تحریر : شمیم خان

یوں تو ہر وہ شخص پہاڑی ہے جو پہاڑ کی گود میں سکونت پذیر ہے ۔ اس اعتبار سے گجر، کیرت ، کدی اور کھش سبھی پہاڑی قبیلے ہیں۔ مگر خصوصی تاریخی ، سماجی اور سیاسی حالات نے پہاڑی کو اصطلاح کا روپ دیا ہے۔ لفظ پہاڑی زبان پر اتے ہی ایک خاص قبیلے کا تاثر ذہن میں ابھرتا ہے ۔ اس طرح یہ لفظ نسلی شناخت بن گیا ہے۔
زمانہ قدیم سے لے کر آج تک جس قبیلے کو سنسکرت میں کھش اور مغربی دستاویزات میں کیسایٹ کہا گیا ہے ۔ وہی لوگ اب پہاڑی کہلاتے ہیں۔ نہ صرف لوگ بلکہ انکی زبان بھی پہاڑی کہلاتی ہے۔

اسطرح ایک عام سا لفظ ذو معنی اصطلاح بن گیا ۔ جس کے معنی ہر اصطلاح کی طرح سکہ بند اور مقرر ہیں۔ کھشوں کو کھس ، کھاو، کھکھ اور دوسرے کہیں ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں جن لوگوں کو بمبہ یا بمئ کہا گیا ، انکا تعلق بھی کھشوں سے ہے۔ ویدک دور میں کھشوں کا ذکر نہیں ملتا لیکن مہابھارت اور اسکے بعد کی کتابوں میں اس قبیلے کا ذکر ہوتا ہی رہا ہے۔

مہابھارت اور پرانوں میں ان کا ذکر اس تفصیل سے موجود ہے ۔ جو اس بات کا سراغ دیتا ہے ۔ کہ رزمیہ دور میں کھش قبیلے کے لوگ برصغیر کے مختلف علاقوں میں اپنا وجود منوا چکے تھے۔ اور انکی اپنی پہچان قائم ہوچکی تھی۔ کھشوں کی برصغیرآمد کا زمانہ ویدوں اور رزمیہ دور کے درمیان کا ہے۔ اسطرح یہ قبیلہ ہزاروں سال سے برصغیر میں آباد ہے۔
محققین اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ کھشوں نے اپنی نسبت سے کہیں جگہوں اور بستیوں کے نام رکھے ہمارے ہاں ریاست جموں کشمیر میں کھشتواڑ اور کھشال وادی اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ غیر مستند روایات کے مطابق کشمیر کا موجودہ نام بھی کھشوں کی دین ہے جو پہلے کھشمر یا کھشمیر اور بعد میں کشمیر اور کشیر ہو گیا۔
کھش قدامت کے اعتبار سے اریوں کے نزدیک ہیں اور انکا تعلق بذات خود اریوں سے رہا جنھوں نے برصغیر کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ گھوڑے کا سدھایا جانا انسان کی تہذیبی تاریخ کا انقلاب افریں مرحلہ تھا جس نے نقل و حمل اور جنگ و جدل کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا اور اس انقلاب افریں قدم کو عملی روپ دینے کا سہرا کھشوں کے سر ہے۔
کشمیر کے نام کے کھشوں سے تعلق کا کوئی واضع ثبوت نہیں البتہ ایک الگ قطعہ ارضی کے طور پر اس وادی کا کشمیر منڈل کے طور پر پانچویں صدی قبل مسیح میں پاننی نے اشٹ اودھیائے میں کیا ہے اسطرح وتستا وادی کا کشمیر یا کشیر نام ڈھائی ہزار سال پرانا ہے
کھش بھی برصغیر میں ہندو کش کو پار کر کے داخل ہوئے مگر انکا داخل ہونے کا راستہ ویدک اریوں سے مختلف تھا یہ لوگ اس علاقے سے گزر کر پھیلے جہاں پشاچ یا درد زبانیں رائج تھیں یہی وجہ ہیکہ پہاڑی زبان میں پشاچی کی ایک زیریں لہر اسی طرح نظر اتی ہے۔ اس طرح پہاڑی میں اوستا کے کچھ الفاظ بھی شامل ہیں جو کھشوں کے تہذیبی سفر کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پشاچوں کی طرح کھشوں نے بھی ان اریائی قبیلوں کی بالادستی قبول نہیں کی جو میدانی علاقوں میں اباد ہو کر اپنے اپکو زیادہ مہذب اور نمائندہ سمجھتے تھے ایک ہی نسل کے ہونے کے باوجود ان لوگوں کے تعلقات میں دراڑ پڑ گئی۔

میدانی علاقوں کے ویدک اریوں نے پہاڑی علاقوں میں بسنے والے اپنے بھاِئیوں کو جاہل ، پسماندہ اور نہ جانے کتنے نام دیکر کم تر سمجھا قلم چونکہ میدانی ویدک اریوں کے ہاتھ میں تھا اسلیے انکی بات کتابوں میں بھی رقم ہوئی مگر اس سب کے باوجود نہ پشاچوں نے اور نہ کھشوں نے میدانی علاقوں کے مکینوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور نہ اپنی ازادی پر انچ انے دی اپنی ازادی کو برقرار رکھنے کے لیے انھوں نے مشکل زندگی کو اسائش کی زندگی پر ترجیح دی
 کھشوں کی زبان آریائی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے مگر پشاچوں سے قریبی تعلق رکھنے کی بنا پر اس ہند آریائی زبان پر پشاچ زبانوں کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
گریرسن کی درجہ بندی کے مطابق پہاڑی زبان کے تین گروہ ہیں دور مشرق میں کھس کورا بولی جاتی ہے جسے مشرقی پہاڑی بھی کہتے ہیں اس زبان کا موجودہ نام نیپالی ہے کماوں اور گڑھوال میں بولی جانے والی پہاڑی مرکزی پہاڑی ہے۔
جبکہ آخر میں مغربی پہاڑی ہے جو جانسور ، ہماچل پردیش اور مغربی کشمیر میں بولی جاتی ہے لسانی اعتبار سے ہماچل اور مغربی کشمیر کی پہاڑی ایک ہی عنوان کے تحت اتی ہے ہمالیہ کی ترائی میں بولی جانے والی پہاڑی کی مختلف صورتیں ہیں جن میں جانساری ، سرموری، بھاگاتی ، کیو، منڈیالی ، چمیلی ،پنگوالی ، بلیسی اور پاڈری زیادہ مشہور ہیں ان بولیوں کے یہ نام علاقوں کی نسبت سے پڑے ہیں۔

مختلف پہاڑی بولیوں میں فرق جغرافیائی حالات اور تہذیب کی رنگا رنگی کے باعث ہے مگر ایک کثیر الجہت زبان ہونے کے باعث پہاڑی زبان میں ایک ہمہ گیر زبان بننے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اسکے بولنے والے اپنی دھرتی اسکے بولنے سے اپنا رشتہ استوار رکھتے ہیں یہی وجہ ہیکہ بیرونی زبانوں کی صدیوں کی بالا دستی کے باوجود یہ زبان اج بھی زندہ ہے پہاڑی کسان ، کاریگر ، چرواہے اور تعلیم یافتہ کی بول چال کی زبان ہے اسلیے اس بات کا امکان نہیں کہ کوئی اسکی جڑِیں کاٹ سکے ایک وسیع علاقے کی مادری زبان ہونے کے باعث اس زبان کے پنپنے کے بے حد امکانات موجود ہیں مختلف جغرافیائی خطوں میں رائج ہونے کے باعث اس میں ذخیرہ الفاظ ، اصطلات اور محاورات کا کثرت کے ساتھ ہونا ایک فطری عمل بھی ہے اور ایک مالامال زبان کی علامت بھی ۔

جموں کشمیر میں بولی جانے والی پہاڑی زبان بھی ڈوگری کی طرح ایک زمانے میں ٹھاکری مِیں لکھی جاتی تھی لیکن بعد میں اس رسم الخط کو قبولیت حاصل نہ ہوئی ہمارے ہاں اب یہ زبان نستعلیق اور دیو ناگری دونوں رسم الخط میں لکھی جاتی ہے ہماچل اور نیپال میں پہاڑی زبان پر خاصا کام ہوا ہے نیپال میں پہاڑی کی ایک شکل ملک کے ائین میں شامل ہے اور اسکو ائینی تحفظ حاصل ہے۔ 

ہماری ریاست جموں کشمیر میں اگر چہ پہاڑی بولنے والے مجتمع نہیں ہیں لیکن مشرق میں کھشال وادی سے شروع ہوکر مغرب سے ہوتے ہوئے شاردہ کے علاقے تک موجود ہیں ایک اعتبار سے پہاڑی بولنے والے وادی کشمیر کے گرد ایک دائرہ سا بنائے ہوئے ہیں ۔

کشمیر کے ساتھ تاریخی اور سیاسی اعتبار سے کھشوں کے تعلقات بہت گہرے رہے ہیں اور ایسا ہونا لازمی بھی تھا کیونکہ کشمیر کے ارد گرد کھش ہزاروں سالوں سے اباد ہیں اور ایک سیاسی قوت ہونے کے طور پر انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی قائم کی ہیں انیس سو سینتالیس تک کھشوں کے راجواڑے قائم تھے کھٹائی ، دوپٹہ وغیرہ اج تک زبان زد عام ہیں۔ پونچھ اور راجوری میں کھشوں کا اقتدار کافی دیر تک قائم رہا 

کھشوں کے ازدواجی رشتے کابل کے صغیر کشانوں  کے ساتھ تھے۔ کشمیر کی مہارانی دیدا کا ننھیال صغیر کشان تھے ۔مشہور مورخ البیرونی نے ابھیسار کے جن دو قلعوں کا ذکر اپنی کتاب کتاب الہند میں راج گری اور لوہر کوٹ کے نام سے کیا ہے وہ دونوں کھشوں کی عملداری میں تھے ۔ البیرونی لکھتا ہیکہ ان قلعوں سے اگے  کشمیر جانے کے لیے پروانہ راہدری کی ضرورت ہوتی ہے ۔

البیرونی لکھتا ہیکہ پونچھ پہنچنے کے باوجود سلطان محمود غزنوی لوہر کوٹ پر اپنا جھنڈا نہ لہرا سکا ۔کشمیر کی تاریخ میں کھش چھٹی صدی عیسوی میں ایک طاقت کے طور پر ابھرے تھے ہرکل نے کھشوں کو زیر کرنے کے لیے اور انکی تباہی کے لیے خاص اقدامات کیے تھے راج ترنگنی کے مطابق ناگوں کی طرح کھش بھی چھٹی صدی عیسوی میں اپنا سیاسی اور فوجی رتبہ قائم کر چکے تھے ؛۔

یل مت پوران کو قدامت کے اعتبار سے راج ترنگنی پر برتری حاصل ہے نیل مت پوران میں کھشوں کا ذکر ایا ہےمہارانی دیدہ کے طاقتور وزیر تذگ کو بھی اسٹین کھش مانتا ہے ۔مہارانی دیدہ کے بعد بارہویں صدی میں کشمیر کے سیاسی افق پر کھش حکمران بن کر ابھرے یہ حکمران خاندان تاریخ میں پہلا لوہر خاندان کہلاتا ہے اس خاندان کا پہلاراجہ راجہ سنگرام تھا جو پچیس برس تک اقتدار میں رہا اسی عہد میں محمود غزنوی کے بے حد کوششوں کے باوجود وادی کشمیر ان حملوں سے محفوظ رہی۔ پہلے لوہر خاندان نے 1003 سے 1101 تک کشمیر اور لوہر کوٹ پر حکومت کی اس کے بعد دوسرے لوہر خاندان کی حکومت قائم ہوئی جو محض تیس برس تک قائم رہ سکی ۔

بانہال اور مڈیو کے علاقوں میں بھی کھشوں کی عملداری رہی اسطرح مغل عہد کے بعد بھی راجوری اور اسکے اس پاس کے علاقوں میں بھی پہاڑی راجاوں کی بالادستی رہی۔ ریاست جموں کشمیر میں کھشوں کا جو اہم رول ماضی بعید سے رہا ہے اسکا نئے سرے سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ پہاڑی لوگ ماضی کے آئینے میں دیکھ کر اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں مگر یہ کام وقت طلب اور صبر ازما ہے اور اسکے لیے لگن اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے کہ تاریخ کی زرخیر مٹی سے مستقبل کے تناور پیڑوں کی کونپلیں پھوٹتی رہیں۔