں دکھن

         کھڑی ملک وچ لوڑن جہڑے طلب بندے دی رکھن

عابد محمود عابد”اداس ہنس لیں” میں اپنا پتا بتاتے کہتا ہے :

              جدائی کا موسم نہ ہے کوئی دوری

               میں بھی میرپوری وہ بھی میرپوری

عابدمحمود عابد اپنی جائیداد اور پرکھوں کی قبور منگلا ڈیم کے پانیوں کی نذر کرکے خود نئی جگہ جا بسا ہے لیکن اس نے اپنے غم سے خوشی کے موتی بکھیر کر غمزدہ چہروں پر مسکراہٹ لانے کا ساماں کیا ہے ۔بنجر دلوں کو شاداب کرنے کے لیے میاں محمد بخش نے فرمایا تھا

               رحمت دا مینہ پا   خدایا   باغ  سکا کر ہریا

               بوٹا آس امید میری دا کر دے میوے بھریا

عابد محمود عابد نے وبا کے دنوں  کا اوکھا سوکھا ویلہ تنہائی میں اداس چہروں پر شگفتگی بکھیرنے کی نذر کرکے میاں محمد بخش کے اس پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی ہے:

   دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا

   ڈیگر   تے  دن گیا  محمد  اوڑک  نوں  ڈب جانا

عابد محمود عابد کی طنزیہ مزاحیہ شاعری کی تصنیف”اداس ہنس لیں” دیدہ زیب اور جاذب سرورق لیے ،نظر کو کھینچ لیتی ہے ۔کشش کی وجہ سرورق پر منگلا ڈیم کے کنارے ریت پر بچھی کرسی پر بیٹھی ،پھلجڑیاں چھوڑتی رنگین مچھلی ہے جو شوخ رنگوں میں خود بھی رنگی ہے اور رنگین چھتری اوڑھے اداسوں کو ہنسانے پہ مامور ہے۔

سامنے تاحد نگاہ منگلا جھیل کا نیلا شفاف  جاذب پانی ،کنارے سے ٹکراتی دودھیا جھاگ ، چٹانوں کا سلسلہ سرسبز وشاداب درختوں کے جھنڈ  اور اوپر نیلگوں آسمان پر تیرتے بادلوں کے ٹکڑے حسین نظارہ پیش کررہے ہیں۔رنگوں کا حسین امتزاج دلکشی لیے ہے۔جھیل کے شفاف نیلے پانی اور آسمان کی نیلاہٹ کے اوپری حصہ پر سفید رنگ میں کتاب کا نام ” اداس ہنس لیں” رقم ہے ۔نیچے بائیں جانب جھیل اور کنارے کے سنگم پر سیاہ روشنائی سے عابد محمود عابد کا نام دمک رہا ہے۔

کتاب مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کی ہے اور ادبی تنظیم ” فصل گل” کی پیش کش ہے۔سرورق کی تزئین وآرائش قاضی عبدالوہاب نے محنت ،لگن اور دلجمعی سے کی ہے۔کتاب کا انتساب عابد محمود عابد نے تایا چچا اور والد گرامی کی شفقتوں کے نام کیا ہے۔152 صفحات کی کتاب کے پہلے ایڈیشن کے ابتدائی صفحات چار معروف اور معتبر مزاحیہ شعراء اور اساتذہ کی آراء پر مشتمل ہیں جبکہ عابد نے کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔

پہلا حصہ” چار جائز” 84 قطعات پر مشتمل ہے دوسرے حصے ” قبول ہے قبول ہے قبول ہے” میں 34 غزلیات شامل ہیں۔ تیسرے حصے ” نظم عالی شان” میں سات منظومات اور آخری حصے ” جرم فرد” میں 60 فردیات شامل ہیں۔ کتاب کا کاغذ اعلا معیارکا ہے اور تزئین وآرائش میں جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ابتدائی صفحات پر خطاطی کے دلکش نمونے ذوق جمال کی تسکین کا ساماں لیے ہوئے ہیں۔کتاب کا سرورق،عنوانات، موضوعات سبھی مزاح کے رنگ میں رنگے ہیں۔

طنزیہ مزاحیہ شاعری کی کتاب ” اداس ہنس لیں ” کے معیار کا تعین اردو کے مشہور مزاحیہ شاعر پروفیسر انور مسعود کی تنقیدی رائے سے کیا جاسکتا ہے۔لکھتے ہیں” دو عابدوں میں گھرے ہوئے محمود کے مجموعہ کلام کا نام ” اداس ہنس لیں” اداس نسلیں کی دلچسپ صوتی تحریف ہے۔اس کی شاعری قطعات ، غزلیات،منظومات اور فردیات پرمشتمل ہے۔اس کے ہاں مزاح زیادہ تر تضمین و تحریف کے حربے سے پھوٹتا ہے۔

” ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے بقول “عابد ایک سنجیدہ مزاح گو ہے اور اس نے پوری سنجیدگی سے مزاح کو اپنایا ہے۔عابد محمود عابد کی کتاب ” اداس ہنس لیں” زیرلب تبسم سے لے کر قہقہے تک تمام مدارج طے کرتی نظر آتی ہے۔اس نے واقعاتی مزاح اور صورتحال کے مزاح سے بخوبی کام لیا ہے۔اس کے ہاں ‘ پڑھاؤ کلام ‘ بھی پایا جاتا ہے اور ‘ کماؤ’ کلام بھی۔

“سرفراز شاہد عابد محمود عابد کی مزاحیہ شاعری پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” عابد محمود عابد کا شمار ان شعراء میں کیا جا سکتا ہے جو زندگی کی یکسانیت میں مسکراہٹ کے پھول کھلانے اور ذہن و دل کے دریچوں سے تازہ ہوا کے جھونکوں کو دکھی انسانیت تک پہنچانے اور انھیں مسرت سے سرشار کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ان کے بعض اشعار یوں نظر آتے ہیں گویا انھوں نے ظرافت اور متانت کے پہلو میں بیٹھ کرزعفرانی سیلفیاں کھینچی ہیں اور انھیں قرطاس ادب پر چسپاں کر دیا ہے ۔”

ڈاکٹر طاہر شہیر کی رائے میں “عابد کا شعری مجموعہ ‘ اداس ہنس لیں’ اداس نسلوں کے لیے تریاق کی حیثیت رکھتا ہے جن کی سوچ اور جذبات میں زمانے کی تلخیوں نے زہر گھول دیا ۔عہد حاضر کے مسائل،نوجوانوں کی جذباتی زندگی،مصنوعی معاشرتی نظام،ٹیکنالوجی کا احساسات پر کنٹرول اور عائلی زندگی عابد محمود عابد کے محبوب موضوعات ہیں۔

سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی حالت زارسے لے کر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اناڑیوں کی اجارہ داری کو جس لطیف پیرائے میں عابد بیان کرتے ہیں،وہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مسکراہٹوں کے در بھی وا کرتا جاتا ہے .”

“اداس ہنس لیں” ایک پھلجڑی ہے  جس میں شوخی،قہقہے،طنز اور مزاح مختلف رنگوں سے رات کو روشن کیے ہے۔اپنی زمین،جائیداد ،آباواجداد کی قبریں منگلا ڈیم کے پانی میں ڈبو کر ، مسکن کو نذر آب کرکے ،بچپن کی حسین انمول یادوں کو دفنا کر، لوگوں کی حس مزاح کو مدنظر رکھ کر ان کے چہروں پر مسکان بکھیرنا بڑے ظرف کی علامت ہے ۔

عابد کے مزاح میں زبان وبیان کی لطافت ،ادب آداب کا خیال اور شگفتگی ہے۔ غزلیات اور قطعات کا طنز دلکشی لیے ہے۔وہ سیدھے سادے الفاظ میں مشاہدات اور تجربات عام آدمی کے سامنے لاتا ہے۔عابد کے قطعات میں گورکن، ہم قد ،کنڈا،فیکٹری،غم کرسی، ناقابلیت،تہذیب شاپنگ،کاش، لاک ڈاون،ٹانکے، لاقانونیت، چرسی،کھاؤیار، مفت مشورہ، دعوت حجامت، ہائے میرا بل، پیٹ Two، سوشل میڈیائی نسل، تاریخ تنسیخ،شرم پروف، لمبی بحر جیسے مزاحیہ عنوانات قائم ہیں ۔عابد نبض شناس ہیں ۔ایک قطعہ بعنون اداس نسلیں ملاحظہ کیجیے

         کھلونا سمجھ کے جو دل توڑتی تھی

          بتاؤں کہاں وہ  تباہی گئی    ہے

           جوانوں میں پھیلی ہے کتنی اداسی

            سنا  ہے شگفتہ بیاہی  گئی   ہے

قطعہ “نسل NO ” دیکھیے

         کھول کر کان سن لو میری بات

        وقت   پر   بل   دیا   کرو   ابا

         سانس اگر بند ہوتی ہے ہو مگر

        وائی  فائی    نہ   بند   ہو   ربا

قطعات میں یوٹیوب نسل،یوٹرنی، پمپ اور عابد حواسی ،اہلیہ ماجدہ،سٹپنی، رن مرید،کنگلاہٹ،گریبی،سیلفی سپیشلسٹ، او- لاد، نمبر ون عاشق، ایزی لوڈ جیسے موضوعات پر طنزومزاح کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ایزی لوڈ کے عنوان سے لکھتے ہیں:

      منتے  ،  ترلے  ،  التجا،   فریاد

       واسطے بھی خدا کے آتے ہیں

        فون میں لوڈ کے لیے اکثر

        مجھے مسیج صبا کے آتے ہیں

عابد کے قطعات میں پیروڈی اور تضمین کا خوبصورت استعمال ملتا ہے۔

       میری چک کی دوا کرے کوئی

       “ابن مریم ہوا کرے کوئی”

        ٹھوک دو ،گر غلط چلے  کوئی

         کاٹ دو،گر خطا کرے کوئی

         ہر زباں پر ہے نام سیلفی کا

          نوجوان ہے  غلام سیلفی کا

عابد محمود عابد جتنا طویل القامت ہے شاعر بھی اتنا ہی بڑا ہے خود کو تختہ مشق بنا کر کہتا ہے :

          اف کتنا لمبا ہے عابد

              بجلی کا کھمبا ہے عابد

عابد سماج سے بھی غافل نہیں .عوامی چلن،معاشرتی اور سماجی مسائل اور عائلی موضوعات پر گہری نظر رکھتا ہے۔

     کیا بتائیں کس طرح قانون چوری ہوگیا

     رات چوکیدار کا بھی فون چوری ہوگیا

          ایک  افسر  بنا  دیا   مجھ  کو

          میرے ابا نے مار کے جوتے

       یہ بے چارے منڈے فیشن کرکر کے

        اپنی شکلیں   نسوانی  کر   بیٹھے   ہیں

          غم زدوں کی فلاح   ہوجائے

           یعنی  طنزومزاح     ہو جائے

          رات ان باکس میں گزاری ہے

           فیس بک پر صباح  ہو جائے

عابد محمود عابد نے طنزومزاح سے بدلتے انسانی رویوں کو حرف تنقید بنایا ہے معاشرے کی ناہمواریوں کو اجاگر کرنے کے لیے طنز کا تڑکہ لگایا ہے۔ عابد کی خوبی یہی ہے کہ وہ اشارے کنائے میں خامی کی نشاندہی کرتا ہے اوریہ فرض ایسے سرانجام دیتا ہے کہ عزت نفس بھی برقرار رہے ۔عابد کو ادراک ہے کہ برصغیر میں طنزیہ مزاحیہ شاعری کےمعروف شاعر جعفر زٹلی  نے1713ء میں عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا: 

       سکہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر

      پادشا ہے تسمہ کش  فرخ سیر

( یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم ،موٹھ اور مٹر پر ٹیکس لگایا ہے.)

جس کی پاداش میں شاہی فرمان سے اس بے باک شاعر کو موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا تھا۔

عابد سیانا ہے وہ جانتا ہے کہ طنزیہ مزاحیہ شاعری کا سفر ہزل،تمسخر،استہزا، تضحیک، نوک جھونک،ہجو، پھبتی، لعن طعن، سب وشتم،ملیح مذمت، مضحکات، تعریض، تنقیص ،جگت،فقرہ بازی سے ہوتا ہوا اس مقام تک آ پہنچا ہے جہاں ادبی طنزومزاح پھکڑپن، چٹکلے بازی ، ابتذال اور رکاکت سے بلند اور ارفع ہو جاتا ہے۔طنزیہ مزاحیہ شاعری نے اودھ پنچ اور پھر اکبر الہ آبادی کا زمانہ دیکھا ہے جنھوں نے کہا تھا:

بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا

پلاؤ  کھائیں  گے احباب   فاتحہ  ہوگا

یہ سفر سید ضمیر جعفری ،ابن انشا،اطہر خاں جیدی ،انور مسعود، انعام الحق جاوید جیسے معتبر مزاحیہ شعراء کی وجہ سے ثروت مند ہوا ہے ۔آزادکشمیر میں آذرعسکری اور چراغ حسن حسرت جیسے معتبر شعراء نے اس کی روایت کو آگے بڑھایا۔یوں عابد محمود عابد اسی روایت کو آگے بڑھا رہا ہے ۔اس کی پہچان مزاح گو شاعر کی ہے ۔

“اداس ہنس لیں” کی اشاعت سے قبل عابد محمود عابد ادبی حلقوں،ٹیلی ویژن چینلز اور سوشل میڈیا پر اپنا تشخص بحیثیث مزاحیہ شاعر منوا چکا تھا۔عابد  نے مزاح میں لفظی کاری گری سے کام لیا ہے ،الفاظ کے الٹ پھیر سے مزاح پیدا کرتا ہے۔اس کی شاعری کا خام مواد ہمارے رویے ،سماج، اور معمولات ہیں۔زبان و بیان میں انگلش الفاظ کا برمحل استعمال دلکش انداز میں ملتا ہے۔

انگلش جو ہماری علاقائی زبانوں کی بساط لپیٹ کر ہر فرد کو نشانہ بنائے گلوبلائزیشن کا سفر کررہی ہے، عابد کے ہاں انگلش الفاظ کی کاریگری طنزومزاح کا خوبصورت حوالہ بن جاتی ہے۔عابد سپاٹ اور روکھے پھیکے موضوعات کو بھی شگفتگی اور زندہ دلی دے جاتا ہے۔اس کی خلاقانہ طبیعت ہر مضحک صورتحال میں مزاح کا پہلو تلاش کرلیتی ہے۔سماجی ،ثقافتی،شہری زندگی کے مشاہدات ہوں یا عائلی زندگی اور ملازمت کے معمولات، عابد کی لفظی پہلوداری ہر موقع محل سے مزاح تلاش کرلتی ہے۔ پہاڑی،عربی،انگلش اور پنجابی الفاظ کے ساتھ  اردو الفاظ ملا کر برتنا ،فنکارانہ صلاحیت کا آئینہ دار ہے۔

عابد عوام کے ساتھ کھڑا ہے ان کے درد کو سمجھتے ہوئے اصلاح کی کوشش میں مگن ہے۔وہ دلفریب انداز سے کھری کھری باتیں سادہ اور عام فہم مزاحیہ اسلوب میں بیان کرتا ہے ۔قاری عابد محمود عابد کے بکھرتے جلووں سے طنزومزاح کا حظ اٹھاتا ہے اس کا طنز فرد اور سماج کی کمزوریوں ، تضاد، توہم، جبر،فرسودہ خیالی اور بدصورتی کو گرفت میں لاتا ہے۔

وہ تحریف سے فرد اور سماج کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے ۔عابد کے مزاح میں فرد کی ناہمواریوں کو بے نقاب کرنا شامل ہے لیکن اس کا طریق واردات قاری کو مسکرانے اور کھلکھلانے پر مجبور کرتا اور ساتھ وہ اصلاح کی طرف بھی مائل ہوتا ہے ۔

            مجھے میاں قبول  ہی نہیں مہینہ  بھر مگر

             ہر اک یکم قبول ہے قبول ہے قبول ہے

عابد کی نظمیں ‘مجھے انگلینڈ جانا ہے’،فیس بک گرل، پاگل کا بچہ، پروفیسر،خطاب بہ جوانان کالج، مسیحائی برادری، اور ‘طالبات’ کے موضوعات ظاہر کرتے ہیں کہ اس نے روزمرہ زندگی کے معمولات کے سارے زاویوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہے اور انھی سے مزاح کا مواد مہیا کیا ہے۔اس کی شاعری میں تکنیکی مہارت ،فنی دسترس اور چابکدستی ملتی ہے۔ صوتی مماثلت اور معنوی پہلوداری کے رنگ بھی نمایاں ہیں۔

          وائرس جبر طلب اور لور ہے   بے تاب

        “دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک”

           مانا   رکشہ  تو سپیشل  ہی کرو گے  لیکن

     ” لاک ہوجائیں گے ہم ،تم کو خبر ہونے تک”

علامات ،تلمیحات اور استعارات میں مقامیت کے عناصر موجود ہیں تاہم موضوعاتی تنوع ہے ۔غزلیات اور قطعات صوتی آہنگ سے بھرپور ہیں۔عابد زندہ دلی اور مزاح سے مزاحمت کا کام لیتاہے ۔مجموعی طور پر عابد کی طنزیہ مزاحیہ شاعری باطنی مسرت اور سرخوشی کے جذبات سے لبریز ہے۔ سرفراز شاہد نے درست کہا ہے کہ ” عابد ایک مسکراتا ہوا فلسفی اور خوش بیان شاعر ہے جس کی شاعری میں ظرافت اوربشاطت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔اس کی غزلوں میں نمکین، نظموں میں رنگین اور قطعات میں تضمین کے رنگ نمایاں ہیں۔”

 کیوں کتابیں خرید لائے ہو

 اور  کچھ اچھا سا لیا  ہوتا

 ایک  پیزا خریدتے  عابد

دوسرا مفت مل گیا  ہوتا

Leave your comment !

Close