فقیر

سید شبیر احمد

ستر کی دیہائی کے آخری سالوں میں آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے قصبے کی برانچ میں بطور مینیجر میری پوسٹنگ ہوئی تھی۔ مجھے چارج لئے ابھی ایک ہفتہ ہوا تھا کہ میں برانچ کے دو تین بڑے کھاتہ دار دکانداروں سے ملنے اپنے سپروائزر کے ساتھ بازار میں آیا۔ ایک دکان سے جیسے ہی ہم باہر نکلے تو وہ اچانک میرے سامنے آ گیا اور ہاتھ پھیلا دیا۔ آٹھ آنے ہوں گے۔ میں اسے دیکھ کر ایک دم گھبرا گیا۔ دھول سے اٹے جھاڑجھنکار سر کے لمبے لمبے بال اور اسی سے ملتی کھچڑی داڑھی۔
گندے لمبے ناخن، میل سے سیاہ ہاتھ و چہرا۔ مٹی سے اٹے ہوئے سیاہی مائل کپڑے۔ میں اچانک اسے سامنے پا کر ششدرہو کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ میری طرف سے کوئی جواب نہ پا کر دوسری طرف مڑ گیا۔ سپر وائزر نے بتایا، سر جی یہ پاگل سا آدمی ہے، ایسے ہی پیسے مانگتا رہتا ہے۔ لیکن کسی کو کہتا کچھ نہیں ہے۔ ہم پھر دوسری دکان کی طرف چل دیے۔ اس کے بعد اکثر وہ آتے جاتے مجھے بازار یا پھر بسوں کے اڈے پر کہیں نا کہیں نظر آنے لگا۔
وہ ہر ایک سے صرف آٹھ آنے کا ہی تقاضا کرتا، نہ ملنے پر دوبارہ کبھی اس سے نہیں مانگتا۔ وہ سارے بازار میں گھومتا تھا۔ دکاندار بھی اسے کچھ نہ کچھ دے دیتے۔ جلال اس کا نام تھا لیکن لوگ اسے جالو، جالو کہتے تھے۔ اکثر وہ ایک چودھری کے ہوٹل کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا، چودھری اسے اندر بلاتا، کچھ دیر اس سے ہیر اور سیف الملوک سنتا۔

پھر اسے کچھ کھانے کو دے دیتا جس سے وہ اپنا پیٹ بھر لیتا تھا۔ وہ کافی اچھے انداز میں ہیر وارث شاہ اور سیف الملوک پڑھتا تھا۔ لیکن چوہدری کے ہوٹل کے علاوہ وہ اور کسی کو یہ نہیں سناتا تھا۔ یہ اس کا روز کا لگا بندھا معمول تھا۔
ایک دن بازار جاتے ہوئے وہ پھر میرے سامنے آ گیا، مجھ سے آٹھ آنے کا سوال کیا۔ ان دنوں چونیوں اوراٹھنیوں کی ضرورت پڑتی تھی اور ہم جیب میں ریزگاری رکھتے بھی تھے۔ لیکن میں نے جیب سے ایک روپیہ نکال کر اس کی طرف بڑھایا جو اس نے لے لیا۔

وہ جانے لگا تو میں نے اسے کہا کہ بنک سے آ کر تم پیسے لے جایا کرو۔ تین چار دن بعد میں نے دیکھا، گارڈ باہر کسی سے اونچی آواز میں باتیں کر رہا ہے اور ساتھ کسی کو ڈانٹ بھی رہا ہے۔
میں نے باہر نکل کے دیکھا تو وہی آٹھ آنے والا جالو تھا۔ میں نے گارڈ کو اسے کچھ کہنے کو منع کیا اور اسے ایک روپیہ دیا تو وہ چلا گیا۔ میں نے گارڈ سے کہا، اگر یہ دوبارہ آئے تو مجھ سے ایک روپیہ لے کر اسے دے دیا کرو۔ گارڈ نے کہا، سر جی! یہ پاگل ہے اسے کیوں یہاں بلا رہے ہیں، کوئی گڑبڑ کردے گا۔ تو پھر آپ کس لئے ہیں؟ میں نے گارڈ سے کہا۔ سرجی، حوالدار بوٹا کتنا ڈیوٹی کا پابند ہے یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے۔ گارڈ نے جواب دیا۔
یوں وہ گاہے بگاہے تیسرے چوتھے دن بینک آنے لگا۔ وہ آتا اور بینک کے باہر خاموشی سے کھڑا ہو جاتا۔ گارڈ مجھ سے پیسے لے کر اسے دے دیتا تو وہ چلا جاتا۔ یوں ہی ایک دن میں نے گارڈ سے پوچھا کہ یہ رہتا کہاں ہے۔ تو اس نے بتایا کہ سر جی یہ دو تین گلیاں چھوڑ کر ایک ویران سی کوٹھڑی میں رہتا ہے۔ چھوٹا قصبہ ہونے کی وجہ سے شام ہونے سے پہلے ہی بازار بند ہو جاتا۔ زیادہ تر دکاندار قریبی دیہات سے تھے جو سرشام ہی دکانیں بند کر کے اپنے اپنے گاؤں واپس چلے جاتے تھے۔
ہماری بینک کی ششماہی کلوزنگ تھی اس دن ہم شام کو دیر سے فارغ ہوئے۔ میں اپنے ٹھکانے پر جانے کے لئے نکلا تو وہ مجھے اپنی کوٹھڑی کی طرف جاتا نظر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھیلا تھا۔ میں ایسے ہی تجسس میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس نے کوٹھڑی کے دروازہ کی کنڈی کھولی اور اندر چلا گیا۔ میں کچھ دور کھڑا ہو گیا۔ کوٹھری کے باہر چھوٹی سی خالی جگہ تھی، جہاں پانچ چھ کتے آ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ دو تین منٹ کے بعد وہ کمرے سے باہر آیا، تھیلے میں سے روٹیاں نکالیں اور کتوں کو ڈال دیں۔
وہ روٹی کھانے لگے تو وہ اندر چلا گیا۔ میں واپس آ گیا۔ ایک دن قریبی گاؤں کے رہنے والے برانچ کے ایک بڑے کھاتہ دار ملک خداداد صاحب نے اپنے گھر پر میری دعوت کا اہتمام کیا۔ ان دنوں بینک منیجر کی معاشرے میں بڑی اچھی شہرت اور بہت قدرہوتی تھی۔ لوگ اکثر اپنے خاندانی معاملات میں ان سے مشورے لیتے تھے۔

منیجر بھی اپنے کھاتہ داران سے حقیقی ادب و احترام سے ملتے تھے اور ان کے مفادات کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ شام کو کھانے کے بعد ایسے ہی باتوں باتوں میں جالو کا ذکر آ گیا۔ تو ملک صاحب بولے، شاہ جی! اس بیچارے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے اور کی بھی اس کے حقیقی اور بہت قریبی ر شتہ داروں نے ہے۔ ہمیں اور اس کے گاؤں والوں کو اس وقت پتہ چلا جب وہ بیچارہ ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ میرے اصرار پر انہوں نے اس کی کہانی سنائی۔ جسے سن کر مجھے بھی بہت دکھ ہوا۔
شاہ جی! یہ ہمارے ساتھ والے گاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس کے ماں باپ دونوں ہی بچپن میں ایک حادثہ میں وفات پا گئے تھے۔ اس کا حقیقی چچا اس کو اپنے گھر لے گیا۔ اس کی چچی ایک بہت ہی ظالم اور بدماغ قسم کی عورت تھی، جس سے اس کا چچا بھی ڈرتا تھا۔ وہ سارے گھر کا کام اس سے کراتی، ذرا سی غلطی پر اسے بہت مارتی۔ چچا کے اپنے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ وہ بڑا پھرتیلا تھا، گھر کا بہت ہر کام وہ دوڑ دوڑ کر کرتا تھا۔ کھیتوں سے جانوروں کا چارہ کاٹ کر لانا۔ ہاتھوں والی مشین سے اس کو کتر کر ان کو ڈالنا، ان کو چرانے کے لئے باہر کھیتوں میں لے جانا سب اس کے ذمے تھا۔

پانچویں تک گاؤں کے سکول میں پڑھا تھا۔ اس سے آگے سکول شہر میں تھا۔ چچا اور چچی نے ذہین ہونے کے باوجود شہر کے سکول میں داخل نہیں کروایا۔ رشتہ داروں اور گاؤں میں مشہور کر رکھا تھا کہ اسے پڑھنے کا شوق بالکل نہیں ہے۔ دو تین دفعہ سکول میں داخل کرایاتھا، لیکن سکول سے بھاگ جاتا تھا۔ اس لئے یہ نہیں پڑھ سکا۔ حالانکہ چچا کے دونوں بیٹے اور بیٹی شہر کے سکول میں پڑھنے جاتے تھےوہ اکثر چوپال میں گاؤں کے بزرگوں کے ساتھ بیٹھتا۔ اس کی آواز بڑی سریلی تھی۔

اس نے ہیر وارث شاہ کے علاوہ سیف الملوک بھی کافی زبانی یاد کر رکھا تھا۔ جوان دنوں دیہاتوں میں اکثر پڑھا اور سنا جاتا تھا۔ جب وہ اونچی لے سے اپنی سریلی آواز میں ہیر اور سیف ملوک کے شعر پڑھتا تو لوگ سر دھنتے تھے۔ بچپن میں اکثر چچی سے مار پڑنے پر چچا کی بیٹی اس سے ہمدردی کرتی تھی، جس کی وجہ سے اس کو اپنے چچا زاد بہن سے کافی انسیت تھی، جو بڑھتے بڑھتے یک طرفہ محبت میں بدل گئی۔
وہ اس کے سارے کام بہت بھاگ دوڑ کر کرتا۔ لیکن یہ سب کچھ یک طرفہ ہی تھا۔ بچپن کی ان باتوں کو لے کر چچا زاد بہن کی محبت اس کے دل میں ایک تناور درخت بن گئی۔ وہ جب بھی اس سے کوئی بات کرتا آگے سے اس کی بے اعتنائی کو وہ اس کی شرم سمجھ لیتا۔ بغیرکسی کو بتائے وہ چچا زاد کی محبت کا اسیر ہو گیا تھا جس کو اس کا رتی بھر بھی ادراک نہیں تھا اور اگر ہوتا بھی تو ایک جاہل گنوار سے وہ پڑھی لکھی کیسے شادی کر سکتی تھی۔
ایک دن وہ گھر آیا تو چچا زاد بہن کی شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ چچی اپنی بیٹی کی شادی اپنے خاندان میں ایک انگلینڈ پلٹ بھانجے سے طے کرنا چا رہی تھیں۔ اس نے چچا سے بات کی تو انھوں نے چچی کے سامنے بات کرنے سے بے بسی کا اظہار کیا۔ پھر اس نے چچی سے بات کی، تو انہوں نے اس کی بڑی بے عزتی کی اور کہا کہ تم جیسے اجڈ سے میں اپنی پڑھی لکھی بیٹی کی شادی کیسے کردوں۔

اس نے چچی سے کہا کہ میری اپنی زمینیں ہیں، میرا گھر ہے۔ توچچی نے جواب دیا، تمہارا باپ مکان اور زمینیں اپنی زندگی میں خود بیچ گیا تھا۔ اب جو کچھ ہے سب کچھ تمہارے چچا کا ہے۔ ہم نے تو خدا ترسی میں تمہاری پرورش کی ہے، جس کا تم یہ صلہ دے رہے ہو۔ چچا نے اس کے بچپن میں ہی پٹواری سے مل کر سب کچھ اپنے نام کروا لیا ہوا تھا۔ اب اسے امید تھی وہ تو میرے ساتھ ہے۔ شام کو جب اس نے چچا زاد بہن سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھی کہ تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تم سے پیار کروں گی اور شادی وہ بھی تم سے۔
اس کی بہت بے عزتی کی۔ میرے ماں باپ نے تمہیں پالا پوسا ہے اور تم مجھ پر نظریں جمائے بیٹھے ہو۔ اپنے آپ کو دیکھو۔ وہ جو اپنے طور پر اس یقین سے اسے اپنے دل کے سنگھاسن میں بٹھا کرپوجا کرتا رہا تھا اور اپنے طور پریہی سوچتا رہا تھا کہ وہ بھی اسے اتنا ہی چاہتی ہے۔ اس کی باتیں سن کر اس کا دماغ گھوم گیا۔ بالکل چپ لگ گئی تین چار دن وہ کسی سے نہیں بولا۔ گھر میں شادی کی تیاریاں ہوتی رہیں۔ وہ بار بار چچا اور کبھی چچی کے سامنے اپنا دل کھول کرر کھتا رہا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
آخری بار اس نے چچا زاد بہن سے بات کرنی چاہی تو اس کے بھائیوں نے اسے چار چوٹ کی مار لگائی اور گھر سے باہر پھینک دیا۔ پھر سب نے دیکھا، جس دن بارات آئی، اس کے دل میں مایوسی کی انتہا ہو گئی اور وہ اپنے حواس کھو بیٹھا۔ اس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ زمین کی خاک سر میں ڈالی اور دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر گاؤں چھوڑ دیا۔ تب سے وہ اس قصبے میں اس حالت میں آٹھ آنے مانگ رہا ہے۔
میں اس کی کہانی سن کر کافی افسردہ ہو گیا۔ لیکن جوانی تھی، جذبہ بھی تھا اس لئے سوچا کہ اس کے لئے کچھ کیا جائے۔ ایک دن میں نے بازار سے ایک سیانے سے حجام کو بلوایا۔ وہ لنچ کے وقفے کے درمیان آ گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ یار ایک کام کرنا ہے۔ حضور حکم کریں، اس نے جواب دیا۔ کام یہ ہے کہ بازار میں یہ جو آٹھ آنے والا جالو ہے نا اس کی حجامت بنانی ہے۔ شاہ جی! آپ کن کاموں میں پڑ گئے ہیں، پہلے بھی کچھ لوگوں نے کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں مانتا۔
میں نے اسے کہا کہ یار ایک دفعہ کوشش کر کے دیکھنے میں کیا حرج ہے۔ میرے اصرار پر وہ تیار ہو گیا۔ بازار کے ہی ایک ٹیلر سے کہہ کر اندازا ً اس کے ناپ کے کپڑے سلوائے۔ چند دن بعد جب وہ بنک کے باہر پیسے لینے آیا تو میں باہر نکلا اور اسے کہا کہ تمہارے لئے یہ کپڑے میں نے لئے ہیں۔ کل تم اسی وقت آنا، رمضان حجام تمہاری حجامت کرے گا اور پھر تم نہر میں نہا کر یہ کپڑے پہننا۔ وہ خاموشی سے میری باتیں سنتا رہا اورچپ چاپ چلا گیا۔
گارڈ نے کہا، شاہ جی آپ نے ایسے ہی پیسے برباد کیے، وہ کل نہیں آئے گا اور نہ ہی یہ کپڑے پہنے گا۔ پہلے بھی بازار کے کچھ لوگوں نے کوشش کی تھی لیکن یہ نہیں مانا تھا۔ کچھ لوگوں نے ایک دفعہ زبردستی کی تھی لیکن دوسرے دن ہی اس نے کپڑے پھاڑ دیے تھے۔ میں نے کہا، کوئی بات نہیں چلو ہم بھی ایک بار کر کے دیکھتے ہیں۔ تم کل کھانے کے وقفے میں رمضان حجام کو ضرور بلا لینا۔

اور ہماری توقعات کے برعکس دوسرے دن وہ آ گیا۔ گارڈ نے بتایا کہ سر جالو آ گیا ہے۔ اتنے میں رمضان حجام بھی آ گیا۔ اس نے اس کا سارا جھاڑ جھنکار صاف کر دیا۔ اندر سے اس کی ایک اچھی شکل نکل آئی۔ میں نے اسے کپڑوں والا لفافہ دیا اور ساتھ بیس روپے دیے اور کہا کو اچھی طرح نہا کر یہ کپڑے پہننا اور کل آنا۔
وہ لفافہ اٹھا کرچلا گیا۔ دوسرے دن وہ بینک بند ہونے سے کچھ پہلے آیا تو ایک بالکل مختلف آدمی نظر آ رہا تھا۔ میں اور میرے ساتھ سارا سٹاف بھی اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ بھی ہم سب سے نظریں چرا رہا تھا۔ وہ بہت ہی کم بولتا تھا۔ میں نے اسے بیٹھنے کہ کہا اور گارڈ سے چائے لانے کو کہا۔ میں اس سے باتیں کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن وہ میری بات سن کر چہرہ جھکا دیتا اور کوئی جواب نہ دیتا۔ میں نے اسے پوچھا کہ بنک میں کام کرو گے تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
میں نے اپنے سپروائزر سے کہا کہ اسے بنک کی صفائی کے لئے رکھ لیتے ہیں۔ اس نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا۔ میں نے گارڈ سے پوچھا کہ تم اپنی نگرانی میں اس سے صفائی کروا لو گے۔ حوالدار بوٹا تیار ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے بازار کے دو تین بڑے کھاتہ دار دکانداروں سے ان کی دکانوں کی صفائی کروانے کی بابت بات کی۔ تو انہوں نے جواب دیا، شاہ جی یہ تو پاگل ہے۔ صفائی کی جگہ ہمارا کوئی نقصان کر دے گا۔ ہم اس سے صفائی تو نہیں کراتے۔
لیکن اگر آپ کہتے ہیں تو اس کے لئے ہم ماہانہ کچھ آپ کو دے دیا کریں گے آگے آپ جانیں اور آپ کا کام۔ یوں اس نے صبح بنک کی صفائی کا کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ بنک کھلنے سے ایک گھنٹہ پہلے آتا۔ گارڈ اپنی نگرانی میں اس سے صفائی کرواتا۔ وہ صفائی کر کے چپ چاپ چلا جاتا، وہ کوئی فالتو بات کسی سے نہیں کرتا تھا۔ گارڈ نے ہی ایک دن بتایا کہ اس نے کوٹھڑی بھی صاف کر لی ہے اور اس میں ایک چارپائی بھی رکھ لی ہے۔

اب اس نے آوارہ گھومنا پھرنا اور لوگوں سے مانگنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ وہ بنک سے پرانے اخبارلے جاتا اوراپنی کوٹھڑی میں انہیں پڑھتا رہتا تھا۔ یہ دیکھ کر بازار کے اور لوگوں نے بھی اس کی امداد کی تو وہ اپنی پرانی جون سے نکل آیا۔ کبھی کبھی اس سے ملاقات ہوتی تو مجھے دیکھ کرہاتھ کے اشارے سے سلام کرتا اور چلا جاتا۔
اسے اس ڈگر پر آئے ابھی تین چار ماہ ہی ہوئے تھے کہ میری پروموشن کے ساتھ ہی میرا تبادلہ اس قصبے سے بہت ددر ایک دوسرے شہر میں ہو گیا۔ دس سال میں ترقی کر کے میں بینک میں میں کافی سینئر پوزیشن پر فائز ہوا، اب سال میں ساری برانچیں دیکھنا میرے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ جون کی ایک دوپہر کو میں اس قصبے کی برانچ دیکھنے پہنچا۔

دس سال میں کافی کچھ بدل گیا تھا۔ برانچ کا ساراعملہ نیا تھا۔ بینک کی سیکورٹی کا سارا نظام ہی بدل گیا تھا۔
میں بینک کے کچھ پرانے کھاتہ داروں سے ملا جنہوں نے اب بہت ترقی کر لی تھی، وہ بھی مجھے اس پوزیشن پر دیکھ کر کافی خوش ہوئے۔ برانچ میں چائے پیتے ہوئے اچانک مجھے جلال یاد آ گیا۔ میں نے منیجر سے اس کے بارے میں پوچھا، اس کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ گارڈ حوالدار بوٹا خان بھی بینک سے فارغ ہو چکا تھا۔ وہ اسی قصبے کا رہائشی تھا۔ اس کا پتہ کرایا تو وہ گھر سے میرا پیغام سن کر دوڑا آیا۔ بڑی عزت سے ملا، بہت سی پرانی باتیں کیں۔
بیس پچیس سال پہلے سارے ہی بینکوں کی برانچوں میں فیملی کا سا ماحول ہوتا تھا۔ دوسرے بینکوں سے مسابقت میں ہمارے گارڈ بھی بزنس میں بہت مدد گار ثابت ہوتے تھے۔ میں نے اسے جلال کا پوچھا تو اس نے بتایا، سر وہ تو آپ کے جانے کے چھ سات ماہ بعد ہی فوت ہو گیا تھا۔ پھر وہ بتانے لگا سرجی، ایک دن وہ صفائی کر کے گیا تو پھر بینک میں واپس آیا۔ بینک میں بیٹھی ایک خاتون کو دیکھ کر اس نے شور مچا دیا اور اس سے لڑنا شروع کر دیا۔
ہم نے پہلی دفعہ اسے اتنے غصے میں دیکھا۔ خاتون تو جس کے ساتھ آئی تھی فوراً ہی اس کے ساتھ بینک سے چلی گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ خاتون پندرہ سولہ برس بعد رات ہی انگلینڈ سے واپس آئی تھی اور بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے آئی تھی۔

دوسرے دن وہ بینک میں صفائی کرنے نہیں آیا۔ دوپہر کو سب نے اسے دیکھا، اس نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے تھے۔ چہرے اور بدن پر راکھ اور مٹی ڈال لی تھی۔ وہ کسی سے کچھ مانگ نہیں رہا تھا بس اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں کچھ بول رہا تھا۔
اس سے چنددن بعد مین سڑک پر اس کی کچلی ہوئی لاش پڑی تھی۔ رات کو وہ کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا یا اس نے خود کو گاڑی کے نیچے دے دیا تھا یہ پتہ نہیں چل سکا۔ مجھے اس کے بارے میں یہ سن کر بہت ہی افسوس ہوا۔ رب کائینات نے دنیا کے کیا کیا سلسلے بنا رکھے ہیں کہیں اتنی سرکشی اور تکبر کے باوجود اتنی ڈھیل اور کہیں اتنے معصوم اور نازک جذبے رکھنے والوں کی ایسی زندگی۔