سردار خورشید انور


آشفتگی کے ہیں چونچلے، جو حسن  ہے  جمال  ہے

کہیں رک گئی داستاں ،کہیں زندگی کا سوال ہے

خواہشات کی پوٹلی، جو شانوں پہ ہے ،دفنانی ہے

جبھی تو ان دنوں، میرے ہاتھوں. میں کدال ہے

مجھ پہ کیا بیت گئی، تجھے اس سے غرض نہیں

کس حال میں کوئی جیتا ہے،کیا کسی کاحال ہے

خیال نگر کے باسی ہیں ،پھر کیا تکلف روبرو

میں بھی اک خیال ہوں، تو بھی اک خیال ہے

عشق، وقت کا دریا ہے. قید عمر نہیں جانتا

حسن اسیر وقت ہے ، بلاخر اسے زوال ہے

عشق تو ترنگ ہے ،خدوخال سے ہے ماورا

غرض اسکی، فرقت ہے، ملن ہے، نہ وصال ہے

حسن، فقط اک چاشنی، عشق تو مخیر ہے

کیا. وه ہمسری کرے، اسکی کیا مجال ہے

انور تجھ سے بدگماں ،کہیں ہونگے ترے سائباں

اب رکهنا قلم کی آبرو.، یہی تو زرق حلال ہے

خورشید انور