ڈوڈہ کے وانی خاندان کی بیٹی کو جدوجہد آزادی کشمیر کے لیے اپنی جان کا نزرانہ پیش کرنے والی کشمیری قوم کی پہلی بیٹی کا اعزاز حاصل ہے 

خالد شبیر

1947ء میں تقسیمِ برصغیر کے دوران لاکھوں نہتے مسلمانوں کو جنونی ہندووں نے جموں میں انتہائی وحشت و بربریت کا نشانہ بنا کر شہید کیا۔عفت مآب مسلمان خواتین کی آبروریزی کی گئی۔مساجد،درس گاہیں، رہائشی عمارتیں نذرآتش کی گئی۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جسے جموں و کشمیر کے لوگ کبھی نہیں بھلا سکتے ۔ جو زندہ بچ کر پاکستان پہنچ بھی گئے وہ بھی اپنے پیاروں سے ہمیشہ کیلئے بچھڑ گئے ۔

آگ اور خون کا ایسا کھیل کھیلا گیا جسے آج بھی بیان کرنا مشکل ہے۔ اُس منظر کو آنکھوں سے دیکھنے والے نور محمد جیسے بزرگوں کیلئے بہت مشکل ہے، جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور بیان کیا ہے ۔ اس وقت ان کی عمر صرف گیارہ برس تھی۔

1947ء میں جموں میں ہندو جنونیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد جموںکے مختلف اضلاع میں بچ جانے والے مسلمان ہمیشہ کیلئے اقلیت میں تبدیل ہوگئے۔ 1989ء میں وادی کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑلیا ، کافی تنظیمیں وجود میں آئیں ،نوجوانوں کی کافی تعداد ان جہادی تنظیموں میں شامل ہو کر بھارت مخالف عسکری کاروائیوں میں حصہ لینے لگے ۔

بھارتی فوجیوں کی طرف سے گائو کدل ، سوپور ،ہندواڑہ ، بجہاڑہ ، ،کپواڑہ ، سمیت وادی کے کئی علاقوں میںکشمیری مسلمانوں کا قتل عام کیا گیاجبکہ گھر بازار دکانیں جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دی گئیں ۔ بھارتی فوج کے ان مظالم نے جموں وکشمیر میں تحریک آزادی کومزیدمضبوط کر دیا ۔وادی کی عوام بھارت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے کٹ مرنے کیلئے تیار ہوگئی ، بھارتی فوجی مظالم بڑھ گئے ہزاروںافراد نے بھارتی ظلم و ستم سے تنگ آکرہجرت کے کر کے مظفر آباد سمیت آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں پناہ لی  ۔ 

وادی کشمیر کی یہ صورتحال دیکھ کر جموں کا نوجوان کیسے خاموش رہ سکتا تھا ۔چنانچہ جموں کے ہر اضلاع سے نوجوانوں اور بزرگوں نے لبیک کا نعرہ لگا کربھارت سے جموں و کشمیر کی آزادی کی اس تحریک میں عملاً حصہ لیا۔1990ء کے شروع میں جموں بھی تحریک آزادی کا حصہ بنا ، جموں میں خاص کر چناب ویلی ، اور پونچھ راجوری  نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 

اس ہی ابتدا میں مردانِ قوم و ملت میں ڈوڈہ کا علاقہ فرقان آباد گھٹ نمایاں سرفہرست ہے۔ فرقان آباد کو جموں خطے کی جدوجہد آزادی میں نظریاتی و فکری حثیت حاصل ہے اس علاقے کی زرخیز مٹی کو شہیدوں و غازیوں نے اپنی رنگین خون سے سیراب کیا ہے۔جنوری 1991 ء میں فرقان آبادصبح سویرے ایک خونریز معرکہ شروع ہوا جو وہاں کے مقامی لوگوں کیلئے بلکل ایک نئی اور عجیب و غریب خبر تھی ، بھارتی فوج کی طرف سے فرقان آباد پر پورے دن بارود برستا رہا جب معرکہ اختتام پزیر ہوا تو عوام کو پتہ چلا کے ایک مجاہد اعجاز احمد وانی جس نے جام شہادت نوش کیا ۔

اُس وقت لوگوں کے جذبہ ایمانی کی کیفت ہی ناقابل بیان ہے ۔لوگوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر معرکہ کی جگہ کا رخ کیا ،اور بھارتی فوج کو جلتے ہوئے گھر اور شہید اعجاز کی میت چھوڑکر بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔

گھر میں زندہ بچ جانے والی شہداء کی والدہ نے اپنے الفاظ میں اس منظر کو یوں بیان کیا:”صبح صویرے بھارتی فوجیوں نے ہمارے گھر کو محاصرے میں لیا ،میرا ایک بیٹا 21سالہ اعجاز احمد وانی مجاہد تھا۔ بھارتی فوجیوںنے آوازیں لگانی شروع کر دی کہ ہتھیار پھینک کر باہر آجائو ، میرے بیٹے اعجاز احمد وانی نے مجھے اور میری بڑی بیٹی16سال کی رابعہ اور 14سال کے ایاز احمد وانی ،8سال کے عرفان سے گھر سے باہر نکلنے کو کہا ، لیکن ہم چاروں میں کوئی بھی باہر جانے کیلئے تیار نہ ہوا .

اُس نے کافی کوشش کی جہاں تک اُس کا بس چلا لیکن ہم نے نہیں مانا ، ہم سب یہ جان چکے تھے کہ اعجاز کی جدائی کا وقت قریب ہے ۔اسلئے ہم سب نے اعجاز احمد وانی کے ساتھ رہنے اور ساتھ مرنے کو ترجیح دی ۔تھوڑے ہی وقت بعد بھارتی فوجیوں کی چینخ و پکار کے بعد فائرنگ کی آواز شروع ہوگئی ۔ایک دو گھنٹے کے بعد مکان پر مارٹر گولے گرنے شروع ہوگئے ۔

رابعہ اعجاز کے ساتھ ساتھ رہی ، اعجاز کو جب یقین ہوگیا کہ اب ہم سب نے شہید ہونا ہے ،اُس نے گرنیڈ نکال کر مجھے اورایاز کو دیا ۔رابعہ اعجاز کو بالکل چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھی ۔رابعہ نے اعجاز سے پہلی ہی بندوق چلانے کے بارے معمولی معلومات حاصل کی ہوئی تھی ۔اعجاز کو گولی لگی اعجاز شہید ہوگیا اب رابعہ اعجاز کی بندوق سنبھال کر لڑ رہی تھی ۔

مکان کا کافی حصہ تباہ ہو چکا تھا ۔یوں ایک ایک کرکے سب بہن بھائی بھائی شہید ہوگئے ۔ہمارے گھر کی طرف آتے لوگوں کی بھاری تعداد دیکھ کر بھارتی فوج مکان سے کافی دور چلی گئی محاصرہ ختم کر دیا اور عوام نے مجھے وہاں سے نکالا وہ منظر میرے لئے ناقابل بیاں ہے جب میں نے اپنی بیٹی اور تین بیٹوں کو اپنے گھر کے صحن میں دیکھا ، جنہوں نے حق کے راستے میں اپنی جوانیاں لٹا دی تھی”

رابعہ تحریک آزادی جموں و کشمیر میں پہلی شہید ہونے والی جواں سال مجاہدہ ہیں ۔ یوں فرقان آباد گھٹ ڈوڈہ کے وانی خاندان کی بیٹی کو جدوجہد آزادی کشمیر کے لیے اپنی جان کا نزرانہ پیش کرنے والی کشمیری قوم کی پہلی بیٹی کا اعزاز حاصل ہے ۔

ایک سال قبل 15جنوری 2020ء کو اس خاندان کے ایک اور عظیم سپوت نے پھرتحریک آزادی کے خاکوں میں اپنے خون سے ایسے وقت میں رنگ بھرا جس جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کو کمزور سمجھا جاتاتھا ۔ انجنیئر ہارون عباس وانی شہید ایک علیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھا ۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وادی کشمیر کا رخ کیا اور وہاں مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوکر کچھ ہی ماہ بعد ڈوڈہ کی سرزمین پر قدم رکھا۔تحریک آزادی جموں و کشمیر کا دشمن بھارتی فوج اور انٹیلی جنس بھاری اور جدید ہتھیاروں سے لیس پہلے سے زیادہ جال بچھاکر بھی کئی مرتبہ ہاروں عباس وانی کو پکڑنے میں ناکام رہی ،بھارتی انٹیلی جنس نے اُن کے پوسٹر جموں کے مختلف اضلاع میں لگوائے اور اُن پر 20لاکھ روپے پتہ بتانے والے کیلئے انعام کا لالچ بھی رکھا ۔لیکن ہارون عباس وانی کو پکڑنا ناممکن ہوا ۔15جنوری 2020ء کوگندنہ ڈوڈہ میں بھارتی فوج کے ساتھ ایک معرکہ میں ہارون عباس وانی وعدہ وفا کر کے شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوئے ۔ کرفیوں اور لاک ڈائون کے باوجود 15ہزار سے زیادہ لوگون نے شہید کے جنازے میں شرکت کی اسلام و آزادی کے حق جبکہ بھارت مخالف نعروں سے پورے دن فرقان آباد کی فضا گونجتی رہی اور یوں شہید کو سپرد خاک کردیا گیا ۔

آج ہارون عباس وانی کو شہید ہوئے ایک برس مکمل ہو گیاہے ،لیکن اُن کی یادیں آج بھی ہمارے قلوب و اذہان میں تروتازہ ہیں ۔ ہارون عباس وانی  جیسے جوانوں کیلے اللہ تعالی نے شہادت کا انعام رکھا ہوتا ہے ۔شہادت کا انعام اللہ جس کو چاہے عطاء فرماتا ہے ۔یہ ہر ایک کے نصیب میں کہاں ۔ہارون عباس وانی سمیت  جموں و کشمیر کے ہر شہید کی روح ہم سے کہہ رہی ہے کہ لہو ہمار ا بھلا نہ دینا ۔