پروفیسر عبدالصبور خان

کسے بتاؤں کہ کس منزل بہاراں سے
خزاں کے موڑپہ آیا ہے کارواں میرا
آپ بیتی اور سوانح عمری پڑھنے کااپناایک خاص مزا ہوتا ہے انسان زندگی کے نشیب و فراز کامیا بیوں اور ناکامیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہم عصر دوست احباب کو بھی اپنی تحریر میں سمو کر دلچسپی کا ساماں پیدا کردیتا ہے ممتاز غزنی نے بچپن لوٹادو میں اپنے خوبصورت ماضی کی خوبصورت یادوں کو خوبصورت انداز میں بیان کرکے نہ صرف دلچسپی کا ساماں پیدا کیا ۔

بلکہ اس سے بہت سے لوگوں کولکھنے کی تحریک ملی لاک ڈاون میں فرصت کی لمحات میسر آئے تو کشمیر کےنامور ادیب سکالر اور محقق ڈاکٹر محمد صغیرخان نے ست برگے کا پھل اور ماہر تعلیم پروفیسرنسیم سلیمان صاحبہ نے اپنی زندگی کی یادداشتوں پرمشتمل “یادوں کی الماری” قارئین کی نظر کردیں ہر باشعور انسان کی زندگی اس کے تجربے اس کی جدوجہد کشمکش عمل وردعمل کی لہریں روایت وانحراف کے دائرے عمل تغیر کی نئی نئی صورتیں اتنا اور ایسا مواد فراہم کرتی ہیں کہ ان سب کا بیان ناول کی طرع دلچسپ بن جاتا ھے۔

اس لے خود نوشت اور سوانح عمری ایسی دل کش تصنیف ہوتی ہےجس میں انسان کے باطن میں چھپی روح جلوہ فگن ہوتی ہے اور دل کی آواز رس گھو لتی ہے یادوں کی الماری  میں زندگی کے خوبصورت یادگار اور انمٹ تجربوں کے بیان میں ایسی ادبیت ہے کہ ہر شخص اسےروانی اور ذہنی انہماک کے ساتھ پڑھ سکتا ہے ان کے لکھنے کا اپنا انداز ہے  جس میں ادبی شائستگی مہذب انسان کی نرم مزاجی ہماری روایتی شعور پرستی اور بات کو میٹھے سلونے لہجے میں کہنے کے تخلیقی عمل نے ایسا رس گھول دیا ہے۔

کہ ان کی سادہ عبارت دل کو موہ لیتی ہے یادوں کی الماری کو پڑھ کر ایک حساس  اور باشعور انسان کی زندگی کے وہ پہلو سامنے آجاتے ہیں جو پڑھنے والوں کے لیےسرمہ بصیرت ہیں جہنوں نے انسانی رشتوں کو تقدس عطا کیا  جنہوں نے گرتوں کو سہارا دیا جنہوں نے علم فضل وعمل سے معاشرے کی انسانیت کو زندہ رکھا جنہوں نے بے لوثی و ایثار کا چراغ روشن کرکے تاریخ کا حصہ بن گئے۔مصنفہ نے اپنی حیات مستعار کے اجزاء کو یکجا کردیا ہےجب خزاں کے موسم میں بہاریں دور جانے لگیں ماضی کے نقوش دھندلے پڑ رہے ہوں تو پھر اپنی حیات کے ان ٹکڑوں کو مرتب کرلینا چاہیے۔

مصنفہ نے گرلز کالج کھڑک اور دوسرے اداروں کی اپنی اساتذہ اور ساتھیوں کو خوبصورت انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے راقم کی پہلی تقرری گرلز کالج کھڑک میں ھوئی تھی میڈم خالدہ قدرت شمسی پرنسپل تھیں پروفیسر خدیجہ حفیظ   میڈم شادمینہ میڈم برکت رعنا میڈم اکبر خاتون  اور میڈم نسرین صادق میڈم شاھینہ سرور اور پروفیسر صادق شاہ صاحب  ہوتے تھے کالج کو نقطہ عروج پہ لے جانے میں ان کی شبانہ روز محنتوں کا کمال تھا جو بقید حیات ہیں اللہ پاک ان کو مزید ترقی اور عروج نصیب فر ماےء اور میڈم شمسی کی تربیت کو اللہ پاک اپنے رحمتوں کے حصار میں رکھے
خود اپنے چراغوں میں روشنی ڈھونڈو
زمین والو ستاروں کا اعتبار نہیں
بہر حال میڈم نسیم سلیمان کی یہ کوشش قابل صد تحسین ہے  میڈم عزم ہمت اور  حوصلے کی جیتی جاگتی تصویر ہیں میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ہجیرہ ہوتی تھیں گلہ اور گلہ چوکیاں میں وہ ہمیشہ پابہ رکاب نظر آہیں میرے دل میں ان کی عزت ادب احترام اور عقیدت محض ایک حاضر باش محنتی وقت کی پابند استاد اور محترم سردار صغیر خان کی ہمشیرہ کی حیثیت سے تھی سوشل میڈیا کے دریچے ریڑھ بن کالج کی تعمیر وترقی کے لیے ان کی کاووشوں سے آگہی تھی ان کے اندر چھپے ادیب کا کتاب منظرعام پہ آنے کے بعد ادراک ہوا یہ سر گزشت دلچسپ ہے۔

مجھے یقین ہے آپ میری طرح  اسے شوق اور دلچسپی سے پڑھیں گے اب قارئین کی نظریں باغ والے محترم پروفیسر راجہ عتیق احمد خان کی طرف ہیں کہ وہ پہلے اپنا سفر نامہ پیش کرتے ہیں یا اپنی حسین زندگی کی حسین یادوں کو قلمبند کرتے ہیں پروفیسر خاور ندیم اور پروفیسر شہباز گردیزی اور دوسرے صاحب علم افراد کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ صاحب کتاب لوگوں کے دلوں میں اور لائبریریوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں

جانے کب طوفان بنےاور رفتہ رفتہ بچھ جا ئے
بند بنا کر سو مت رہنا دریا آخر دریا  ہے