مصنّف: جاوید خان/ تبصرہ نگار : قیوم راجہ/

آزاد کشمیر کے کوہ قاف تولی  پیر راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان مدرس، کالم نویس اور محقق جاوید خان نے یونیورسٹیوں سے منسلک چند علمی شخصیا ت کے ہمراہ 2017 میں گلگت بلتستان کا ایک مطالعاتی دورہ کیا ۔ جسکی روئیداد عظیم ہمالیہ کے حضور کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب کی شکل میں سامنے آئی۔

مصنّف کا انداز تحریر انتہائی دلچسپ ، دلنشیں اور اعلٰی ادبی اصولوں و اوصاف کا مظہر ہے۔ کسی بھی کتاب کے مطالعہ کا مقصد اگر وقت گزاری کے بجائے کسی خطے کی سیاسی جغرافیائی تقافتی و تمدنی تاریخ سے روشنائی حاصل کرنا ہے تو پھر گلگت بلتستان سے جانکاری کا شوق رکھنے والے اس کتاب سے ضرور مطمئن و مستفید ہونگے۔  یہی نہیں بلکہ مصنف نے جموں کشمیر کے سر گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو، نانگا پربت خوبصورت جھیلوں ، نہروں پولو کے میدانوں دیو مالائی پہاڑوں اور دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے اس خطے کی جغرافیائی اہمیت و حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ آیا تاریخ کے ہر دور میں عالمی طاقتوں کے لیے یہ خطہ کیوں اہم رہا مگر بد قسمتی سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ تاریخی حقیقت باور کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

اقتصادی نا ہمواری کی وجہ سے ملک کی ایک بھاری تعلیم یافتہ نوجوان کی کھیپ بیرون ملک بوجہ خاندانی کفالت جانے پر مجبور رہی اور جو یہاں رہتے ہیں انہوں نے بھی اپنے وطن کی سیر و تفریح کی کم ہی کوشش کی۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ میری کائنات میں جی بھر کر گھوم پھر کر دیکھو سنو اور سیکھو۔ جاوید خان نےاسی اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنا سفر نامہ لکھا ورنہ وہ صاحب علم اور فہم فراست تو ہیں لیکن صاحب ثروت نہیں۔ 

نوجوان نسل کے لیے اس کتاب میں وہ سب کچھ ہے جس کی وہ علمی و ادبی حوالے سے جستجو کر سکتا ہے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی قاری اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مصنف اور انکی مطالعاتی ٹیم میں شامل جناب طاہر یوسف اسسٹنٹ رجسٹرار باغ یونیورسٹی،  عمران رزاق پونچھ یونیورسٹی ، ظہور احمد خان اور ظفر حیات صاحب کو داد دیے بنا نہ رہ سکے گا۔