محسن شفیق 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
بندہ صحرائی یا مرد کہستانی

انسان شاید فطرت کی گود میں پناہ لینے والی آخری مخلوق ہے۔ خالق حقیقی نے اپنی اس مخلوق کو فطرت کے سپرد کرنے سے پہلے تمام ضروری احسانات سے مزین فرمایا تھا۔ پھر اسی کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نمائندے بھی بھیجے۔ یوں خالق حقیقی نے اپنی طرف سے کوئی کسر سر نہ اٹھا رکھی کہ کل کلاں انسان دنیامیں فطرت کے تھپیڑوں کا سامنا کرنے میں خوار نہ ہو۔

انسان کو فطرت کے مقاصد اور اصول بتائے گئے، اسے اناج اگانے سے لے کر اناج کو خوراک، خوراک کو زود ہضم نوالے اور پھر اس نوالے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی توانائی، توانائی کے درست استعمال اور ہضم شدہ خوراک کے اخراج کی تمیز تک سکھائی۔

مگر انسان نے اس گود سے باہر چھلانگ لگاتے ہی آنکھیں بدل لیں۔ وہ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کی بجائے فطرت کو تسخیر کرتے ہوئے خود فطرت کو اپنی نگہبانی کرنے پر مجبور کرنے لگا ۔ جہاں خالق حقیقی نے انسان کو عقل اور اختیار سے نوازا، وہیں فطرت کو بھی اپنی حفاظت کے گر سکھائے اور فطرت کو مزاحمت کا آٹومیٹک ہتھیاروں سے لیس سسٹم عطا فرمایا۔

انسان نے جب بھی فطرت کی سرحدیں پامال کرنے کی کوشش کی، اس خود کار نظام نے انسان کو مار مار کر بھگایا اور بھگا بھگا کر ادھ موا کر دیا۔

انسان کو تمام مخلوقات میں عقل کی طاقت سے نوازا گیا، یہ عقل کی گتھی اور کسی مخلوق کے حصے میں نہیں آئی، انسان نے اس طاقت کے بل بوتے اپنے سے کمزور مخلوقات کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ خدا کی پناہ۔ جنگلات کی نسل کشی سے آغاز کیا اور جنگل کے باسیوں کو موت کی نیند سلاتا چلا گیا، کچھ کو غلام بنا لیا، کچھ کو پکا کر اور کچھ کو زندہ ہی چبا جاتا رہا۔

فطرت کی امانت میں خیانت کا یہ عمل پانیوں تک وسیع کیا، پانی کو اپنی بھاری مشینری کی مدد سے کہیں سے کہیں لے گیا۔ یوں انسان فطرت کی بدعائیں سمیٹتا سمیٹتا، خلاؤں سے ہوتا ہوا چاند پر جا پہنچا، وہاں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور چاند کی سطح سے بھی جو ہاتھ لگا اٹھا لایا۔

فطرت انتہائی خاموشی سے یہ تماشا دیکھتی رہتی ہے، کہیں انسان کو اس کی حدود اور اپنے لا تعداد احسانات یاد کروانے کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں کان کھینچے، مگر انسان اپنے کان چھڑا کر آنکھ بچا کر آگے نکل گیا۔ فطرت نے اپنی حفاظت کے لیے بہت بار اپنے لشکر بھی بھیجے جو انسانوں کے اجتماعی قاتل ثابت ہوئے، کروڑوں کی تعداد میں انسانوں کو آن کی آن میں صفحہ ہستی سے مٹا گئے مگر یہ انسان پھر بھی باز نہیں آیا اور ہر بار اپنے کپڑے جھاڑ کر نئی واردات کے لیے رخت سفر باندھتا رہا۔

پچھلے دو سے تین سو سال میں انسان نے فطرت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہوا تھا وہ انتہائی نامناسب تھا، اب تو انسان جنگل کے باسیوں کو جنگل سے نکال کر عالمی منڈیوں تک لے آیا، اس کے کاروبار کے بازار لگائے، جہاں قانون کا سہارا میسر نہیں تھا وہاں سمگلنگ کی سہولت سے فائدہ اٹھایا، ان بے زبانوں کی یخنیاں تک بنا بنا کر پی گیا۔

اور تو اور اب تو جانوروں کی غیر فطری افزائش نسل اور پیداوار بڑھانے کے غیر فطری عمل کے تجربے کیے جا رہے تھے کہ فطرت انسان کے جانوروں کے ساتھ جانور بننے پر نالاں ہوئی اور ایک معمولی نوعیت کا جرثومہ انسان کی سانس کی ناکہ بندی کے لیے تعینات کر دیا۔ فطرت نے انسان کو بتا دیا کہ جانور بننا مشکل کام ہے، کہ پہلے ایک جراثیم کے ساتھ اپنی ہم آہنگی پیدا کر لو باقی کی بعد میں دیکھ لیں گے۔

فطرت کے اس سادہ سے جواب نے انسان کو بے بس اور لاچارکر کے رکھ دیا ہے۔ انسان اب دن رات اس جانوری تحفے سے جان چھڑانے کے لیے جونجھ رہا ہے۔ ساری مال و دولت، غیض و غضب، ایٹمی ہتھیار، جاہ و جلال خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔ فطرت نے پلٹ کر ایسی کاری ضرب لگائی ہے کہ انسان کو اپنی عقل اور حواس پر قابو نہیں رہا۔ انسان کو ہی جراثیم بنانے والی فیکٹری بنا دیا ہے اور للکارا بھی کہ اب جانور تو جانور کسی انسان ہی کے قریب جا کر دکھاؤ۔

انسان کو اس بے اوقات جرثومے نے بدتر انداز میں قید کر دیا ہے۔ انسان سے اس کے پھیپھڑے ہتھیا لیے ہیں۔ انسان کو کھانسنے، چھینکنے اور ناک پونچھنے کے بیگار پر لگا دیا ہے۔ اب انسان کو سجھائی نہیں دے رہا کہ وہ کرے تو کیا کرے، نہ ہی یہ دشمن نظر آتا ہے اور نہ ہی ایٹم بم کی دھمکی دیتا ہے۔ یہ تو آنکھ کا مہمان بھی بن جاتا ہے، کان کو بھی مسکن بنا لیتا ہے، ناک میں بھی گزارا کر لیتا ہے اور منہ تو اس کے لیے ہر وقت کھلا ہوا ہے۔

اب جبکہ انسان شکست سے دو چار ہو چکا ہے، اس لیے اسے اب اسے صدق دل سے شکست قبول کر لینی چاہیے اور اپنی ان حرکتوں سے باز آ جانا چاہیے جو بار بار فطرت کے ٹھڈے اور انسان کا درمیانی فاصلے کم کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ انسان کو مان لینا چاہیے کہ فطرت کے خلاف جنگ میں وہ ہمیشہ سے شکست خوردہ رہا ہے۔

انسان اب فطرت کے احسانات کو یاد کرے، اس کے پاؤں پڑے اور اس کی گود میں پلنے کی دہائی دیتے ہوئے معافی کا خواستگار ہو، اب ضرورت ہے کہ وہ فطرت کو اور خود کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے فطرت سے بقائے باہمی کے معاہدے پر دستخط کروا لے۔ اب فطرت کو یقین دہانی کروائے کہ وہ بندہ صحرائی ہو یا مرد کہستانی، فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کرے گا۔ نہیں تو فطرت یوں ہی چابک دستی سے کام لیتی اور انسان کو ہانکتی رہے گی۔ فطرت کا تو ایک مردہ جرثومہ ہی کافی ہے البتہ انسان کے وسائل کثیر تعداد میں صرف ہوتے رہیں گے۔