روبینہ ناز

تحریر: روبینہ ناز

آٹھ مارچ یوم خواتین ان محنت کش خواتین کے نام ہے جو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ برسوں سے یہ دن پوری دنیا بشمول پاکستان اور آزادکشمیر میں بھی بہت جوش و خروش سےمنایا جاتا ہے اور خواتین کے حقوق کا اعادہ کیا جاتا ہے تااہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواتین کے حقوق آج سے چودہ سو سال پہلے دیے جاچکے ہیں جن میں واراثت میں بیٹی کا حصہ ، تعلیم کا حق  ، نکاح میں رضامندی وغیرہ شامل  ہیں مگربدقسمتی سے مغرب نے اہل اسلام پر ایسا جال ڈالا ہے کہ مسلمان خواتین بھی اپنی آزادی اور حقوق کے لیے آج بےباکی سے سڑکوں پہ نکلتی ہیں یعنی اس دن کی اہمیت کو نظر انداز کرکے کہیں اور طرف اس کا رخ لے جانااس دن کی روح کے خلاف ہے۔

آٹھ مارچ  خواتین کا عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے مگر در حقیقت یہ دن محنت کش خواتین کے نام پر منایاجاتا ہے – آج سے ایک صدی سے زیادہ عرصے پہلے یعنی 8 مارچ 1857میں امریکہ کے شہر نیویارک میں ٹیکسٹال مل میں اس وقت کی خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک  کے ساتھ احتجاج کیا تھا -یہ سلسلہ چلتا رہا اور 8مارچ   1908 کواس کمپنی میں حقوق نہ ملنے،   زیادہ کام اور خواتین کے ساتھ دیگر امتیازی سلوک کے خلاف خواتین نے ایک ریلی نکالی -ٹیکسٹائل مل کے مالکان نے خواتین یونین اور راۓعامہ سے بچنے کے لیے احتجاج کرنے والی خواتین کو فیکٹری کے اندر بند کرکے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو  خواتین نے اپنے حقوق کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔یہ بہادر خواتین سلام کی مستحق ہیں جنھوں نے اپنی جانیں قربان کر کے خواتین کو عزم ، حوصلے اور جہد و جہد کا پیغام دیا ہے –

اس تاریخی پس منظر کے ساتھ یوم خواتین درحقیقت  دنیا بھر کی پر عزم اور جفاکش خواتین کے نام ہے -یہ دن محنت کش خواتین کے نام ہے ۔آزادی کے لیے کوشاں میری ماوں بہنوں اور بیٹوں کے نام

ہے ۔فلسطین ،  شام   اور برما کی مہاجر  خواتین کے نام ہے –

مظلوم  ،بے گناہ بے سہارا اوردنیا بھر میں  حقوق کی جنگ لڑنےوالی خواتین کے نام ہے -یہ دن ڈاکٹرز   انجینرز  ،پاہلٹ  ،اساتذہ ،وکیل ، ائیر وسٹس  ،نرسسز۔دینی مدارس کی معلمات کے کے نام ہے -یہ دن فکٹریوں  کھیتوں ,دفاتراور گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے نام ہے -مسلح افواج اور پولیس کی خواتین افسران اور ملازمین کے نام ہے ۔سیاست میں اپنی خدمات دینےوالی خواتین اور ان طالبات کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ خواتین کے نام ہے جن کے ارادے بلند اور عزائم جوان ہیں اور جنھوں نے سماجی ، معاشی اور ثقافتی پابندیوں کا مردانہ وار مقابلہ کر کے ملک پاکستان  اور آزدکشمیر کا نام  پوری دنیا میں روشن کیا ہے –

یوم خواتین پر بعض خواتین آزادی کا مطالبہ بھی کرتی ہیں -ان  خواتین کو اگر آزادی کی قدر و منزلت  جاننی ہو تو کشمیر کی خواتین سے پوچھیں۔۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی عورتوں نے آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیے ۔اپنے لخت جگر کو قربان کیا- اپنے سہاگوں کی قربانیاں دی— آسیہ انداربی صاحبہ، فہمیدہ صوفی صاحبہ ،ناہیدہ نسرین صاحبہ جیسی جری خواتین اور حریت پسند رہنما آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔۔یہ وہ عورتیں ہیں جو 73سالوں سے اپنی سب خواہشتات سب حسرتیں مار کے آزادی کی تلاش میں مصروف جہد وجہد ہیں -ان کی قربانیاں قابل مثال اور جہد و جہد قابل تقلید ہے –

یوم خواتین پر آزاد خطے کی خو اتین حکمرانوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلا نا فرض سمجھتی ہیں -ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ آبادی کا 52فیصد خواتین کے بنیادی حقوق دیے جائیں  ۔۔عورتوں کو باعزت  روزگاردیاجاے  -دفتروں ،سکولوں ،کالجوں،  ہسپتالوں ،فیکٹریوں،  کھتیوں اور گھریلو ملازماؤں اور  دوران سفرخواتین  کو جنسی حراساں کرنے پر سخت سے سخت سزا دی جاے۔عورتوں کو تحفظ دینا ریاست کا فرض ہے ۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور قانونی حق حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جاہیں۔۔تاکہ عورتیں بھی ملک و قوم کی ترقی میں اپنا متحرک کردار ادا کرسکیں۔۔۔۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ 

اس کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشکٍ خاک اس کی 

    کہ ہر شرف ہے اُسی دُرج کا دُرٍمکنوں۔۔

  مکالماٍت فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن 

  اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرٍار افلاطوں۔۔۔

علامہ اقبال ؒ 

لکھاری کا تعارف : روبینہ ناز

کالم نگار ، سماجی  کارکن ، بانی  رکن پریس فار پیس 

روبینہ ناز

روبینہ ناز ایک  سماجی کارکن  ،کالم نگار اور صحافی ہیں۔ وہ یونین آف جر نلسٹس ضلع باغ کی ڈپٹی سیکر ٹری اطلاعات اور ڈیجیٹل میڈیا ایسوسی ایشن کی عہدے دار بھی ہیں۔ انھوں نے بانی رضاکار کی حیثیت سے پریس فار پیس میں شمولیت اختیار کی . لیکن اپنی شبانہ روز محنت اور ان تھک لگن کے نتیجے میں عوامی خدمت کے منصوبوں میں  اہم ذمہ داریوں پر فائز رہی ہیں۔ وہ پریس فار پیس باغ کی انچارج ویمن ونگ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ آج کل  پریس فار پیس پراجیکٹ منیجر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے دور دراز علاقوں میں سینکڑوں خواتین کی  پیشہ تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے –