منزہ خان کشمیری 

وہ رینگ رینگ کر چل رہا تھا۔۔۔۔اور ہم شہتوت کی باریک سی ٹہنی جسے عرف عام میں سوٹی کہتے ہیں کی مدد سے اسکی چمڑی کو ہلاتی اسے ڈراتے ہوئے محظوظ ہو رہی تھیں۔۔۔ وہ سہم کر فورا اپنے آپکو خول میں بند کرلیتا۔۔۔اور ہم دنیا مافیہا سے بے نیاز ہوکر گلی میں اسکی معصومیت پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شراتوں پر شرارتیں کرنے میں مگن تھیں۔۔۔۔اس وقت ہم، عمر کے اس حصے میں تھی جہاں دنیا کی غم و خوشی کا تدارک نہیں ہوتا۔۔۔لاشعوری گیان میں ڈیرے جمائے ہوتی ہے. زندگی ایک لطیف خوشبو کے جھونکے کی مانند خوشگوار سے خواشگوار تر دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔

محلے کے سبھی بچے بچیاں تقریبا ہم عمر تھے اور کچی پکی کی کلاسوں میں پڑھتے تھے۔ تب ہم نے سکول میں اردو کے قاعدے میں نئی نئی خرگوش اور کچھوے کی کہانی پڑھی تھی ۔۔۔اکثر گاؤں میں جاتی تو وہاں خرگوش روئی کے گالوں کی طرح نرم ملائم ادھر ادھر چھلانگیں مارتے نظر آتے رہتے۔۔۔لہذا خرگوش کا تعارف ہمیں اچھے سے تھا۔۔۔نہیں تھا تو کچھوے کا نہیں تھا۔۔۔۔کچھوا دیکھنے میں بچھو کی مانند ڈروانا سا جانور لگتا تھا۔۔۔۔جبکہ خرگوش ایک خوبصورت اپنی اتاولی و نازنینی حرکتوں  سے اور بھی زیادہ نظروں کو لھبانے والا ایک جہاں ذیبا دلفریبا جانور لگتا تھا۔۔۔سو خرگوش جتنا کیوٹ تھا ۔۔۔کچھوا اتنا ہی کینچواپا سا لگتا تھا۔۔۔۔سو اسے دیکھنے کی حسرت بہت تھی۔۔۔

اس دن بڑے زور کی بارش ہوئی گرمی ہو یا سردی بارش ہو تو ہمارے محلے والوں کی رات جاگ کر گزرتی پوری گلی،  تالاب کی صورت بدل جاتی عورتیں۔۔۔گھروں کی چھوٹی چھوٹی باہر جانے والی نالیوں میں پرانے پڑے ہوئے کپڑے ٹھونس دیتی دروازے کے نیچے بھی بوریاں رکھ کر پانی کا رستہ بندے کرنے کی موہوم سی کوشش کی جاتی۔۔۔۔خیر ہمارے سامنے والوں کا صحن ذرا کھلا ہوتا تھا۔۔۔۔اور صحن کے ہر طرف کچی اینٹیں لگا کر اسے دیدہ زیب بنانے کی ناکام سی کوشش کی گئی تھی۔۔۔انکے باہر والا دروازہ ذرا چھوٹا اور نالی کھلی ہوتی تھی رات بھر بارش کی وجہ سے انکا صحن گھٹنوں  گھٹنوں تک پانی سے بھر چکا ہوتا تھا۔۔۔۔

صبح ہوتے ہی مائیں صفائی کو جڑ جاتی اور ہم بچے سکول یا پھر چھٹی ہو تو گلی محلے میں مل کر خوب  کھیلنے لگتے۔۔۔۔

خیر اس سامنے والے گھر میں اس دن بھی پانی بھرا پڑا تھا گھرکے مالک آئے تو دروازہ کھولا پانی جٹ پٹ باہر نکلنا شروع ہوگیا۔۔۔۔ہم سبھی بچے یہ تماشا دیکھنے گلی میں موجود تھے۔۔۔۔پانی کے ساتھ انکے صحن میں دروازے کے قریب ہی ایک عجیب غریب خلقت دیکھنے کو ملی وہ آنٹی اسے وائپر کے ساتھ باہر نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔پوچھنے پر پتہ چلا یہ کچھوا ہے۔۔۔ہماری خوشی کی انتہاء نہ رہی کہ یہ کچھوا ہے اور ہم نے خرگوش کے بعد کچھوے کو بھی ان گنہگار آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔۔۔۔اب ہم کلاس میں یہ شوخی مار سکتی ہیں کہ ہم نے بھی کچھوا دیکھا ہوا ہے۔۔۔

آنٹی نے کچھوا وائپر کی مدد سے دروازے سے باہر پھینکا ۔

ہم سبھی بچوں نے مختلف چیزیں ہاتھوں میں پکڑ لی کسی نے موٹی سی لکڑی، کسی نے لوہے کا سریا ،کسی نے وائپر کا ڈانڈا، میں نے انہی کے صحن میں شتہوت کا درخت تھا اس سے ایک چھوٹی سی ٹہنی توڑ کر پکڑ لی ۔۔۔۔

۔بس اب گلی میں مداری تماشا شروع ہوگیا۔۔۔۔کچھوا تھوڑا سا چلتا اور ہم اسے انہی ہتھیاروں کی مدد سے مس کرتی تو  وہ ان چیزوں کا لمس محسوس کرتے ہی ڈر کے مارے فورا اپنی گردن ، اپنے بازو و ٹانگیں اپنے خول میں بند کر دیتا۔۔۔۔۔ہم ایسے لمحے بالکل خاموشی اختیار کر لیتی کہ اسے محسوس ہو کہ اب کوئی بھی یہاں موجود نہیں ، اس کا ڈر ختم ہو اور وہ بے خوف ہو کر  رینگے تو ہم پھر یہ مداری تماشا شروع کریں۔۔۔۔۔

ہماری خاموشی کا فائدہ اٹھا کر وہ پھر رینگنے لگتا ہم پھر ایسے ہی کرتی وہ بیچارا گلی میں محصور ہوکر رہ گیا۔۔۔اور ہمیں بھی وقت گزرنے کا احساس تک نہ رہا دوپہر ڈھلنے والی تھی امی نے باہر دروازے سے جھانک کر دیکھا اور ہم  بہنوں کو آواز لگائی اندر آ جاؤ سب ، نہ اس بے زبان کو تنگ کرو۔۔۔ہم نے سنی ان سنی کر دو امی نے تھوڑی دیر بعد دوبارہ غصے سے بلایا

ہم اس قدر مشغول تھیں قہقے لگا رہی تھی کہ امی کے غصے کا اندازہ ہی نہیں ہو پایا۔۔۔۔پتہ اس وقت چلا جب ہماری شامت آئی امی نے شہتوت کی ٹہنی اٹھائی اور گلی میں موجود سبھی بچوں کو ایک ایک سٹک لگا کر بھگانا شروع کر دیا۔۔۔۔میں نے جب دیکھا امی کا غصہ ہوا کو چھو رہا ہے میں نے بجائے مار کھانے کے وہاں سے بھاگنے میں عافیت جانی۔۔۔۔ ابھی چند قدم سڑک کی جانب دور بھاگی تھی۔۔۔

مجھے پتہ تھا امی بغیر برقعے کے سڑک پر نہیں آئیں گی تو میں یہ فائدہ اٹھا کر مار کھانے سے بچ جاؤں گی۔۔۔امی نے  زور سے پکارا واپس مڑ  میں چلائی نہیں آپ مجھے ماریں گی۔۔۔۔۔امی نے پھر آواز لگائی آرام سے واپس آو میرے غصے کو ہوا مت دو۔۔۔میں ہاتھ میں وہ شتہوت کی سوٹی دیکھ کر سخت گھبرا گئی۔۔۔ایسے لگا جیسے کچھوے کی بدعا لگ گئی ہو۔۔۔

۔سب بچوں نے اچھے بھلے ایک ایک سوٹی کھائی اور چلتے بنے مگر میں بھاگ گئی۔۔۔۔۔امی منہ پر ہاتھ پھیر کر دانت پیستے ہوئے  اندر چلی گئی کہ گھر آو تو تمہارا وہ حشر کرتی ہوں یاد رکھو گی۔۔۔۔میں سڑک کے پار پہنچ چکی تھی۔۔۔اب امی کے وارننگ سے بہت خوف آیا بجائے گھر جانے کے سڑک پار ہی سے دیوار پھلانگ کر سکول میں گھس گئی وہاں سامنے صحن میں  طرح طرح کے جھولے لگے ہوئے تھے۔اور آرام سے کبھی ایک جھولے پر کبھی دوسرے جھولے پر جھولا جھولتے محظوظ  ہونے لگی۔۔۔۔محاورا اسکے کہ امی کتنی پریشان ہو رہی ہوں گی۔۔۔

خیر ہر دو منٹ بعد میں سلائیڈر پر چڑھ کر اپنی گلی کی طرف دیکھنا نہ بھولتی کہ مبادہ کہیں امی نہ آ جائیں۔۔۔اور پھر عصر ڈھلنے والی  ہی تھی کہ میں نے سناٹے کے  خوف سے سکول کی دوسری طرف والی دیوار پھلانگی اور ساتھ ہی موجود پھوپھو کے گھر چلی گئی پھوپھو کے گھر کی اور سکول کی دیوار ایک ہی تھی  انکے گھر میں داخل ہوتے ہی سامنے سڑھیاں تھیں وہ چڑھ کر سیدھی چھت پر چلی گئی اور اپنے گلی کی جانب دیوار کے سوراخوں  پر پیر رکھ کر دیوار سے اس طرح چپک گئی اور ایک ٹک گلی کی جانب دیکھنی لگے جیسے امی کے آنے کا ڈر و انتظار ہو۔۔۔۔

خیر میں نے امی کو برقعہ پہنے اسی طرف آتے دیکھ لیا میں فورا نیچے دوڑی اور پھر وہی دیوار پھلانگ کر سکول کے اندر چلی گئی۔۔۔۔امی پھوپھو کے گھر آئیں، وہاں سے چھت پر گئی اور اسی دیوار کے ساتھ کھڑے ہوکر مجھے پھر آواز لگائی جہاں کچھ دیر پہلے میں کھڑی تھی۔۔۔ چپ چاپ گھر آ جاؤ میں پھر وہی خوف سے کہنے لگی کہ نہیں آپ مجھے ماریں گی میں نہیں آوں گی۔۔۔

امی نے کہا اچھا دیکھتی ہوں کیسے نہیں آتی۔۔۔یہ کہہ کر امی واپس چلی گئی چھوٹے ہونے کی وجہ سے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اب امی کیا کریں گی سکول کے دونوں دروازوں کو تالا لگا ہوا تھا۔۔یہ تو طے تھا امی سکول کے اندر نہیں آ سکتی تو۔۔۔۔تو یہاں بیٹھے بیٹھے میں کیا کروں گی۔۔۔؟

مجھے سکول میں موجود بڑے بڑے پرانے درختوں سے خوف آنے لگا جیسے یہاں سے کوئی خوفناک بلائیں نکل آئیں گی خوف و ڈر سے سہم کر ایک کونے میں لگے جھولے پر جا کر بیٹھ گئی۔۔۔ڈر کے مارے دبک کر بیٹھے ہوئے مجھے پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔کہ کب وہ آدمی دیوار پھلانگ کر بالکل میرے بالکل سامنے آکہ کھڑا ہوگیا ۔

ہماری گھر کی گلی کے احتتام پر سڑک کے کنارے  ہمارے ہمسایوں کی ایک دکان تھی۔۔۔۔انکی دکان پر یہ آدمی ملازم تھا۔۔۔اکثر آٹا، سلنڈر چھوڑنے ہمارے گھر آتا تھا۔۔۔اس نے مجھے وہاں سے اٹھایا میں زور زور سے  چلائی اسے ٹانگیں بازو مارے پر اس ظالم پر ذرا برابر بھی ان گھونسوں کا اثر نہیں ہوا اور اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑ کر وہ دیوار پھلانگ لی  پھر  کسی دیو کی مانند تیز تیز ڈگ بھرتے دو منٹ میں ہمارے گھر چھوڑ آیا  ۔تب مجھے پتہ چلا کے اسے امی نے مجھے اٹھا لانے کو بھیجا تھا   ۔

بس اسکے مجھے گھر چھوڑنے کی دیری تھی کہ ہمارے گھر کے صحن میں کمرے کی دیوار سے سٹلینس کے اوپر جاتے پائپ کے ساتھ ایک چھوٹا سا پلاسٹک کا پائپ لٹکا تھا۔۔۔امی نے وہی پائپ اٹھایا اور پھر میری درگت بنانا شروع کر دی۔۔۔

میں زور زور سے چیخیں مار رہی تھی امی جی بس کریں بہت زور کی لگ رہی ہے پر امی کا غصہ کم ہی نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔۔ایک سوٹی کھا لیندی تے فیر اتنی مار نہ کھانی پیندی ہن بھگت۔۔۔۔۔تو نے مجھے غصے سے اتنا ہلکان کر دیا ہے اتنا مجھے ستایا۔۔۔پورا دن میں فکر مند رہی آج تو میرے ہاتھوں سے جو بچ گئی تو کہنا۔۔۔۔نہیں چھوڑوں گی آج مار کر دم لوں گی ۔

میرے جسم پر ان پائپوں کی پٹائی کے نشان پڑنے لگے اتنے میں دادی امی میرے چیخنے چلانے کی دردناک آواز سنکر اوپر والے پورشن سے نمودار ہوئی۔۔۔ہائے اللہ کی ہوگیا تینوں بہو اسی غی مارنے دا تہیہ کر لیا ای۔۔۔۔چھوڑ کڑی غی ۔۔۔لیکن امی نے شاید کان بند کیے ہوئے تھے میں جتنی زور سے چلاتی تھی اگلا پائپ اتنی زور سے میرے بدن پر برستا۔۔۔۔

اتنی دیر میں دادی امی کا بھلا ہو نے تیزی سے نیچے آکہ امی سے مجھے چھڑا لیا۔۔۔۔ورنہ میں نے مر جانا تھا۔۔۔۔میرے ہچکیاں بندھ گئی تھی۔۔۔دادی امی نے مجھے سینے سے لگایا اور اندر کمرے میں لے گئی پھر مجھے اسی طرح اپنے سینے سے چپکا کے اپنے ساتھ لٹا لیا۔۔۔۔میں روتے روتے زور زور سے ہچکیاں لیتی رہی دادی امی میرے سر پر دلاسے سے انگلیاں پھرتی رہی۔۔۔۔مجھے سلانے کے لیے کہانیاں سنانی لگی۔۔۔۔مائی بڈی کی لشکاندی کی بخشاندی ادھڑا بھیا جاگدا۔۔۔۔۔۔۔۔میں کہانی سنتے دادی امی کی محبت کا لمس محسوس کرتے کب نیند کی وادی میں چلی گئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔

پر امی کے پائپ کھا کر اندازہ ہوا کے مار وہی اچھی ہوتی ہے جو اسی وقت پاس بیٹھ کر کھا لی جائے۔۔۔ورنہ پائپ بہت سخت لگتے ہیں۔۔۔جیسے کے ہماری باجی جب امی کو غصہ آتا تو وہ امی کے پاس بیٹھ جاتی لیں رج کر مار لیں ۔۔۔ اور امی اسے تھوڑا سا مار کر چھوڑ دیتی تھی