شبیر احمد ڈار

      ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم اور غاصبانہ قبضے سے ہم سب ہی باخبر ہیں . اس ستم وظلم کی وجہ سے لاکھوں گھرانے اب تک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے. تحریک آزادی کشمیر  کا جذبہ لے کر  آزادکشمیر میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے  انہیں “مہاجرین جموں کشمیر ” کے نام سے پکارا جاتا . مہاجرین جموں کشمیر 1990-1989ء بھی ان میں شامل ہیں جنھوں نے اپنا گھر بار ، عزیز و اقارب ،زرمبادلہ سب کچھ تحریک آزادی کشمیر  کے لیے وقف کیا اور آج آزادکشمیر کے مختلف کیمپوں میں آباد ہیں .مہاجر ہونا ایک اعزاز کی بات ہے اور مہاجر ہونا سب سے مشکل  کام بھی  ہے . 

   مہاجرین جموں کشمیر 1990ء مقبوضہ کشمیر کے مختلف شہروں سے ہجرت کر کے بیس کیمپ آزادکشمیر میں داخل ہوئے ان میں زیادہ تر مہاجرین کا تعلق مقبوضہ ضلع  پونچھ ، اوڑی اور دیگر علاقوں سے ہے .یہاں جب یہ داخل ہوئے تو پاک فوج ،حکومت پاکستان ، حکومت آزادکشمیر اور مقامی آبادی نےانہیں خوش آمدید کہا اور انہیں بنیادی سہولیات فراہم کی . مقامی افراد کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے جس طریقے سے انہوں نے مہاجرین گھرانوں کو اپنے گھروں میں آباد کیا اور ان کو بنیادی سہولیات دیں  تاریخ میں ان کا نام سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا .

وقت گزرنے کے ساتھ ریاست آذادکشمیر کے مختلف اضلاع  میں مہاجرین کی عارضی آبادکاری کی گی .اس وقت جو آبادکاری کی گی وہ اس دور کی آبادی کو مدنظررکھ کر کی گی مگر حال میں (تیس  سال گزرنے کے بعد )یہ مسلہ شدید نوعیت اختیار کر چکا ہے .تیس  سال قبل جو جگہ دی گی وہ دو سے تین کمروں کی تھی جہاں دو سے تین  افراد زندگی بسر کر سکتے  مگر اب ان دو کمروں میں آٹھ  سے دس  افراد جوں توں کر کے زندگی بسر کر رہے . خوشی و غمی کے موقع پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا . 

  گزشتہ کچھ ایام  سے مہاجرین جموں کشمیر 1990ء کی آبادکاری کی خبریں گردش کر رہی. جو ایک احسن اقدام ہے مگر مہاجرین کے مطالبات کو بھی ذہن نشین رکھا جانا چاہیے . سب سے پہلے یہ بات احکام بالا کو ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان مہاجرین کی ہجرت کا جو بنیادی مقصد تھا وہ تحریک آزادی کشمیر ہے اس پر کسی بھی صورت میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا . دوسری بات ان مہاجرین نے گزشتہ تیس سال میں جو کمایا اپنے گھروں کو آباد کرنے میں خرچ کیا لہذا یہ گھر مستقل طور پر ان کے نام کر دئیے جائیں .

 ان مہاجرین کو زمین کی اشد ضرورت ہے ہر شادی شدہ گھرانے کو الگ سے زمین الا  ٹ کی جائے اور وہ کسی بیابان جنگل میں یا صحرا میں نہ ہو بل کہ جہاں ضروریات زندگی کی تمام سہولیات میسر ہوں . آبادکاری کی صورت میں مہاجرین کا گزارہ الاونس اور 6 فیصد کوٹہ بحال رکھا جائے . ہر شادی شدہ افراد کا الگ سے مہاجر کارڈ جاری کیا جائے . مستقل آبادکاری کے بعد ان مہاجرین کو یہ حق دیا جائے کہ وہ ویزہ کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جانے کا حق رکھتے ہیں ان کو اپنے عزیزو اقارب سے ملنے کا حق دیا جائے .

  یقینا مہاجرین جموں کشمیر کے لیے حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس میں مہاجرین کی رضامندی کو شامل رکھے گی کوئی بھی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جس سے افراتفری پھیلے . مہاجرین جموں کشمیر تحریک آزادی کشمیر کے حقیقی ہیرو ہیں انہوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں تاریخ میں ان کا نام سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا . ان شاء اللہ  بہت جلد کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہو گا .