کہانی کار: خواجہ رئیس الدین / تصویر  بشکریہ محکمہ آثار قدیمہ آزاد کشمیر

وادی لیپہ میں موجود یہ گھر جسے مقامی زبان میں لڑی (حویلی) کہتے ہیں کشمیری ثقافت اور فن تعمیر کی جھلک لیے موجود ہے۔۔اب اسکی حالت بہت خستہ ہو چُکی ہے۔کچھ خاندان ابھی بھی اس میں آباد ہیں۔۔۔۔اب اطلاعات ہیں کہ محکمہ آثار قدیمہ نے اس گھر کو قومی ورثے میں شامل کرتے ہوئے تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔اگر آپ اسکی مالیت کا اندازہ کریں تو کروڑوں کی لاگت سے بھی تیار نہیں کیا جا سکتا اب۔۔۔دیودار کی نایاب اور قیمتی لکڑی سے بنا یہ گھر کسی عجوبہ سے کم نہ ہے۔۔۔۔