تبصرہ نگار: طلعت جبین / شاعر: پروفیسرڈاکٹر نثار حسین ہمدانی


 پروفیسرڈاکٹر نثار حسین ہمدانی 12 فروری 1959کو ضلع ہٹیاں بالا کے ایک گاﺅں چناری میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم ضلع مظفرآباد سے حاصل کی ۔ایم ایس سی اقتصادیات قائد اعظم یونی ورسٹی اسلام آباد سے کیا اور جامعہ آزادجموں وکشمیر کے شعبہ اقتصادیات میں لیکچرار کی ملازمت اختیار کر لی ۔

بعد ازاں ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کیے۔شاعری اور مضمون نگاری کا آغاز ۵۱ سال کی عمر میں 1985میں کیا ۔شاعری میں غزل ،نظم ،قطعات اور ہائیکو میں طبع آزمائی کی ۔’چنار،چاندنی اور چنبیلی‘ ان کا شعری مجموعہ ہے جو 1993ءمیں شائع ہوا ۔اس کے بعد انھوں نے شاعری ترک کر دی ۔وہ جامعہ میں ہر دل عزیز شخصیت ہیں لیکن شاعر کی حیثیت سے انھیں بہت کم لوگ جانتے ہیں کیوں کہ یہ مجموعہ آج سے ۴۲ سال قبل شائع ہوا ۔

اس شعری مجموعے کا پیش لفظ ڈاکٹر صابر آفاقی نے لکھا ہے ۔پیش لفظ کے بعد ڈاکٹر نثار حسین ہمدانی نے’ چنار ،چاندنی اور چنبیلی‘ کی علامتوں کی وضاحت کی ہے ۔آغاز حمد سے کیا گیا ہے جس کے بعد دو غزلیں ،ایک نظم اور ایک غزل کے بعد نعت شامل کی گئی ہے ۔نعت کو اگر حمد کے بعد شامل کیا جاتا تو ترتیب بہتر ہوتی ۔اس مجموعہ کلام میں چھیالیس غزلیں ،۹۶ مختصر اور طویل نظمیں ۔۵۱ مفرد اشعار ،۲ حمد ،۵ قطعات اور پانچ ہائیکو شامل ہیں ۔ہائیکو کی صنف جاپانی ہے اور وہیں سے اردو میں آئی ۔

یہ تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے اور عموماً پہلا اور تیسرا مصرعہ ہم قافیہ و ردیف ہوتے ہیں ۔غزل کے آفاقی موضوعات میں جہان فانی ،تقدیر ،رجائیت ،چاہت ،عشق ،کشمیر سے محبت ،واعظ پر طنز اور فکروفن وغیرہ ہیں ۔
 نظموں میں کہیں کہیں مقامی رنگ جھلکتا ہے ۔نظم کے مقامی موضوعات میں آزادکشمیر ریڈیو مظفرآباد ،گلگت کی سر زمین سے اپنائیت کا اظہار ،الطاف قریشی کے مجموعے’ثنا‘ کے حوالے سے ان پر لکھی گئی نظم ،بیاد آزر عسکری وغیرہ شامل ہیں ۔

غزل کے آفاقی موضوعات پر ایک موضوع زندگی کی بے ثباتی ہے ۔جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ زندگی پر کبھی بھی غرور نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ زندگی کی حقیقت تو خواب کے جیسی ہے، جب آنکھیں کھلتی ہیں تو خواب ختم ہو چکا ہوتا ہے ۔
زندگی کا غرور کیا کرتا
وہ تو لمحوں کا خواب ہوتی ہے
 اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ۔جن کی نیت اچھی ہوتی ہے وہ زندگی میں ہر قدم پر ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں ۔نثار ہمدانی بھی کہتے ہیں کہ جن کی نیت خراب ہو انھیں کبھی کامیابی نہیں ملتی اور وہ ہمیشہ بے سکونی میں رہتے ہیں ۔


وہ سدا بے سکون پھرتے ہیں
جن کی نیت خراب ہوتی ہے
 غزل کا ایک موضوع تقدیر بھی ہے ۔اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ اپنی قسمت کو بدلنے کے لیے لمحہ لمحہ تدبیر بھی بدلنا پڑتی ہے ۔
جس نے اپنی قسمت اور تقدیر بدلنی ہے
اس کو لمحہ لمحہ اک تدبیر بدلتی ہے
 یہ آرزو بھی رکھتے ہیں کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب انھیں اپنی جنت یعنی کشمیر جانے کا موقع ملے گا ۔
ایک دن تو جائیں گے ہم بھی اپنی جنت میں
اپنا یہ ترانہ ہے خوشتریں ترانوں میں
 چاہت کے جہان بسانے میں لطف محسوس کرتے ہیں اور چاہت کے جہان کو سب جہانوں میں حسین تر قرار دیتے ہیں ۔
دل کے گھر میں چاہت کا اک جہاں بستا ہے
یہ جہاں حسین تر ہے تیرے سب جہانوں میں
 نثار ہمدانی یہ بھی کہتے ہیں کہ جب موت کا ایک وقت مقرر ہے تو پھر خوف کیوں ہو بلکہ موت تو خود جیون کے لمحات کی نگرانی کرتی ہے ۔
کیوں خوف ہو مرنے کا اک وقت مقرر ہے
خود موت ہی جیون کے لمحات کی نگراں ہے
 ان کی غزل کا ایک موضوع عشق بھی ہے اور انھیں محبوب کی پابندیاں بہت کھٹکتی ہیں جس کا اظہار یوں کرتے ہیں۔
یوں عشق و محبت میں ضوابط نہیں چلتے
ایسا نہ کیا کر ، کبھی ویسا نہ کیا کر
 شرطوں پر کی جانے والی محبت کو سودے بازی اور تجارت قرار دیتے ہیں ۔
شرطوں پر جو پیار ہے سودے بازی ہے
ہم ایسی چاہت کو تجارت کہتے ہیں
 کسی کے دل میں بس جانے کی آرزو بھی شدت سے کرتے ہیں ۔
اس کا من اک گلاب کی مانند
اپنی خواہش ، گلاب میں رہتے
 کشمیر جانے اور جھیل ڈل کے پانی سے اپنی آنکھیں تر کرنے کی حسرت بھی کی ہے اور یہ خواہش بھی کہ کنول کا پھول ہم بھی دیکھ سکیں ۔
جھیل ڈل کے پانیوں سے اپنی آنکھیں تر کریں
یہ بھی حسرت ہے کہ دیکھیں ہم کبھی پانی کا پھول
اقبال کی ترکیب فکرِ جہاں استعمال کرتے ہوئے خدا سے یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جہاں کی فکر مجھے سونپ کر خدا نہ تو خود سوتا ہے اور نہ اس جہاں کی فکر میں مجھے سونے دیتا ہے ۔
مجھکو بھی فکرِ جہاں دے کے وہ اوپر والا
خود نہیں سوتا مجھے بھی نہیں سونے دیتا
نئی نسل پر بھی طنز کرتے ہیں کہ آج کل کے بچے کس طرح اپنی روایات سے دور ہو چکے ہیں، وہ بزرگوں کی ہر بات کو پرانے دور کی باتیں کہہ کر جدید دور کی تمام برائیوں کو اپنا رہے ہیں۔
اپنے باپ سے ہر اک بات پر جدت کا اصرار کروں
میرے بچے کو میری ہر بات پرانی لگتی ہے
 واعظ کا ذکر بھی کرتے ہیں اور اسی انداز سے جس طرح باقی شعرا واعظ کے پندو نصائح سے تنگ ہیں ویسے ہی نثار ہمدانی بھی واعظ کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں ۔
کرا رہے ہیں تعارف خدا کا یوں واعظ
سنا سنا کے سبھی کو عذاب کی باتیں
 وطن پر جان دینے کا جذبہ بھی نظر آتا ہے کہ یہ جان تو ویسے بھی ایک دن چلی جانی ہے ۔بہتر ہے اس کو وطن پہ قربان کر دیں۔
یہ جان جان ہے اک دن تو چھوڑ جائے گی
وطن کے نام کریں خود کو سرخرو کر لیں
 انسان نے علم کے ذریعے جو ترقی کی اور چاند سیاروں تک جا پہنچا اس پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان علم کے ذریعے سب فاصلوں کومٹا سکتا ہے اور علم کی راہ میں کوئی چیز رکاﺅٹ نہیں بن سکتی۔

آدمی مشتری پہ جا پہنچا
علم پر فاصلوں کی قید نہیں
 رومانیت کا شعر بھی نظر آتا ہے ۔حسن کو دیکھ کر بے ساختہ اس کی تعریف میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔
جنت کی وہ خوشبو ہے حوروں کی رانی لگتی ہے
اس کی ہر اک بات ہمیں پریوں کی کہانی لگتی ہے
 لیکن بعض اشعار میں وہ بہت ہی آگے چلے گئے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل شعر تو قابل اعتراض ہے۔انداز بھی عجیب سا ہے۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔
پیار کی مستی لے آئی ہے آج کہاں بہکا کے مجھے
جس کا ثانی کوئی نہیں تو اس کی نانی لگتی ہے
 ان لوگوں کی زندگی بہت سہل ہو جاتی ہے جو ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیتے ہیں ۔
خود کو ہم خوشگوار رکھتے ہیں
جتنی افسردگی بھی ہوتی ہے
 جہان فانی کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ یہ دستور ازل سے قائم ہے جو بھی اس دنیا میں آتا ہے وہ کچھ دیر قیام کرتا ہے اور پھر چلا جاتا ہے ۔
اس جہاں کا ہے یہ دستور ازل سے قائم
جو بھی آتا ہے ٹھہرتا ہے گزر جاتا ہے


 غزل کے مقابلے میں نظموں کی تعداد زیادہ ہے ۔مقامی موضوع کی حامل نظم ’گلگت کی سر زمین سے کسی یاد کا انتخاب‘میں وہ بتاتے ہیں کہ جب ہم گلگت گئے تو سوچا کوئی ایسی چیز خریدی جائے جو بہت دیرتک یادوں کی سندر علامت رہے ۔ان کے ساتھیوں میں سے ہر ایک نے اپنے لیے مختلف چیزوں کا انتخاب کیا اور شاعر نے اپنے لیے عینک منتخب کی ۔

گلگت کے حوالے سے تین نظمیں اور ایک غزل اس کتاب میں موجود ہے ۔حضرت حسین پر بھی واقعہ کربلا کے حوالے سے نظم لکھی ہے اور آخری شعر میں التجا بھی کہ غم حسین عطا ہو جائے ۔
مرے خدا ہے مری اک التجا تجھ سے
غمِ حسین عطا ہو تو ہو خوشی کا مقام
 شاعر مشرق علامہ اقبال پر بھی نظم لکھ کر انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ایک نظم میں دو اشعار آزر عسکری کی نذر بھی کیے گئے ہیں ۔صدائے کاررواں مثلث ترجیح بند ہیت نظم میں کشمیر کی سر زمین پر ہونے والے ظلم و ستم کے تذکرے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو ان کے ساتھ ساتھ کھڑا ہونے کی اور سارے جہاں کی حمایت کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں۔ایک نظم میں کسی سے شدید نفرت کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔اس نظم کے چند اشعار
تم سے نفرت ہے مجھے نفرت ہے
اپنی چاہت کی حدوں سے بڑھ کر
تم سے نفرت ہے مجھے
ایک نظم میں خدا پاک کی عظمت اور بڑائی بیان کی ہے کہ اللہ پاک ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں ۔
وہ کرنا چاہے فقیروں کو بادشاہ کر دے
وہ کرنا چاہے تو شاہوں کو گردِ راہ کر دے
ایک قطعے میں چشم بینا کا بھی تذکرہ ہے کہ جو آسمان کے پردوں میں بھی دیکھ سکتی ہے ۔شہید کشمیر مقبول بٹ کے نام بھی ایک نظم کہی ہے ۔اس نظم کا ایک شعر میں شہید برہان وانی کے نام بھی کرنا چاہوں گی ۔
کہاں کہاں سے دباﺅ گے کیسے روکو گے؟
میں انقلاب ہوں سینوں سے پھوٹ آﺅں گا
ایک نظم ”اصل عبادت“ میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ میں جب تمھاری یاد میں دنیا سے بے نیاز ہوا تو تب مجھے احساس ہوا کہ میں جو عبادت کرتا ہوں وہ محض خود فریبی تھی ۔اب معلوم ہوا بندگی صرف چند لفظوں کا نام نہیں بلکہ اصل عبادت تو دل کا سجدہ ہے ۔انتخابات کے موقع پر بھی نظم لکھی گئی ہے جس میں سیاست کو کاروبار قرار دیتے ہیں اور اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ عظمت کا معیار صرف دولت بن کر رہ گئی ہے

۔سب کو دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آﺅ مل کر عظمت کا معیار بدلیں اور ایک سچا ساتھی چن لیں جو سب کے دکھ سکھ کا سچا ساتھی ہو ۔وطن سے محبت کا تذکرہ کئی نظموں میں بار بار ملتا ہے ۔”جشن آزادی اور کشمیر“اس نظم میں یہاں منائے جانے والے جشن کا وہاں پر برپا ماتم اور ظلم و بربریت سے موازنہ کیا ہے۔بہت مختصر نظموں کا تجربہ بھی کیا ہے جیسا کہ ایک نظم”آرزو“
تم ملو
وقت ملے
اور کچھ نہ ملے!
ہائیکو کا ایک نمونہ بھی پیش ہے
دل کو یہ سمجھانا ہے
درد جہاں تک بڑھ جائے
بالآخر مٹ جانا ہے
اس کے علاوہ نظموں کے موضوعات بے بسی ،دکھ ،حقیقت کی تلاش ،سزا ،خواہشوں کا تضاد ،عدم تعلق ،امید اور مداوا وغیرہ ہیں ۔یہ شاعری نثار ہمدانی صاحب کی جوانی کی شاعری ہے ۔اب اگر وہ دوبارہ شاعری کی طرف رخ کریں تو یقینا آج ان کی شاعری اور ان کے موضوعات بہت مختلف ہوں گے ۔نثار ہمدانی صاحب کی غزل کے ایک بہترین شعر پر اختتام کرنا چاہوں گی ۔
ہم تو سوچیں گے مرضی سے
فکر پر حاکموں کی قید نہیں