آزاد کشمیر میں جنگلی حیات کے شکار پر پابند ی عائد

مظفرآباد( پی ایف پی نیوز ) حکومت آزادکشمیر نے جنگلی حیات کے شکار پر پابند ی عائد کردی ہے۔محکمہ وائلڈ لائف و فشریز کے آفیسران کو سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔قیمتی جنگلات کو آگ لگنے جیسے واقعات سے بچانے کیلئے شعور اور آگاہی کا عمل موثر بنانے کا بھی فیصلہ کیاگیا ہے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں جنگلات کو آگ لگانے اور نایاب جانور وں اور پرندوں کے شکار کے متعدد واقعات رپورٹ ہوۓ ہیں اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے کوشاں مقامی اداروں نے حکومت سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

آزاد کشمیر کے وزیروائلڈ لائف و فشریزراجہ جاوید اقبال نے محکمہ وائلڈ لائف و فشریز کے آفیسران کیساتھ ایک میٹنگ میں اس ضمن میں ہدایات جاری کیں۔آزادکشمیر میں اہم جنگلی حیات کے علاقوں میں دو سال کیلئے شکار پر پابند ی لگادی گئی ہے۔ وزیر وائلڈ لائف و فشریز کے احکامات کی روشنی میں پیر چناسی‘ ضلع نیلم ویلی‘جہلم ویلی‘حویلی‘فاروڈ کہوٹہ‘منگلا ڈیم میرپور‘ نکیال‘چڑہوئی‘سماہنی اور دیواوٹالہ نیشنل پارک میں عرصہ دوسال کیلئے شکار پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔علاوہ ازیں ان علاقوں میں دفعہ 144کانفاذ بھی کیا جائے گاتاکہ آزادکشمیر کے قدرتی حسن کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔اور ماحو ل دوست سیاحت کو فروغ مل سکے۔

وائلڈ لایئف کے افسران نے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام کیلئے عوام میں شعور آگاہی کے اقدامات کو موثر بنانے کا فیصلہ بھی کیاہے۔جنگلات میں آگ لگنے سے ایک توقیمتی جنگل کا نقصان ہوتا ہے وہیں جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ ان کا مسکن تباہ ہونے کی وجہ سے وہ یا غیر موزوں علاقوں میں ہجرت کر جاتی ہیں یا پھر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ اس ضمن میں عوام میں آگاہی اور محکمہ جنگلات کے سٹاف کیساتھ ہر ممکن تعاون کیاجائے گا۔ عوام بھی احتیاط کریں۔ ایسے عوامل جن سے جنگل کو آگ لگنے کا خطرہ ہو ان سے اجتناب کریں۔ خصوصاً سیگریٹ نوشی کے بعد احتیاط کیساتھ سیگریٹ کو بجھایا جائے۔ دیا سلائی کو بجھا کر تلف کیا جائے۔ جنگل میں کھانے پکانے کیلئے خشک لکڑی نہ جلائی جائے اگر ایساناگزیر ہوتو باقاعدہ پانی ڈال کر آگ کو ختم کیا جائے۔قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات کا مل کر تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔