صغیر قمر 

شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔بارش اور دھند کی وجہ سے ماحول جلد تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔ سری نگر کی سڑکوں پر حسب معمول ویرانی نظر آ رہی ہے۔ اکا دکا گاڑی یا رکشا گزرنے سے خاموشی ٹوٹ جاتی ہے۔ غلام قادر نے ورکشاپ کا دروازہ بڑی بے دلی سے بند کیا۔ اس نے اپنی پھٹی پرانی فیرن کی جیب میں ہاتھ ڈالا۔

دن بھر کی کمائی جو اسے ورکشاپ کے مالک نے دی تھی جیب میں پڑی تھی۔ غلام قادر نے حقارت سے کندھے اچکائے‘ جیسے اسے یہ چند روپے محنت کے بدلے نہیں بھیک میں دیے گئے ہوں۔”آج کل تو اتنی بھیک بھی کوئی نہیں دیتا۔“ اس نے دل ہی دل میں سوچا اور بیساکھی اٹھا کر چل پڑا۔اس کی بیساکھی کی آواز نے ماحول کے سکتے کو پھر توڑ دیا۔

آج نہ جانے کیوں اس کے دل میں یہ خیال در آیا تھا کہ وہ لال چوک سے ہو کر گزرے گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ جب سے کشمیر میں تحریک نے زور پکڑا ہے‘ لال چوک مں موت کا سناٹا رہتا ہے۔ بھارتی قابض فوجیوں نے ارد گرد کی دکانوں میں مور چے بنا لیے ہیں۔ کسی انسان کا وہاں سے گزرنا کسی صورت خطرے سے خالی نہیں۔ آئے روز بھارتی فوجی لوگوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور پھر مہینوں کی خبر نہیں آتی۔

چچا کے ساتھ بھی تو ایسا ہوا تھا اس نے سوچا…… “فوجی اسے لال چوک سے دو سال پہلے گرفتار کر کے لے گئے تھے‘ پھر وہ زندہ گھر لوٹ کرنہ آئے۔ کئی ماہ بعد ان کی لاش بٹ مالو کے بس اسٹینڈ سے ملی تھی”۔ چچا کی یاد غلام قادر کے سینے میں تیر بن کر اتر گئی۔ وہی تو اس دنیا میں اس کا واحد سہارا تھا۔ باپ کی وفات کے بعد تو اسی نے اسے پالا تھا۔

چچا کی شہادت کے بعد اسے کیا کیا دکھ نہ دیکھنے پڑے۔ ماں بھی وفات پا گئی‘ چچا کا جواں سال بیٹا شہید ہوگیا‘ بڑا بھائی دور کہیں سرحدی علاقے میں کھو گیا اور ادھر گاڑی کے حادثے میں اس کی ٹانگ کٹ گئی۔ چچا کوخبر نہ ہوئی نہ ماں کو‘ بھائی نے پرسا دیا نہ کسی دوست نے …… ننھی جان دو وقت کے کھانے کو ترس گئی۔ اس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ بڑی بہن کے سسرال والوں نے اسے بٹ مالو میں ایک ورکشاپ پر چھوڑ دیا تھا۔

وہ علی الصبح گھر سے نکلتا۔ بیساکھی کے سہارے دو فرلانگ کا فاصلہ پیدل طے کرتا۔ ورکشاپ کے مالک کا کہنا تھا کہ جس دن وہ وقت پر نہ آیا تو اسے فارغ کر دیا جائے گا۔ ”فارغ کر دیا جائے گا“ وہ زیر لب بڑبڑایا۔”کشمیر آزاد ہونے دو پھر دیکھیں گے۔“ اس نے اپنا ہاتھ چہرے پر یوں پھیرا جیسے ورکشاپ کے مالک کو دھمکی دے رہا ہو۔ اچانک فضا میں شور بلند ہوا۔ سامنے سے ایک ایمبو لینس بھاگی چلی آ رہی تھی۔ ایمبو لینس کی رفتار اور سائرن کے شور سے صاف پتہ چلتا تھا کہ کوئی بڑا حادثہ پیش آیا ہے۔

حادثے تو یہاں روز کا معمول ہیں۔اس نے سوچااور سر جھٹک کر پھر چل پڑا۔ ”ٹاں ہاں‘ ٹاں ہاں“ ایک اور ایمبو لینس چیختی چنگھاڑتی بھاگی چلی آ رہی تھی۔ ”خدایا خیر کرنا۔“ غلام قادر کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ضرور کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ یقیناً فوج اور مجاہدین کا مقابلہ ہوا ہے۔ اس کے قدم بے اختیار ہسپتال کی طرف اٹھنا شروع ہو گئے۔ گھر جا کر کیا کرے گا؟ وہاں بھی موت کا پہرہ ہے یہاں سڑک پر بھی …… میری تو پہلے ہی ایک ٹانگ نہیں ہے‘ مجھے کوئی کیا کہے گا؟ غلام قادر نے خیال ہی خیال میں خدشات دور کرتا ہوا ہسپتال جا پہنچا۔”میرا نام غلام قادر ہے‘ میں …… میں ……“ اس نے ہسپتال کے فرش پر پڑے ایک چودہ سالہ لڑکے کے قریب پہنچ کر اپنا تعارف کرایا۔ اس کی زبان لڑ کھڑا گئی تھی۔

اس کے سامنے لڑکے کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔ پورا جسم خون آلود تھا۔اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا۔اس نے بمشکل ہونٹ ہلائے۔ ”میں عثمان ہوں۔“ غلام قادر نے جھک کر اسے قریب سے دیکھنے کی کوشش کی۔ ہسپتال کے برآمدے کی ٹمٹماتی روشنی میں اس نے دیکھا‘ عثمان کا پیٹ تقریباً پھٹ چکا تھا۔ کٹی پھٹی قمیض سے گوشت کے لوتھڑے نظر آ رہے تھے۔ غلام قادر نے مشکل سے اپنی چیخوں پر قابو پایا۔ ”تمارے ساتھ کوئی ہے؟“ غلام قادر نے عثمان کے کان کے قریب جا کر کہا۔ ”نہیں“ میرے ساتھ …… اللہ کی ذات ہے۔“ رات کے تین بجے تھے جب غلام قادر عثمان کو ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں منتقل کرانے میں کامیاب ہو گیا۔

اسے اس دوران یہ بھی معلوم ہوگیا کہ مشعل محلے میں قابض فوجیوں نے نہتے شہریوں پر گولیاں برسائیں اور گھروں میں گھس کر سامان کو آگ لگا دی۔ اس دوران مجاہدین کے ایک گروپ نے ان بزدل چوہوں پر ہلہ بول دیا۔ عثمان بھی مجاہدین کے اس گروپ میں شامل تھا۔ اس کے پیٹ میں تین گولیاں لگی تھیں۔ غلام قادر کو یہ جان کر بہت دکھ  ہوا تھ اکہ اس کی طرح عثمان کے ماں باپ بھی اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ایک بڑا بھائی کئی ماہ پہلے آزاد کشمیر گیا تھا‘ اس کے بعداس کی کوئی خبر نہیں آئی۔

عثمان مجاہدین کے ساتھ مل گیا۔ غلام قادر یہ بات اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ہسپتال میں بے شمار ہندو ڈاکٹر ہیں جنہیں عثمان کے علاج سے کوئی غرض نہیں ہوگی اور نہ مجاہدین کی حکمت عملی اس بات کی اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عثمان کی عیادت کے لیے ادھر آ سکیں۔ تو پھر……؟
میں عثمان کا ساتھ دوں گا…… میں اس کا علاج کراؤں گا۔ اس معصوم پھول کو مرجھانے نہیں دوں گا۔ میں اس کا بھائی ہوں …… غلام قادر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
”بیڈ نمبر ۵۲ والے مریض کے ساتھ کون ہے؟“ ڈاکٹر نے آواز لگائی۔
”میں ہوں جی …… میں غلام قادر“ وہ اپنی بیساکھی ٹیکتے ہوئے آگے بڑھا۔
”تم …… تم تو خود ……“
”میں خود …… خود ٹھیک ہوں جی۔“
”خیر چھوڑو اس معاملے کو۔“ ڈاکٹر نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”تمہارے مریض کو خون کی فوری ضرورت ہے  ایک بوتل خون لے کر آؤ۔“
”ایک بوتل خون ……؟“ وہ بڑ بڑایا۔
”میرا خون نکال لو جی۔…… اس نے فیرن کی آستین چڑھاتے ہوئے کہا۔
”لیبارٹری میں آ جاؤ۔“
غلام قادر کے دیے ہوئے خون کے آخری قطرے عثمان کے جسم میں اتر رہے تھے اور غلام قادر بڑے پیار سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”شکریہ“
”کس بات کا میرے مجاہد بھائی“ غلام قادر کے چہر ے پرسرخی پھیل گئی۔
”معلوم ہے؟ آپ کومیں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔“ ”میں معذور ہوں ناں اس لیے …… اس لیے تمہارے ساتھ مل کر ان وحشیوں سے لڑ نہیں سکتا۔ تو پھر کیا ہے …… ان سے لڑنے والوں کو پتھر تو اٹھاکر دے سکتا ہوں نا؟“
’’ہاں …… کیوں نہیں ……“ عثمان کی آواز ڈوب گئی تھی۔ درد کی شدت سے اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
٭
”او لڑکے“ ہسپتال کا میڈیکل اسسٹنٹ چلایا۔
غلام قدر نے اسے یوں دیکھا جیسے لڑکا کہہ کر اسسٹنٹ نے اس کی توہین کی ہو۔ وہ لڑکا تھوڑا ہی ہے۔وہ تو ایک مجاہد کا سر پرست ہے۔ ”سر پرست“ یہ سوچ کر اس کی ٹانگوں میں برقی لہر دوڑ گئی۔

بیساکھی کندھے پر رکھتے ہوئے اس نے میڈیکل اسسٹنٹ کی طرف فخریہ انداز سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”فرمائیے۔“
”تمہارے مریض کو فوری طو رپر خون کی ضرورت ہے۔“
”میرا نکال لو۔“
”لیبارٹری چلو۔“ تین دنوں میں غلام قادر دوسری بار خون دے رہا تھا۔
اسے معلوم تھا کہ اس طرح اس کی جان کے لیے بھی خطرہ ہو سکتا ہے لیکن وہ کیا کرے؟ یہ اسے معلوم نہ تھا وہ اپنے مجاہد کو بچانا چاہتا تھا۔ہر حال میں ہر قیمت پر اس کا خیال تھا کہ ایک مجاہد بچ گیا تو صبح آزادی جلد قریب آئے گی۔ غلام قادر جیسا ایک لنگڑا اس دنیا سے گزر بھی گیا تو کوئی فرق نہیں  پڑے گا۔

خون دے کر وہ بیڈ سے اترا تو اسے یوں لگا جیسے ہسپتا ل کی ساری عمارت گھوم رہی ہو۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا۔ عثمان کے بسترکے قریب پہنچ کر اس نے ایک نظر اس پر ڈالی۔ وہ ابھی تک بے ہوش پڑا تھا۔ عثمان کا بہت سا خون بہہ جانے کی وجہ سے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔ پیٹ پر بندھی پٹی سے ابھی تک خون رس رہا تھا۔اسٹینڈ سے لٹکی ہوئی بوتل سے ٹپ ٹپ خون گر رہا تھا۔

اچانک عثمان نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ غلام قادر کو دیکھ کر مسکرایا۔ جواباً غلام قادر نے جھک کر اس کی پیشانی چوم لی۔
غلام قادر نے جھک کر اس کی پیشانی چوم لی۔
”کیسے ہو عثمان؟“
”الحمدللہ“
عثمان کو ہسپتال میں آئے ہوئے اٹھارہ دن ہو چکے تھے۔ڈاکٹروں کی بھر پور کوششوں کے باوجود اس کے زخم مندمل نہیں ہورہے تھے۔ گولیاں لگنے سے اس کی بعض آنتیں کٹ گئی تھیں۔ آج تیسری بار ڈاکٹروں نے پیٹ کا آپریشن کرنے کا فیصلہ کیاتو غلام قادر کی امیدوں پر جیسے اوس پڑ گئی۔ اس نے بڑے کرب سے سوچا‘ اگر عثمان بھی شہید ہو گیا تو …… اس کے بعد وہ کچھ نہ سوچ سکا۔ ان اٹھارہ دنوں میں عثمان کی اور اس کی دوستی اتنی گہری ہو گئی تھی کہ اس نے ورکشاپ جانا بھی چھوڑ دیا۔ وہ دن رات عثمان کے بیڈ کے قریب بیٹھا رہتا۔
”عثمان صحت یاب ہو جائے تو دونوں پاکستان چلے جائیں گے۔“ غلام قادر خیال ہی خیال میں منصوبے بناتا۔ پاکستان کیسے پہنچے گا یہ تو اسے بھی معلوم نہ تھا لیکن وہاں جانے کے تصور ہی سے اس کے اندر ایک بجلی سی لپک جاتی۔
”او لڑکے! ادھر آؤ۔“
آج پھر اسی میڈیکل اسسٹنٹ نے اسے پکارا تھا۔ غلام قادر کو غصہ تو بہت آیا لیکن پی کر رہ گیا۔
”چار بوتل تازہ خون لاؤ‘ تمہار مریض کا صبح آپریشن ہے۔“
”چار …… بو…… تل …… چار بوتل …… خون“
”ہاں! ہاں …… ورنہ،“
”ورنہ کیا ……“ غلام قادر بے اختیار بول پڑا۔
”مریض کی زندگی خطرے میں“ اسسٹنٹ پاؤں پٹختا ہوا نکل گیا۔
غلام قادر کو اپنے سامنے دنیا گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔

چار بوتل خون وہ کہاں سے لائے گا۔ ادھر تو پورے کشمیر میں اس کا جاننے والا کوئی نہیں۔پھر خون دے گا کون؟ یہاں تو ہر فرد ظلم کا شکار ہے۔ زخمی ہے‘ معذور ہے‘ کشمیر کا ہر انسان بے بس ہے‘ کوئی پرسان حال نہیں۔ بھوک‘ افلاس اور قحط کا سماں ہے۔ کس سے مانگوں کہاں جاؤں؟ غلام قادر سٹپٹا گیا۔ اسے رہ رہ کر اپنی ورکشاپ کا مالک یاد آ رہا تھا۔ لیکن وہان گئے ہوئے اسے اٹھارہ دن ہو چکے تھے۔ وہ تو دیکھتے ہی جھپٹ پڑے گا۔
”میرا خون لے لو“ غلام قادر نے لیبارٹری انچارج سے التجا کی۔
”نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا۔“ اس نے دھتکار دیا۔
”خد اکے لیے …… میرا خون لے لیں میرے بھائی کی زندگی کا مسئلہ ہے۔“ غلام قادر نے پھر کوشش کی۔
”نہیں ہو سکتا مجھ سے یہ جرم …… چلے جاؤ یہاں سے اور بلڈ بینک سے خرید کر لاؤ۔“ خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے لاؤں؟ اس احساس نے اسے اور بھی پریشان کر دیا۔

اس کا جی چاہتا تھا کہ زور زور سے روئے اورلوگوں کو یہ بتائے کہ کشمیر میں بھارتی فوجی ننھے منے معصوموں پر کیا قیامتیں ڈھا رہے ہیں۔ وہ اپنی چیخوں سے آسمان سر پراٹھا لے اور چیخ چیخ کر دنیا کو اپنی بے بسی کا حال سنائے۔ وہ دنیا کو  بتائے کہ کشمیر میں موت کس قدر سستی ہو چکی ہے لیکن وہ بتائے کسے ……؟ ان بلند وبالا پہاڑوں کے اس پار کچھ ہمدرد تو رہتے ہیں  لیکن ان تک شاید غلام قادر کی بے بسی اور عثمان کی آواز نہیں پہنچ پائی۔

ان کی فریاد کوئی سننے والا نہیں۔ یہاں تو قیامت گزر گئی ہے لیکن آزاد دنیا کو خبر نہیں ہوئی۔ کیا پوری کائنات میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اسے عثمان کے لیے چار بوتل خون دے دے۔ ”چار بوتل خون“ غلام قادر ضبط نہ کر سکا اس کی ہچکی بندھ گئی۔
”خون لاؤ بھائی! مریض کی حالت ٹھیک نہیں۔‘ ایک ڈاکٹر نے قریب سے گزرتے ہوئے غلام قادر کے دل پر پھر تیرا مارا۔
”میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں …… میرا خون لے لیں۔“
غلام قادر نے ڈاکٹر کا بازو پکڑ لیا۔ ڈاکٹر کو اس کی حالت پر نہ جانے کیسے رحم آگیا۔
”دیکھو بچے! تم معذور ہو‘ اس سے قبل کہ تم دوبار خون دے چکے ہو‘ اب ہم یہ جرم نہیں کر سکتے۔ ایک آدمی کی جان بچا کر دوسرے کی جان نہیں لی جا سکتی۔
”میری جان عثمان سے قیمتی نہیں ہے ڈاکٹر صاحب۔“
”اس کا فیصلہ میں نہیں کر سکتا۔“ ڈاکٹر نے بازو چھڑایا اور چل پڑا۔
”یا الٰہی! میں کہاں جاؤ؟“ غلام قادر کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔
”چاربوتل“ اس کے دماغ میں ایک ہی گونج تھی۔ صبح ہونے والی تھی۔ غلام قادر رات بھر ہسپتال کے مختلف شعبوں‘ وارڈز اور برآمدوں میں دیوانے کی طرح گھومتا رہا۔ اسے چار بوتل خون چاہیے تھا۔ لیکن وہاں کوئی نہ تھا جو اسے عثمان کی زندگی بچانے کے لیے خون دے سکتا۔
رات ڈھل چکی تھی۔ سری نگر کی مساجد سے اللہ کی کبریائی کے آواز سے بلند ہونے لگی۔ عثمان رات بھر درد کی شدت سے تڑپتا رہا۔ غلام قادر بھی تڑپتا رہا۔ موذن نے اذان ختم کی تو عثمان نے اس دنیا میں آخری سانس لی اور وہ بالآخر شہادت کی منزل کو پہنچ گیا۔ اس دنیا سے دور اللہ کی جنت میں جہان اسے خون کی ضرورت نہیں تھی۔
رات کی تاریکی اور سناٹے  کو چیرتی وہ آواز بڑی درد ناک تھی۔ سری نگر کی مختلف گلیوں میں کئی راتوں سے ایک معصوم بچے کی آواز سونے والوں کو جگا رہی ہے اور جاگنے والوں کو تڑپا رہی ہے۔ گرم بستروں میں محوس استراحت لوگوں کی بے چینی بڑھ جاتی ہے …… مائیں اپنے دل تھام کر رہ جاتی ہیں۔
”کوئی ہے …… جو چار بوتل خون دے دے۔“
”چار بوتل خون کا سوال ہے لوگو!“
یہ آواز معصوم غلام قادر کی تھی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے اس کا دماغ چل گیا ہے۔
غلام قادر کی آواز اب بھی ہر روز سری نگر کی سڑکوں پر گونجتی ہے  وہ اب بھی چار بوتل خون تلاش کر رہا ہے اور اس کا لاڈلا عثمان زخموں سے چور سرینگر کے ہسپتال میں علاج کا منتظر ہے۔