تحریر: ڈاکٹر عتیق الرحمن ، ڈائریکٹر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس

گذشتہ کچھ عرصے میں جن غلط ترین تصورات نے جنم دیا ہے، ان میں سے ایک ہر سرکاری ادارے کو منافع بخش بنانے کا تصورہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اداروں کاجواز ہی وہیں ہوتا ہے  جہاں منافع بنیادی  ترجیحات میں نہ ہو۔سرکاری ادارے  کاروباری ادارے نہیں ہوتے، بلکہ جہاں کاروباری ادارے  کم منافع یا منافع کی عدم موجودگی کے سبب مداخلت نہ کرنا چاہیں، یا جہاں ادارے کے فنکشن کو کاروباری اداروں کے ہاتھ میں دینا ممکن نہ ہو، یا جہاں کاروباری اداروں کی ناجائز منافع خوری سے عوام کو بچانا مقصود ہو، سرکاری اداری ادارہ جات کو صرف وہیں موجود ہونا چاہئے۔

اگر نفع نقصان کے تناظر میں ہر چیز کا وزن کیا جائے تو کیا افواج کو منافع میں چلایا جا سکتا ہے؟ یا بالفرض فوج کو پرائیویٹ انٹرپرائز کے طور پر چلانا ممکن ہو، تو بھی کیا فوج کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دیا جانا چاہئے؟  اگرمنافع اداروں کی موجودگی کا جواز قرار دیا جائے، تو دفاع کا ادارہ سب سے پہلے بند ہونا چاہئے کیونکہ سب سے بڑا بجٹ عموما  دفاع ہی کا ہوا کرتا ہے۔ 

کچھ اداروں کا تعلق ضروری خدمات اور قومی سلامتی سے ہوتا ہے اور ان کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینا ممکن نہیں ہوتا۔ ان میں دفاع ، پولیس  اورانصاف کے ادارہ جات  شامل ہیں۔ چھوٹے شہروں میں ائیر پورٹ جیسا پروجیکٹ منافع پر چلانا ممکن نہیں ہوتا، لیکن ان سے ملکی مفاد وابستہ ہوتا ہے، اس لئے یہاں سرکار کی موجودگی نفع نقصان کے معیارات کے قطع نظر ضروری ہے۔ 

دوسرے نمبر پر کچھ ادارہ جات ایسے ہیں جو پرائیویٹ شعبہ میں کامیابی کے ساتھ چلائے جارہے ہیں، لیکن ایسے اداروں میں سرکار کی موجودگی معاشرتی ناہمواری کو کم کرنے اور کمزور طبقات کو بالاتر طبقات کے قریب لانے کیلئے از حد ضروری ہے۔ ان اداروں میں تعلیم اور صحت کے ادارے شامل ہیں۔ دنیا بھر میں بیشمار تعلیمی ادارہ جات اور ہسپتال پرائیویٹ سیکٹر میں کامیابی کے ساتھ چلائے جارہے ہیں، لیکن  خط غربت  کے قریب رہنے والوں کیلئے ان سہولیات سے استفادہ  آسان نہیں ہے۔ سرکاری سکول دراصل اس بات کا زریعہ ہیں کہ محروم ترین طبقات کو بھی اچھی مہارت کا حامل بناکر بالاتر طبقات کے قریب  لایا جائے۔ چنانچہ سرکاری سکول اور ہسپتال وغیرہ نفع نقصان کے معیارات پر  تولے  بغیر چلائے جانے چاہیئں۔ 

تیسرے نمبر پر ایسے ادارہ جات آتے ہیں جن کا کم منافع بخش ہونے کے سبب پرائیویٹ انٹرپرائز کے طور پر چلانا ممکن نہیں ہوتا، لیکن قومی مقاصد کیلئے از حد ضروری ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال میٹرو پروجیکٹ وغیرہ ہیں۔ اگر میٹرو پروجیکٹ کو صرف  منافع کے معیار سے تولا جائے تو نفع بخش میٹرو کا وجود شاید پاکستان میں ممکن نہ ہو۔ 2016 میں جب لاہور اورنج ٹرین  پروجیکٹ کی باتیں ہورہی تھیں، تو اس وقت ہم نے بھی ایک مضمون لکھا تھا جس میں یہ حساب کتاب درج کیا گیا تھا کہ جتنی لاگت میں اورنج لائن ٹرین بنے گی، اس لاگت میں تمام مسافروں کو کاریں لے کر دی جاسکتی ہیں۔ لیکن  بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ ایسے پروجیکٹ دراصل کسی اور مقصد کو بھی پورا کررہے ہوتے ہیں جو کہ قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے۔

بالفرض ہم یہ تصور کر لیں کہ اورنج لائن کی لاگت میں پچاس ہزار کاروں کی خریداری ممکن ہے، چنانچہ بجائے اورنج لائن کےپچاس ہزار کاریں لوگوں کو خرید کربلاسود  دے دی جائیں، تو کچھ عرصے میں ساری لاگت واپس کی جاسکتی ہے۔ بظاہر کار خریدنے کا آپشن زیادہ مناسب محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ لاہور شہر کی آلودگی کا تصور زہن میں لائیں، اور غور کیجئے کہ اچانک سے لاہور میں مزید پچاس ہزار کاریں دے دی جائیں تو آلودگی میں کتنا اضافہ ہوگا؟ اس کی بجائے اگر صرف ٹرین چلے تو آلودگی میں کس حد تک کنٹرول ممکن ہے؟  زرا یہ تصور کیجئے پچاس ہزار کاروں کیلئے سالانہ کتنا پٹرول خریدا جائے گا اور اس پر کتنا زرمبادلہ خرچ ہوگا اور اس کے مقابلے میں چند ٹرینیں کتنا ایندھن اور زرمبادلہ بچا سکیں گی؟ ان حسابات کو جب آپ شامل کرلیں تو آپ کو میٹرو پروجیکٹ اتنا بھدا محسوس نہیں ہوگا۔ جیساکہ پہلے عرض کیا جا چکا صرف پیسے کے نفع نقصان کے حساب سے کوئی بھی پرائیویٹ پارٹی میٹرو جیسے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتی۔  لیکن پیسے کے حساب سے قطع نظر حکومت کو ایسے پروجیکٹ میں مداخلت کرنی چاہئے، اور سبسڈی دے کر ایسے پروجیکٹ کو چلایا جانا چاہئے تاکہ آلودگی  اور رش وغیرہ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ 

چوتھے نمبر پر کچھ ایسے کاروبار ہیں جہاں حکومت کی مداخلت اس لئے ضروری ہے کہ عوام کو کاروباری اداروں کی بے جا منافع خوری سے بچایا جاسکے۔ چند ماہ قبل جب آئل کمپنیوں نے پٹرول غائب کر دیا، اس وقت صرف پی ایس او تھا جس نے زندگی کو رواں رکھا۔ پی ایس او جتنا طاقتور ہوگا، اتنا ہی وہ کاروباری اداروں کی ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہاں سرکار کی مداخلت وقتی نفع نقصان کے قطع نطر ضروری ہے۔ یوٹیلٹی سٹور کا شمار بھی اسی زمرے میں ہوتا ہے۔ ایسے ادارےپرائیویٹ اداروں کی ناجائز منافع خوری کا توڑہیں،  لیکن اگر  ان اداروں کی کارکردگی بھی نفع نقصان کے پیمانے سے ناپی جائے تو یہ اجارہ دار گروپ کا حصہ بننے کو ترجیح دیں گے۔ ایسے ادارہ جات کو بھی نفع نقصان کے قطع نظر سبسڈی دینا ہی عوامی مفاد میں ہے۔

پانچویں نمبر پر ایسے ادارہ جات ہیں جن کا مقصد بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے، لیکن ان سہولیات کی فراہمی اتنی زیادہ لاگت کی حامل کہ عام کاروباری اداروں کے بس کی بات نہیں۔ایسے پروجیکٹ یا تو حکومت شروع کر سکتی ہے، یا گنتی کے چند کاروباری ادارے۔  ان میں برقیات، قدرتی گیس وغیرہ کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔ ان اداروں کو اگر پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا جائے یا پرائیویٹ اداروں کی طرح چلایا جائے تو بھی یہ طبقاتی فرق کو بڑھانے اور متعدد دیگر قومی مقاصد سے دور کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔  مثلا اس وقت بجلی کے پہلے پچاس یونٹ پر سبسڈی  دی جاتی ہے، جس سے کروڑوں غریب گھرانےمستفید ہورہے ہیں۔ اگر اس کاروبار کو نجی اداروں کو دے دیا جائے، یا نجی ادارہ کی طرز پر چلایا جائے، تو معاملہ اس کے برعکس ہوجائے گا، اور پہلے پچاس یونٹ کی بجائے بڑے خریدار کو ڈسکاؤنٹ ملے گا۔ یہ درست ہے کہ ایسے اداروں میں منافع ممکن ہے، لیکن منافع ان کی کارکردگی کا معیار نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ حکومتیں ان ہی اداروں کو اپنے ریونیو کا زریعہ بنا کر بیٹھ جائیں۔ جب حکومتیں ان اداروں کو اپنی آمدنی کا بڑا زریعہ بنانے پر تل جائیں تو اس سے بھی عوامی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔  

باقی رہے چھوٹے موٹے کاروبار جن کا شمار متذکرہ بالا کسی زمرے میں نہیں  ہوتا، وہاں حکومت کی مداخلت ہونی ہی نہیں چاہئے، بلکہ حکومت کو چاہئے کہ عوام کو ایسے اداروں میں سرمایہ کاری کیلئے مناسب تربیت یا سرمایہ فراہم کرے۔ مثلا سیاحت کیلئے سہولیات وغیرہ۔ اگر حکومت اس کاروبار میں شامل ہوئی توزیادہ وسائل ہونے کے سبب وہ کسی بھی پرائیویٹ کاروباری کے مفادات کو زک پہنچا سکتی ہے۔  اگر ایسے کسی کاروبار میں حکومت کا وجود ہے، تو اسے اس حد تک رکھا جائےضروری سرکاری امور میں سہولت ہو۔ 

مختصر یہ کہ کسی بھی حکومتی ادارے کی کامیابی یا ناکامی کا معیار اگر منافع کو قرار دیا جئے تو اس میں بے شمار خرابیاں جنم  لیتی ہیں۔ مثلا آج کل سرکاری یونیورسٹیوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپنا بجٹ خود مہیا کریں۔ جب سرکار ی یونیورسٹیاں خود بجٹ مہیا کرنے کی فکر میں ہوں گی، تو ظاہر ہے کہ وہ فیس بڑھائیں گی، جس سے اعلی تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ  ’گاہک‘ کی تلاش میں وہ معیار گراتی جائیں گی، اور غیر معیاری گریجویٹ پیدا ہوں گے۔ جن لوگوں کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل ہونا ہے، اگر ان کے معیارات پر سمجھوتے شروع ہوجائیں تو پھر قوم کے مستقبل کا اللہ ہی حافظ ہے۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ پرائیویٹ کاروبار کی حوصلہ افزائی کریں، اور پھر ان پر محصولات لگا کر اپنا کام چلائیں۔ کاروباری اداروں میں سرکارکی مداخلت صرف وہاں مناسب ہے، جہاں ان کی غیر موجودگی سے عوامی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہو، وگرنہ حکومت کو کسی کاروبار میں جانا ہی نہیں چاہئے۔