میں نے میرپور ڈوبتے دیکھا

محمد اسلم ملک  

ستمبر 1965کی بھارت  پاکستان جنگ

ابھی  میرپور کالج میں کچھ وقت گزرا  اور ماحول سے واقفیت  ہوئی تووہ انجانا سا خوف اور ڈر اور کالج کی زندگی سے نا آشنائی  کا دباوؤجاتا رہا۔ لیکن سر منڈاتے ہ ی اولے پڑے کے مصداق ستمبر 1965   میں پاکستان اور  بھارت   کے مابین جنگ چھڑ گئی ۔ گھروں کے قریب  مورچے  کھودنے کے لیے  شہری دفاع والوں نے حکم صادر فرما  دیا۔

ہوائی  حملہ سے بچنے کے لے سائرن بجاے جانے لگے۔رات کو مکمل بلیک آوٹ ہوتا ۔سائرن بجتے ہ ہی مورچوں میں جانا معمول بن گیا۔ 

 نہ وہ عشق میں رہی گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں

   نہ  وہ غزنوی میں تڑپ رہی،  نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

اللہ اللہ کر کے پاک بھارت جنگ رکی،جنگ کے ایام بھی نہ بھلائے جانے والے ہیں۔پوری قوم کا جذبہ ایمانی، پاکستان سے محبت اور اپنی قومی افواج سے محبت اس وقت دیدنی تھا۔ان دنوں الیکٹرونکس میڈیا یا سوشل میڈیانہ تھا صرف ایک ریڈیو پاکستان تھا جس سے خبریں نشر ہوتیں تو لوگ جہاں ریڈیو پاتے سننے کو جمع ہو جاتے ۔ لاری اڈا کے ایک ہوٹل پر ریڈیو ہوتا تھا۔بہت لوگ خبریں سننے وہاں جمع ہوتے اور بڑی توجہ سے خبریں سنتے ۔

بقول صدر پاکستان ( ایوب خان) دشمن نے کس بہادر قوم کو للکاراہے۔ یہ الفاظ زبان زدعام تھے اور خبریں پڑھنے والے ریڈیو پاکستان کے براڈکاسٹر  شکیل احمد ان دنوں اپنی گرجدار آواز سے بہت شہرت پا چکے تھے ۔ اور لوگوں کا ایک پسندیدہ کردار  بن گیے تھے -بہر  کیف تھوڑے ہی دنوں بعد جنگ بندی ہو گئ ۔سکون کا سانس لیا۔ تسلسل سے کالج جانا شروع ہوااور مصروفیات بہتر ہوئیں اللہ اللہ کر کے۔

کشمیری مہاجرین کی آمد 

    جنگ کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر سے کشمیری مہاجرین کا آنا  ایک فطری عمل تھا -میرپور میں زیادہ مہاجرین راجوری اور نوشہرہ مہنڈر سے ہجرت کر کے آۓ-اللہ ایسا وقت کسی پر نہ لائے۔ بچے، بوڑھے جوان اور بیمار۔سب لوگوں نے کالج گرؤنڈ آ کے ڈھیرے ڈالے ۔مقامی لوگوں نے بڑے کھولے دل کا مظاہرہ کیا اور خوب امداد دی۔لیکن ان دنوں معاشی  طور پر حکومت اور عوام مضبوطنہ  تھے غیر ملکی این جی اور ملکی امدادی ادارےبھی بہت کم یعنی نہ ہونے کے برابر تھے اس وقت صرف ھلال احمر امدادی کاموں میں مصروف عمل تھی۔برکیف مھاجرین نے وہ وقت بڑی کسم پرسی میں گزارا۔

میرپور پانی میں غرقاب ہو گیا 

 ان دنوں منگلا ڈیم کا پانی روکا جا چکا تھااور تواتر سے پانی  اوپر چڑھ رہا تھا۔پرانے میرپور کے شہریوں کو شہر خالی کرنے کے باربار نوٹس ملے آخر کار تمام لوگ آبائی مسکن جس میں صدیوں سے ان کے آبا آباد تھے کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہتے چھوڑ چلے وہ اپنے اجڑتے ،ڈوبتے گھروں اور دالانوں کو حسرت بھری دیکھتے رہے اور آہوں وسسکیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے چھوڑ چلے ۔

منگلہ ڈیم ان دنوں مکمل ھو چکا تھا کچھ ھی ماہ بعد پانی روک دیا گیا تھا ان آنکھوں نے وہ بھی منظر دیکھا کہ پانی چڑھتے چڑھتے پورے میرپور ھزاروں سال سے آباد شہر کو ڈبو گیا ۔

سب سے آخر چوک لوھاراں والا وہ بلند و بالا مندر جس کا پیتل آخر تک نظر آتا رھا۔ تقریباً” ۱۰۰ مربع میل پر پھیلے ھوے اس پانی کے زخیرے نے سیکڑوں چھوٹے بڑے گاوں معاش، معاشرت اور تاریخ کو ڈبو دیا۔

اتنی پرانی تہذیب و تمدن یہاں کے آباد لوگوں کے اباو اجداد کی قبریں اور سب کچھ چھوڑ کر جب ھجرت کی ھو گی تو وہ وقت ان کے لیے ایک المیہ سے کم نہ ھوا ھو گا۔

کچھ دیر تک وھاں کھڑا تاریخ کے جھروکوں میں گم کھڑا یہ سوچتا رھا کہ نہ جانے ان تمام علاقوں کے وہ مکین کس کس جگہ کہاں کہاں وہ اپنی زندگی کے ایام گزار کے اس دنیا سے چلے گئے اور کچھ گزار رھے ھوں گے۔ نہ جانے نسل انسانی میں کتنے انقلاب آچُکے اور کتنے آنے باقی ہیں۔ اب منگلا کی کہانی یقیناً”ایک  تاریخ کا حصہ بن چکی ہے –

آسیب زدہ میرپور شہر

اس وقت میرپور کا خوبصورت شہر جنات یا کسی اور مخلوق کا مسکن لگ رہا تھا۔کشمیری مہاجرین کی ایسے میں چاندی ہو گئی ۔وہ پورا شہر خالی دیکھ کرسرعت کے ساتھ مکانوں میں داخل ہو گے۔کچھ ماہ بڑے سکون سے رہے لیکن پانی بھی تیزی سے چڑ ھتا رہا۔

گورنمنٹ کی مہاجرین کو نکالنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی۔اخر جب سی ایم ایچ والا نالہ اور پوٹھہ بنسی والانالہ جس پر جڑی ڈیم بنا، آپس میں ملے اور پرانا میرپورجھیل نماایک ٹاپو نظر انے لگا -ایسے میں مہاجریین نے چیخ و پکارکی  کہ ہمیں بچاؤ  تو حکومت نے لانچوں پر مہاجرین کو نئے میرپور ہٹیاں سے نیچے ڈیم کے کنارے شفٹ کیا تااہم اب بھی ان کے حالات بہت خراب رہے ۔

 اب میرپور پورا شہر پانی نے گھیر لیا تھا۔ وہ شہر اور وہ زمین جس نے صدیوں سے اپنے اوپر بسائے رکھا اور مرنے والوں کو پیٹ میں سنبھالے رکھا۔آج وہی زمین مجبور و مہقور اپنے آپ کو بھی نہ بچا سکی۔اب دیکھتے ہی دیکھتے پورا میرپور شہر کردونوح گاؤں وادیاں سب پانی کی آغوش میں آ چکے۔میرپور شہر کا چوک لوہاراں والا مندر جسکا بلند و بالا پیتل اپنے شہر کی نشان دہی کرتا رہا اخر ایک دن وہ بھی ایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے انکھوں سے اوجھل ہو گیا۔اور پرانے میرپور کی کہانی ایک قصہ پارینہ بن چکی۔

میرپور شہر جھیل میں تبدیل

اب “100” مربع میل زمین ایک پانی کی جھیل میں تبدیل ہو چکا تھا ۔ اب نیو میرپور ھٹیاں سے نیچے ڈیم کے کنارے وہ کشمیری جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پرانے میرپور ائے تھے پانی انے پر انہیں اٹھا کر لانچوں کے ذریعے ڈیم کے کنارے ڈال دیا گیا جو کسمپرسی کی حالت میں وقت گزار رہے تھے ان کا کوئی پرسآن حال نہ تھا۔

گاؤں پوٹھہ بنسی

پرانے میرپور سےشرق کوغالبا” تین میل کے دوری پر واقع بینسوں(وینسوں)کا مشہور زرخیز علاقہ اؤں پوٹھہ بنسی ہے جو تعلیم سے اراستہ  مردم خیز خطہ ہے -ازادکشمیر کے کچھ اکابرین جیسے کہ چوہدری محمد یوسف سابق سکرٹری تعلیم جو حیات ہیں اور میرپور میں کشمیر ماڈل کالج کے نام سے ایک ادارہ کی سرپرست ہیں اسی  گاؤں کے تھے- ایک خاص بات کہ کوٹلی میں اباد وینس برادری کے اباؤاجداد غالبا” پوٹھہ بینسی سے یہاں آئے-

پرانے میر پورشہر کی یاد گاریں 

ابھی کچھ ماہ پہلے اسلام گڑھ سے اندر ڈیم کی طرف جانے کا اتفاق ہوا ڈیم کا پانی بہت پیچھے ہٹ چکا ۔ کنارے پرایک بڑا قبرستان پانی اترنے پر سبزہ اگ چکاتھا ۔ ساتھ ایک دربار صاف ستھرا نام میاں میراں شاہ لکھاتھا ۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہر سال پانی چڑہنے پر یہ دربار، قبرستان مکمل ڈوب جاتے ہیں۔ قریب ایک بہت پرانا کنواں،ایک پانی کی باولی اور تھوڑے فاصلے پی ایک مندر بھی اسی حالت میں موجود دیکھا، جو ہندو مسلم ایک ہی معاشرت کےباسی ہوئے۔

اسی سے گزر کر روڈ پرانے میرپور جاتی تھی اسی سے تھوڑا جنوب کی طرف موجودہ وریام پل مدتوں سے بن رہا ہے یہ سب آثار منگلا ڈیم ہیں۔

میر پور شہر کل اور آج 

   نیا میرپور آزاد کشمیر کا واحد شہر ہے جو نقشہ پہ بنایا گیا ۔جدید اور خوبصورت عمارتیں ، پختہ چوڑی سڑکیں  سیورج کا جدید نظام ، الھاذالقیاس سب کچھ جدید لیکن گرمی بہت -جب نیا میر پور نیا نیا آباد شہر آباد ہو رہا تھا درخت کا نام نہیں تھا -تمام علاقوں میں پانی کی بھی قلت تھی جو جلد کنٹرول کر لیا گیا۔اس وقت جو جو کام ہوئے بہت معیاری تھے -رشوت اقربا پروری ، دھاندلی بہت کم تھی۔