تحریر : ربیعہ فاطمہ بخاری

آٹھ مارچ کی آمد آمد ہے۔ مارچ اور اپریل کبھی بہار کا استعارہ ہوا کرتے تھے، پھولی ہوئی سرسوں کے سنہرے کھیتوں سے مُزیّن، رنگارنگ پھولوں پہ اُمڈتی بہار اور اُن کی خوشبو کا جادو فضا میں ہر سو پھیلا ہوا، بادِ صبا اور نسیمِ مُشکبار سے آراستہ، فضا بسنتی چولا اوڑھے ہوئے لہکتی اور مہکتی محسوس ہوتی، شعراء کے تخیّل کو ان رنگین نظّاروں سے مہمیز پہنچتی اور خوبصورت کلام تخلیق کئے جاتے، نثر نگاروں کے مزاج بہار کی خوشبو سے بوجھل ہو کے لطیف ترین تحاریر صفحہء قرطاس پہ بکھیرنے کا سبب بنتے، ہر سو بادِ بہاری سُبک خرامی سے بہتی محسوس ہوتی۔ لیکن۔۔۔۔!!

پھر یوں ہوا کہ وطنِ عزیز میں ایک نئی لیکن مسموم ہوا چل پڑی، جس نے بہار کی خوشبو، اُس کا اُجلا پن، اُسکی شگُفتگی، اُس کی نرمی، اُس کی ملائمت، اُس کی رنگینی سب کُچھ نگل لیا، باقی بچا تو ازل سے ایک دوسرے کے دُکھ درد کی ساتھی، ایک دوسرے کا لباس قرار دئیے جانے والی، ایک دوسرے کے لئے نصف بہتر بنائی گئی، ایک دوسرے کی تکمیل کیلئے پیدا کی گئی دو انسانی اصناف کے درمیان ایک لامتناہی کھینچا تانی، بغض اور نفرت کا زہریلا اظہار، ایک دوسرے پہ لعن، طعن، ایک دوسرے پہ دُشنام اور ایک دوسرے پہ گھٹیا بازاری الفاظ کی بوچھاڑ۔ اور بدقسمتی سے یہی موسمِ بہار کا عُنوان ٹھہرا۔ اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دو اصناف جو ایک دوسرے کے بغیر اُدھوری ہیں، جن کے ایمان ایک دوسرے کے بغیر نامُکمّل ہیں، جن کے مکان ایک دوسرے کے بغیر “گھر” نہیں بن سکتے، جن کے دم سے ایک دوسرے کی زندگیوں میں موسمِ بہار ہے، وہی دونوں اصناف باہم دست و گریباں ہیں۔ اور کسی کو بُرا لگتا ہے تو سو بار لگے لیکن اس سارے فساد کی ابتداء ہماری نام نہاد “خواتین کے حقوق کی علمبردار” تنظیموں کی پیدا کی گئی خُرافات سے ہوئی۔ عورت کے حقوق کے مطالبے کی آڑ میں مرد سے نفرت کا الاوء اسی قبیل کی عورتوں نے بھڑکایا اور آج بھی اُس الاوء میں مزید شعلے بھڑکانے میں مصروف ہیں۔ 

میں اس امر سے مکمّل طور پہ واقف ہوں اور تسلیم بھی کرتی ہوں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ حقوق کبھی بھی نہیں ملے جو اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل تفویض فرما دئیے تھے۔ لیکن کیا عورتوں کو حقوق مرد سے نفرت کر کے ملیں گے؟، شرم و حیاء جیسے الفاظ کو گالی بنا کے ملیں گے؟ دوپٹّے کو گلے کا “پٹّہ” ثابت کر کے ملیں گے؟، مردوں کو گھٹیا الفاظ اور انداز میں لعن طعن کرکے ملیں گے؟، اپنی غلاظت کو تعلیمی اداروں میں اپنے لباس کی زینت بنا کے ملیں گے؟ کیا یہ حقوق مشرقی لباس ترک کے، مغربی لباس زیبِ تن کے، بیہودہ پلےکارڈز اُٹھا کے سڑکوں پہ مٹر گشت کرنے سے ملیں گے؟ کیا یہ حقوق ” Divorced but happy” کا نعرہ لگا کے ملیں گے؟ نہیں جنابِ من۔۔۔!! ہر گز نہیں۔۔!!! 

یہ حقوق عورت کو اگر مل سکتے ہیں تو خود عورت کی تعلیم و تربیّت سے اور اُس سے بھی بڑھ کے عورت کے بطورِ ماں فرض کو مکمل دیانتداری سے ادا کرنے سے اور بیٹوں کی بہترین خطوط پہ، انسانی اور اسلامی اخلاقیات، اقدار اور حقوق و فرائض کا مکمّل علم دے کے ملیں گے۔ کوئی اگر یہ کہے کہ مرد و زن کے بیچ نفرت کا بیج بو کے وہ عورت کو Empower کر لے گا تو اُسے جلدازجلد دماغی امراض کے کسی ماہر سے ملنے کی اشّد ضرورت ہے۔ 

آپ اپنے بچّے بچیوں کی تربیّت کر کے اور حقوق و فرائض کا احساس پیدا کر کے اپنے گھروں میں ہونے والی عورت کی حق تلفی ختم کر دیں۔ مرد کو ہر رشتے میں اُس کے فرائض اور اُس کے ساتھ منسلکہ عورت کے حقوق کا ادراک اور احساس پیدا کرکے بہت حد تک ان مسائل پہ قابو پایا جا سکتا ہے، کم ازکم تعلیم یافتہ طبقے کی اگر بات کی جائے۔ تعلیم یافتہ طبقے کو اس لئے مخاطب کر رہی ہوں کہ فیس بُک کاقاری عموماً کسی نہ کسی حد تک تعلیم یافتہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن جس انداز میں فیس بُک پہ اس سارے معاملے کو ہینڈل کیا جارہا ہے، اس سے تعلیم یافتہ طبقے کے مرد و زن کے مسائل تو کیا حل ہوں گے، اُلٹا یہ دونوں اصناف ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریباں ہو کے ایک دوسرے سے متنفّر ہوتی جائیں گی۔ جس سے معاشرتی بگاڑ بھی آہستہ آہستہ انتہاء کو پہچنے کا امکان ہے بلکہ عورت کے مسائل حل ہونے کی بجائے اُن میں مزید اضافہ ہی ہو گا۔ 

ورک پلیس پہ خواتین کے مسائل ضرور اُجاگر ہونے چاہیئں اور اُن کا حل بھی ضرور نکلنا چاہیئے کہ جو عورت بھی گھر سے ملازمت کیلئے نکلتی ہے، پورے معاشرے کے ہر طبقے کا فرض ہے کہ اُس کیلئے ماحول کو ہر ممکن طریقے سے سازگار بنائے۔ لیکن یہ مسائل بھی کسی مثبت کیمپین کی شکل میں اُجاگر کئے جا سکتے ہیں، بجائے مرد کو لعن طعن کرنے کے۔ 

اور رہ گئیں نچلے طبقے کی عورتیں اُن کے مسائل نہ تو یہ “مارچ گزیدہ” طبقہ کبھی سمجھ سکتا ہے، نہ ہی اس نوع کے مارچ اُن کی زندگیوں میں ایک رتّی بھر بہتری لانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ سو عورتوں کے حقوق کی آواز اُٹھائیں، بالکل اُٹھائیں، لیکن آٹھ مارچ کو جو ایک بے مقصد اور بے مہار “تفریحی سرگرمی”منعقد کی جاتی ہے، اُسے خواتین کے حقوق کا پلیٹ فارم کہنا چھوڑ دیں۔ اپنے اپنے گھروں سے عورت کو حقوق دینا شروع کر دیں۔ پھر چاہے وہ آپ کی بیٹی کا آپ کی جائیداد میں حصّہ ہو یا آپ کی بہن کیلئے اعلٰی تعلیم۔کے مواقع، آپ کی بیوی کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک ہو یا آپ کی بیٹی کے ساتھ آپ کی ہر طرح کی support اور ہر طرح کا تحفّظ ہو یا پھر آپ کی ورک پلیس پہ آپ کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کی عزّت کرنا ہو یا راہ چلتے کسی اجنبی عورت کے قریب سے نظر جُھکا کے، خاموشی سے گزر جانا ہو، یا فیس بُک پہ آپ کے ساتھ موجود خواتین کا عزّت و احترام برقرار رکھنا، ہم میں سے ہر ایک اپنی ذات میں اپنے اپنے فرائض نبھانے والا بن جائے تو دوسری صنف کے افراد کو حقوق خودبخود مل جائیں گے۔ ہم فیس بُک پہ موجود تعلیم یافتہ افراد تو کم ازکم ان سب چیزوں کا عزم کر ہی سکتے ہیں۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو فکرِ آخرت عطا فرمائے اور ہم میں سے ہر ایک کو خود احتسابی کی دولت عطا فرمائے تاکہ ہم فریقِ مخالف کو کوسنے دینے کی بجائے خود اپنی اصلاحِ احوال پہ توجّہ دیں۔