تحریروتصاویر: حبیب گوہر

قلعہ آئن ، ہلاڑ ، تحصیل سہنسہ آزاد کشمیر میں دریائے جہلم کے غربی کنارے پر ایک پہاڑی چوٹی پر ہے۔ تحصیل کہوٹہ میں دو جگہ سے دریا ئے جہلم عبورکیا جا سکتا ہے۔ ایک آزاد پتن اور دوسرا ہلاڑ۔ ہلاڑ سے سہنسہ جاتے ہوئے پانچ منٹ کی پیدل مسافت پر بائیں جانب نالہ گوئیں کے سبز پانیوں پر بنے پل کو کراس کریں تو ایک سڑک تحریک آزادی کشمیر کے باوقار سپوت اور عظیم سماجی لیڈر کرنل خان محمد خان کے گاؤں’’چھے چھن‘‘ سے ہوتی ہوئی آزاد پتن تک جاتی ہے۔چھے چھن سے آزاد پتن کا فاصلہ تقریبا 13کلومیٹر ہے۔ جب کہ بائیں ہاتھ ایک پتھریلی سڑک دریا کے پہلو بہ پہلو قلعے کی طرف جاتی ہے۔

ہلاڑ سے آئن تک تین گھنٹے کی ہائیک ہے۔ اگر آپ چاہیں توموضع ’’تل‘‘ تک جیپ یا 125پر جا سکتے ہیں۔ لیکن نصف مسافت پر واقع ’’تل ‘‘گاؤں سے آگے روڈ کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ تل گاؤں سے یہ قلعہ نظر آتا ہے۔سڑک قلعے کے قریب گاؤں ’’آئن‘‘ تک چلی گئی ہے۔لیکن اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ آثار سے لگتا ہے کہ پندرہ بیس سال پہلے روڈ بنایا گیا تھا لیکن carpeting نہ ہونے کی وجہ سے مٹی اور بجری بہہ گئی ہے اور نوکیلے پتھر رہ گئے ہیں۔سڑک اور قلعے کے درمیان 20منٹ کی پیدل مسافت ہے۔

تہذیبوں کی طرح قلعوں کا دریاؤں سے گہرا تعلق رہا ہے۔ زیادہ تر قلعے دریاؤں کے دھانے پر بنائے جاتے رہے ہیں۔دریا نہ صرف پانی کی فراہمی کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک قدرتی دفاعی حصّار اوراشیاء کی ترسیل کا ذریعہ بھی ہیں۔اس کے علاوہ اکثر و بیشتر دریا ممالک کے درمیان سرحدوں کا کام بھی کرتے ہیں ۔ اس لیے سرحدوں کی حفاظت کے لیے ان کے دھانے قلعے تعمیر کیے جاتے ہیں۔قلعے کی لوکیشن دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اس جگہ دریا کا پھیر ہے۔دائیں، بائیں اور سامنے دریا ہے۔پشت پر دور گاؤں نظر آ رہا ہے۔مشرق میں کہوٹہ کا بڑا علاقہ خصوصاً پنجاڑ سے پونا تک نظر آتا ہے۔قلعہ سائز میں چھوٹا ہے۔ آپ اسے سرحدی یا پولیس چوکی یا واچ ٹاور کہہ سکتے ہیں۔

قلعے میں ایسی کوئی تختی یا تحریر نہیں ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ کس نے کب اور کن مقاصد کے تحت تعمیر کروایا ہے۔لیکن اگر کشمیر کی تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو کسی تختی و تحریر کی ضرورت نہیں رہتی۔

آزاد کشمیر میں موجود زیادہ تر قلعے گکھڑوں(قلعہ منگلا ،قلعہ تقلو،میرپور )،منگراں حکمرانوں(قلعہ تھروچی ،گلپور) اور ڈوگروں(قلعہ آئن،قلعہ بھیرنڈ ،قلعہ بارل اور منگ( نے مقامی قبائل(خصوصاً سدھن) پر نظر رکھنے کے لیے بنائے۔ گلاب سنگھ نے کشمیریوں خاص کر سدھن قبیلہ کے خلاف انتہا کاظلم کیا ۔ہزاروں کی قلم کی ہوئی گردنوں کے پلندری کے مقام پر انبار لگائے گئے۔

معززین کی کھالیں کھینچ کر ان میں بھوسہ بھراگیا تاکہ عوام پرڈوگروں کی ہیبت طاری رہے۔ لیکن وہ شاید اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ظلم جب حد کو کراس کرتا ہے تو بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔اس ظلم کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے نتیجے میں بیگار کی سختیوں میں نرمی آئی۔ تیرنی ٹیکس اور دوسرے ٹیکسوں میں رعایت دی جانے لگی۔ اسی طرح حقِ ملکیت مستحکم ہوا اور جنگلات کے درختوں کے استعمال کی اجازت ملی۔

قلعے کی موجودہ شکستگی اس جبر اور رعونت کی موت ہے ، جو ڈوگروں نے نہتے عوام پر روا رکھا۔

تاریخ سدھنوں کی سرکشی سے بھری ہوئی ہے۔اس بے بہا جذبے کو جب کرنل محمد خان چھے چھن نے اپنی حکمت اور فراست سے تنظیمی شکل دی تو ڈوگرا راج لرز اٹھا۔ ان پر قابو پانے کے لیے دریا کے دھانے بہت سے قلعے تعمیر کیے گئے۔ سدھنوں کی تعلیم و تنظیم پر جو کام کیا وہ ایک تاریخ ہے۔

تحریک آزادی کشمیر کے ضمن میں آپ کے کردار کا تجزیہ کیا جائے تو آپ کی حکمت اور فراست کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔تعلیمی اور سماجی منصوبوں کے علاوہ آپ نے مجاہدین کی خوراک کی کے لیے مٹھی آٹا سکیم کا اجرا کیااورانہیں ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے وسائل مہیا کیے۔چھے چھن، پانہ، پنجاڑ اور راول پنڈی میں آپ کے معتبر اور پر اعتماد لوگوں سے رابطے تھے۔

رائفلیں اور دیگر ہتھیار ان محفوظ ہاتھوں سے ہوتے ہوئے ہلاڑ اور آزاد پتن کے درمیان کسی محفوظ جگہ سے موقع محل کی مناسبت سے کشتیوں، تیراکوں یا لکڑیوں کے گھٹے بنا کر دریا پار کرائے جاتے تھے۔ اکثر اس کے لیے ’’پانہ ‘‘کا علاقہ استعمال کیا جاتا تھا۔تقسیمِ ہندکے کچھ ہی ماہ بعد قلعہ آئن صوبیدار باروخان شہیدکی قیادت میں فتح ہواتب سے قلعے کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اس طرح گزشتہ 65 سال سے یہ ویران پڑا ہے۔

قلعہ شکستہ حالت میں ہے۔ قلعے کی فصیل میں دراڑیں نمایاں ہیں۔اس کا مرکزی دروازہ دریا برد ہو چکا ہے۔

قلعہ تک ’’پونا ‘‘کا پل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ٹریک مشکل اورفاصلہ زیادہ ہے۔جو لوگ مشکل ہائیک کے عادی نہ ہوں وہ سہنسہ کے مغرب میں’’ قلعہ بھیرنڈ‘‘دیکھنے جا سکتے ہیں۔ پنڈی کوٹلی روڈ سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔یہ بھی پہاڑی کی چوٹی پر ہے۔دونوں کی رقبہ اورطرزِ تعمیر تقریبا ایک جیساہے۔ یہ قلعہ نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔

قلعہ تین اطراف سے تند ہواوں کی زد میں ہے۔اس کا اندازہ قلعے کی شکستہ فصیل کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ قلعے کے دو دروازے تھے۔قلعہ کا مرکزی حصہ دریا کے کنارے تک پختہ تھا ۔ دریاکی تندو تیز طغیانیوں کی وجہ سے اس کایہ حصہ دریا برد ہو چکا ہے۔لیکن آثار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ بائیں طرف کا دروازہ بھی موجود نہیں۔ یہ حصہ جزوی منہدم ہو چکا ہے اور بقیہ بو سیدہ ہے۔

قلعہ چھوٹا ہونے کے باوجود حسن تعمیر و ترتیب رکھتا تھا ۔قلعے کے اندر کی کل تعمیرات منہدم ہو چکی ہیں۔ زیر زمین تہہ خانوں کا نام و نشان نہیں اور ان میں مٹی بھر چکی ہے ۔قلعہ تین حصوں میں تقسیم ہے ۔مگر اب اسے پتھروں کا قبرستان کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔

زندہ قومیں آثارِ قدیمہ کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں ان آثار کی حفاظت کا کچھ خاص اہتمام نہیں کیا جاتا ۔پتھروں کا بنا ہوا اس قلعے کاآخری سانسیں لیتا ہوا ڈھانچہ کسی تیز ہوا کے جھونکے کا منتظر ہے۔

دریائے جہلم پر ’’نیلم جہلم ‘‘اور ’’کوہالہ پاور پراجیکٹ ‘‘ کے بعد یہاں 720میگا واٹ کا’’ کروٹ ہائیڈل پاور پراجیکٹ ‘‘ہے ۔اس کی تخمینہ لاگت ایک کروڑ 40لاکھ ڈالر لگائی گئی ہے ۔اس منصوبے کا کام پاکستان کے وزارت پانی و بجلی کے ماتحت ادارے نے چین کی تین تعمیراتی کمپنیوں پر مشتمل کنسوریشیم کو الاٹ کیا ہے۔

ڈیم کے دو سپل وے بنائے جائیں گے جن کی بلندی 91میٹر ہو گی۔ اس کی مدت تکمیل 8سے 10 سال ہے۔کام کا آغاز ہوئے ایک سال ہو چکا ہے۔ پنڈی سے ہلاڑ تک سڑکوں پر جاری تعمیراتی کام اسی پاور پراجیکٹ تک ہیوی مشینری اور عملے کی رسائی کے لیے کیا جا رہا ہے۔