شیراز انجم

ظرف شرافت سے،صداقت ڈھونڈھ لینا تم 

اس عهدظلمت میں،رفاقت ڈھونڈھ لینا تم 

شب ظلمت کٹتی ھے فروزاں  سحر ھوتی ھے
چڑیوں کے چہچانے سے لطافت ڈھونڈھ لینا تم

چلنا حق کی راهوں پہ،ٹھوکروں سے سنبھلنے کو
لگے جب بھی ٹھوکر تو عدالت ڈھونڈھ لینا تم

اگر علم کے موتی بھی ، کبھی  بچوں میں بانٹو تو
جب مانگیں کتابیں وہ ،کفالت ڈھونڈھ لینا تم

کہیں فکرفاقہ میں،اندھیروں میں نہ جا چھپنا

یہ دن بھی گذریں گے،نفاست ڈھونڈھ لینا تم