تحریر: پی۔ ایچ۔ طائر

شفیق راجا اردو شاعری میں نووارد نہیں اسے اس دشت کی سیاحی میں تقریباً نصف صدی ہو چکی ہے ۔ 1968ء میں ہائی سکول باغ کو انٹر میڈیٹ کالج کا درجہ دیا گیا۔ اس سے دو برس پہلے میں اپنی تعلیم نامکمل چھوڑ کر روزنامہ مساوات لاہور کے ادارتی عملے میں شامل ہو چکا تھا۔ ( میرا تعلق چراغ حسن حسرت، ضیاء الحسن ضیاء اور سراج الحسن سراج کے خاندان سے ہے۔ اس نامور کنبے کا فرد ہونے کے باعث میرا ”مساوات ” میں شامل ہونا اچنبھے کی بات نہیں تھا)۔

اپنے قصبے میں کالج کے قیام کی خبر نے میرے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش کو مہمیز کیا اور میں صحافت چھوڑ کر ایک بار پھر کالج میں داخل ہو گیا۔ باغ میں نئے کالج کی اس سب سے پہلی کلاس میں میرے پرانے کلاس فیلو بھی تھے اور نئے ، تازہ میٹرک پاس طلباء بھی۔ ان نئے لڑکوں میں میرا پڑوسی شفیق بھی تھا۔ اسے میں پڑوسی ہونے کی وجہ سے پہلے سے جانتا تھا ۔ ہمارے محلے میں وہ شرارتی بچے کی حیثیت سے مشہور تھا ۔

سطح زمین سے اس کے سر کا فاصلہ گو زیادہ نہیں تھا لیکن اس وقت بھی لگتا تھا کہ اس کی آنکھیں بہت دور فضاوں کو چیر کر پار دیکھنے کی آرزو مند ہیں۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا اس کا خط خوبصورت تھا، آرٹ سے اس کو شغف تھا۔ ہاکی ، فٹ بال اور کرکٹ کا ابھرتا ہوا کھلاڑی تھا۔ جلد ہی ہمیں اپنے محبوب پرنسپل پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کی معرفت پتہ چلا کہ وہ اچھا شعر کہتا ہے۔

میں جس ادبی خانوادے میں ہوں جہاں میرے آس پاس ادب اور صحافت ہمیشہ موضوع گفتگو رہے۔ میں اس وقت بھی اچھا شعر کہنے کا مطلب جانتا تھا۔ میں اچھے اور برے شعر میں تمیز کر سکتا تھا ۔ مجھے اس وقت لگا کہ یہ باغ کے سنگ زار میں گلستان شعر کی نوید ہے یا باغ کے ادبی افق سے ایک روشن تارہ نمودار ہو رہا ہے۔ جلد ہی اس نے اپنی خوبصورت شاعری سے طلبہ اور اساتذہ کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یہ شعر اس کے اسی دور کا ہے۔

افسردہ جیسے موسم سرما کی شام ہو

رہتا ہے میری صبح کا منظر اسی طرح

کالج سے فارغ ہونے کے بعد ہم پھر الگ الگ ہو گئے لیکن ١٩٧٢ء میں ہم ایک بار پھر اکٹھے ہوئے۔ اس بار ہماری رفاقت کا عرصہ دو سال پر محیط تھا۔ اب کے ہم دن رات اکٹھے رہتے تھے اس عرصہ کے دوران مجھے اس کی ایک اور صلاحیت کا سراغ ملا ۔ اور وہ یہ کہ وہ بہت اچھا گاتا بھی ہے۔ یہاں اس نے اپنے شاعر ہونے کا احساس ایک بار پھر دلاناشروع کیا۔

مرحوم سید ضیاء اﷲ شاہ (سابق ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم) کی الوداعی تقریب (١٩٧٤ئ) میں شفیق راجا نے دو خوبصورت نظمیں سنائیں۔ وہ شعریت سے بھر پور تھیں ان نظموں میں الفاظ و تراکیب کی بندش انتہائی اعلیٰ معیار کی تھی میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ پچھلے چند سالوں میں اس کا کافی کلام ضائع ہو چکا ہے۔ پھر ایک اور بات کہ اس نے اپنے کلام کو کبھی سنجیدگی سے جمع کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ میں قارئین کو شفیق راجا سے اچھی طرح متعارف کرا سکوں اور انہیں یہ باور کرا سکوں کہ میں اسے بہت اچھی طرح نہ سہی، اچھی طرح ضرور جانتا ہوں۔ میرے دیکھتے دیکھتے اس نے بی اے، کیا۔ سی ٹی کیا ، بی ایڈ کیا ، ایم ایڈ کیا ، ایم اے اردو کیا۔ ہر امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرتا ہو ا شفیق راجا ١٩٨٢ء میں اردو کا لیکچرر ہو گیا۔

اس دوران اس نے ہاکی کے متعدد صوبائی کیمپ بھی اٹینڈ کیے اور وہاں بھی اپنی صلاحیت کا سکہ جمایا۔ کالج کے نسبتاََ بہتر علمی اور ادبی ماحول میں اس کی شعری صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ شفیق راجا نے اس دوران علامہ اقبال کی مشہور نظم ”زندگی” پر ایک خوبصورت نظم( خمسہ) اسی عنوان پر کہی۔ اس نظم کے معاملے میں ہمیں شفیق راجا کی شعری صلاحیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ شفیق کی متذکرہ نظم کا پہلا بند ملاحظہ فرمائیں:

ساز ہے لمحوں کی دھڑکن داستاں ہے زندگی

حسرتوں ، آشاوں ، جذبوں کی زباں ہے زندگی

گنبد کون و مکاں کی راز داں ہے زندگی

”برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی”

اس نظم کا آخری بند ملاحظہ فرمائیے:

رزم میں شمشیر حیدر خوان میں نان شعیر

آرزوں کو کرے اپنے مقاصد کی اسیر

زمزمہ سنج ہوں نوائے حریت میں سب صفیر

”سوئے گردوں نالۂ شب گیر کا بھیجے سفیر

رات کے تاروں میں اپنے راز داں پیدا کرے

شفیق راجا کی نظم ہو یا غزل ، قطعہ ہو یا کوئی اور صنف اس کے اندر کے انقلاب کی کہانی سنائی دیتی ہے۔ بظاہر وہ ایک لا ابالی سا، کھلنڈرا سا، شوخ سا، نٹ کھٹ سا لگتا ہے۔ ایک ایسا شخص ہے جسے بظاہر کسی سود وزیاں کی پرواہ نہ ہو میں نے اسے کسی عزیز ترین دوست یا حقیقی رشتہ دار کی موت پر آنسو بہاتے نہیں دیکھا۔ ایسے حالات میں وہ سنگ دل لگتا ہے۔ وہ الم میں آنسو نہیں بہاتا دکھ تکلیف میں چیختا چلاتا نہیں۔

لیکن پھر ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ وہ اپنے دکھ اپنے کرب اور اپنی ناآسودگیوں کو (جنہیں وہ حلقۂ احباب میں چھپانے کے لیے ہنستا ہے، لطیفہ گوئی کرتا ہے ) شعروں کے قالب میں ڈالنے پر قادر ہے وہ دوسروں کو ہنسانے یا رلانے کا فن جانتا ہے۔ یہی اس کی شاعری ہے، قدرت نے اسے اظہار کے لیے خوبصورت سلیقے یعنی شعر کہنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ وہ اس طرح دوسروں کو اپنے کرب میں مبتلا کرنے کے فن پر قادر ہے ، اس کی انتہائی عمدہ غزل کا ایک شعر دراصل اس کی آپ بیتی ہے۔

میں خود سے دور ہو کے الجھتا چلا گیا گو گھر کے آس پاس رہا گھر نہ جا سکا

جو لوگ شفیق راجہ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں انہیں علم ہے کہ وہ کھلاڑی ، کھیلوں کا ایک بہتر منتظم ، بہترین خطاط ، پینٹر ، آرٹسٹ ، شاعر ، ادیب ، مولوی اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہے۔ اور حقیقت میں وہ کیا ہے یہ اسے بھی شاید پکا معلوم نہیں ۔ حضرت علامہ اقبال نے اپنے بارے میں کہا تھا

اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے کچھ اس میں تمسخر نہیں واﷲ نہیں ہے

شفیق راجہ کی حقیقت بھی تقریباََ ایسی ہی ہے۔ ہاں ایک بات اس کے بارے میں پکی ہے وہ ہے بہت گھنی۔ ہم نے تقریباََ چالیس برس ایک ساتھ گزارے ہیں مجال ہے جو اس نے مجھے کبھی اپنے درد دل میںشریک کیا ہو۔ اس کے شعروں سے لگتا ہے کہ اس نے محبت کی ہے ۔ اسرار محبت اس وقت تک بیان نہیںکئے جا سکتے جب تک آدمی راہ نورد وادیٔ الفت نہ ہو۔ ہمیں معمے میں الجھانے کے لیے اس نے کہا :

کچھ ایسی بات تو ہے ورنہ اس طرح لوگو

نظر نہ آتا کبھی اتنا پیار کاغذ پر

اب کوئی اس بھلے مانس سے پوچھے۔ ” یہ کچھ ایسی بات سے تمہارا مطلب کیا ہے؟” تو جواب کیا دے گا؟ شاید اس نے محبت کی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے یہ معاملہ یک طرفہ ہی رہا۔ ایک گمان یہ بھی ہے اس نے جس کسی سے محبت کی ہو گی دوسری طرف سے جواب اثبات میں ملا ہو گا۔ لیکن شاعر شفیق راجہ پر مولوی شفیق چڑھ دوڑا ہو گا۔ اس کو اس کی مولویت نے پیش دستی سے باز رکھا ہو گا ۔ اور برا ہو اس غلاف کا جس کی وجہ سے ہم دور حاضر کے اچھے شاعر سے محروم رہ گئے۔ شفیق راجہ جب کبھی اس مولویت کے پردے کے چاک سے باہر جھانکتا ہے تو ایک مکمل شاعر نظر آتا ہے۔

مرے خلوص مری بے ریا محبت سے صراط جاں کو مری جاں اجال کر رکھنا

میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کے آئوں گا تم اپنے دل سے عدو کو نکال کر رکھنا

شفیق راجہ کی ایک اور غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں

ان کہی بات کہی ہے سو یہی کافی ہے جھوٹ ہے، سچ ہے سو یہی کافی ہے

گو ترا نام لبوں تک نہیں لانا ممکن دل میں تصویر تری ہے سو یہی کافی ہے

مسکراہٹ ہو تبسم ہو حیا ہو کہ غضب ہر ادا اچھی لگی ہے سو یہی کافی ہے

شفیق نے اپنے اظہار محبت کو ”ان کہی” کیوں قرار دیا؟ اس کا جائزہ لینے کے بعد میر ایہ دعویٰ سچا ثابت ہوتا ہے۔ کہ اس کے اندر شاعر اور مولوی میں شدید ان بن ہے۔ اس کے اندر کا شاعر رخ محبوب سے پردے ہٹانے کا متمنی ہے۔ اور مولوی سد راہ ہے۔ شاعر لبوں سے ترنم کے پھول چننے کا خواہاں ہے جبکہ مولوی اسے بے حیائی اور فحاشی کے خوف میں مبتلا کر رہا ہے۔ بالآخر شاعر شفیق راجہ کا پلہ بھاری ہوتا ہے اور مولوی اس سے کمپرومائزکرتا ہے لیکن وہ شاعر کی ساری تمنائوں ، خواہشوں اور آرزووں کو محبوب کی اجازت سے مشروط کر دیتاہے۔

ضیائے حسن سے بے خود سا ہو رہا ہوں میں

وضو نظر کو کرا لوں اگر اجازت ہو!

وہ ایک کالی گھٹا رخ پہ بار بار آئے

اسے ذرا سا ہٹا لوں اگر اجازت ہو

ہلیں جو لب تو ترنم کی جل ترنگ گونجے

میں اپنا ساز سنبھالوں اگر اجازت ہو

جو تو سراپا غزل ہے تو گیت کار ہوں میں

میں دل کے تار ہلالو ں اگر اجازت ہو

شفیق راجہ جزئیات نگار بھی ہے۔ شاعری میں ”علامت” از خود ساری تفصیل ہوتی ہے۔ محض ایک لفظ ، ایک ترکیب۔ ایک مکمل داستان کا انڈیکس ہوتی ہے۔ لیکن شفیق راجہ اپنی نظموں میں شاید اس کا قائل نہیں وہ کوئی تجریدی آرٹسٹ تو ہے نہیں وہ تو ایک مجسمہ ساز ہے۔ ایک پورٹریٹ پینٹر ہے اس کا چاقو ، اس کا برش، اور برش کا ہر سٹروک اتنی محنت اتنی تفصیل سے لگتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی تصویر یا مجسمہ بولنے لگتا ہے۔ اس کا ہر ایک شعر بھی ” آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے” کی مثال ہے۔

من اک مندر ، ایک پجاری اک مورت من موہنی سی

آپ اور میں اس مندر آکر بن نہ جائیں میں اور آپ

حسن کی دیوی،عہد محبت، چاک گریباں جذبۂ دل

شعر کہیں اور جھومتے جائیں گاتے جائیں میں اور آپ

ساون رت، ہریالی، بارش،، بیلیں، لے اور کومل گیت

من تو چاہے اس موسم میں جشن منائیں میں اور آپ

شفیق راجہ کے لفظوں کی بنت ، نئے نئے خیالات ، تراکیب کے پرانے روایتی سانچوں کو دور حاضر کے لباس و معانی پہنانا۔ سائنسی ایجادات کے حوالے سے اس کے نظریات۔ سماج میں موجود عدم مساوات اور افلاس کے خلاف احتجاج۔ براہ راست اور کنایتاََ۔ ایک بات طے ہے کہ اسے ابھی بہت کچھ کرنا ہے ۔ اس کے لفظوں اور خیالات کا بہائو کسی بڑے سیلاب کی ”موہری” ہے۔ ( موہر ی پہاڑی زبان میں کسی نالے میں طغیانی کے آگے آگے صاف پانی کو کہتے ہیں) گویا شفیق راجہ کا اب تک کا کلام محض ایک پیش لفظ ہے۔

انشا ء جی ہمارے عہد کی شعری دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ ان کی ایک نظم ”یہ بچہ کس کا بچہ ہے” یونیسیف ایوارڈ یافتہ ہے۔ شفیق راجہ نے بھی اسی موضوع کو شعر بند کیا ہے۔ شفیق کی نظم طویل تر ہے ایک ایک مصرع راجہ کے ( بھوک اور افلاس کے خلاف) اندرونی کرب اور اس کے حتجاج کی بین دلیل ہے۔ دونوں نظموں کو آمنے سامنے رکھئے اور تقابل کیجیے۔ آپ کو نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔

یہ بچہ کس کا بچہ ہے

یہ دھرتی ماں کا لخت جگر

یہ نیل گگن کا نور نظر

یہ قطرہ ایک سمندر کا

اک نقش کسی من مندر کا

یہ پھول کسی کے گلشن کا

یہ گیت کسی کے جیون کا

یہ ہنستا ہوا پیارا بچہ

یہ بچہ کس کا بچہ ہے

شفیق راجہ کی نظموں کے موضوعات متنوع ہیں اپنی والدہ کے لیے اس نے جو نظم کہی ہے اس میں اس کی والدہ سے بے پناہ محبت کی جھلک محسوس ہوتی ہے ۔

آج بھی محسوس ہوتی ہے مجھے خوشبو تری

آج بھی رہتے ہیںاکثر دیدہ و دل اشکبار

شفیق جب کبھی منظر کشی کرتا ہے تو اس کی نظر سے کسی ٹہنی کا ایک پتا یا راستے کی ایک شکن تک اوجھل نہیں ہو پاتی ۔ وہ ناامیدیوں سے امید کشید کرتا ہے ۔ بے بسی سے طاقت حاصل کرتا ہے ۔ اس نے موسم خزاں کو ناامیدی کی علامت نہیں بنایا بلکہ امید کی کرن گردانا ہے۔

یہ دور خزاں مژدۂ صد جشن بہاراں

خوشبو کے سمندر میں اتر جائیں گے ہم لوگ

شفیق راجہ تعلّی نہیں کرتا ، اس کی بجائے وہ انکسار کا سہارا لیتا ہے یہ جو اس نے کہا :

درد بنتاہے ، شعر کہتا ہے اور کچھ بھی نہیں دوانے میں

تو اس نے حد درجہ انکسار سے کام لیا میں اس شعر میں تھوڑا سا تصرف چاہتا ہوں : یہ شعر کچھ اس طرح ہونا چاہئیے تھا :

درد بنتاہے ، شعر کہتا ہے اور کیا کچھ نہیں دوانے میں

شفیق راجہ شاعر ہے اول تا آخر ، سوچتا ہے،خیال کرتا ہے، دیکھتا ہے اس کے حساس دل پر چھوٹ پڑتی ہے۔ وہ فنکار ہے اور اپنے درد کا اظہار کرتا ہے کبھی تصویر کی صورت ، کبھی خطاطی کے ذریعے، ہاکی کے ذریعے ، بیڈ منٹن کے ذریعے ، اپنے لطیفوں کے ذریعے ، قہقہوں کے ذریعے اور ان سب سے اکتا جائے تو تبلیغی جماعت میں سہ روزے یا چلے کے ذریعے۔ حافظ شیرازی نے کہا تھا :

اگرآں ترک شیرازد بدست آرد دلِ ما را بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را

ترجمہ :اگر وہ ترک شیرازی ( میرا محبوب) مجھے مل جائے تو میں اس کے چہرے کے ایک خال یعنی تل پر سمرقندو بکارا قربان کردوں۔

شفیق راجہ بھی ایک شاعر ہے۔وہ ۔ واقعی ایک حقیقی شاعر ہے ۔ گو بظاہر لگتا نہیں۔ لیکن ہے وہ شاعر۔ محبت کرنے والا۔ حسن کا دلدادہ اور حقیقی معنوں میں شفیق ۔۔جو اپنے نام کی شفقت کسی مہ جبیں کے نام نذر کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ( حافظ کی طرح محبوب کے چہرے کے تل کی بجائے محبوب کے ہونٹوں سے مس کئے ہوئے ، اس کے ہونٹوں کے لمس آشنا ایک جام کے بدلے۔ گویا وہ کوئی عام جام نہ ہو جام تسنیم یا جام کوثر ہو ) :

میں اپنے نام کی شفقت تمہاری نذر کروں تم اپنے نام کا اک جام بخش دو ہم کو

شفیق راجہ جو محبوب کے چہرے سے نقاب سے ہٹوانے کیلئے بھی اجازت کا خواہش مند ہے اپنے محبوب سے اظہار محبت کیلئے کتنا ملفوف انداز اختیار کرتا اور اسے proposeکرتا ہے ۔

ہم اپنا نام لکھیں گے تمہارے نام کے بعد

ہمارے نام سے پہلے تم اپنا نام لکھو

اس فارمولے کو کاغذ پر پریکٹس کر کے دیکھئے آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے گی ۔شفیق راجہ کی ایک تازہ نظم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ شاعر شفیق راجے نے مولوی شفیق کو شاید پچھاڑ لیا ہے۔ : نظم کا عنوان ہے ” صرف تمہارے لئے ” :آپ نظم پڑھیے اور لطف اٹھائے:

ہجوم فکر میں ہوتا ہوں جب کبھی تنہا

مرے حواس پہ اک یاد اترنے لگتی ہے

کبھی تو شعر کی صورت کبھی وہ گیت مثال

مرے خیال میں تیری شبیہہ ابھرتی ہے

تمہارے لمس کو لے کر ہوائیں میرے لئے

حیات تازہ کا مژدہ سنانے آتی ہیں

نگہ افق سے ادھر دیکھتے تھکے تو اسے

تمہاری یاد کی پریاں سلانے آتی ہیں

شفیق راجہ محبت کا شاعر ہے ، حسن کا لکھاری ہے اس کا دل حساس ہے پھر کس طرح یہ ممکن تھا کہ اس کے دل میں وطن کی محبت اس کے دل کے نہ جھنجھوڑتی، اس کے دل میں بھی وطن کی محبت جاگزیں ہے ، اپنے بے بس بہن بھائیوں ، ظلم رسیدہ کشمیریوں کے جسم و روح پر ایک ایک زخم ایک ایک چرکا اس کے دل و جسم کو اسی طرح جلاتا ہے جس طرح کشمیری بہن بھائیوں کے جسم و روح جل رہے ہیں ہاں اس کو حد متارکہ کی اس طرف بسنے والوں کی بے حسی رلاتی ہے ۔ اس کا اظہار اس نے متعدد نظموں میں کیا ہے ایک نظم میں وہ سرحد کے اس پار سے آنے والے کشمیری کی زبان سے کہہ رہا ہے ۔ نظم کا عنوان ہے: ” ایک نظم ”

میں آیا ہوں تمہیں ملنے

مگر تنہا نہیں آیا

میں اپنے ساتھ لایا ہوں

پہاڑوں سے اترتے ندیوں، نالوں

حسیں جھرنوں اور ان کی دلربا یادوں

محبت کی امیں ، پھولوں بھری وادی

چناروں، برف زاروں ،مرغزاروں

کوہساروں کے سندیسے بھی

میں اپنے ساتھ لایا ہوں

یہی پیغام لایا ہوں

کہ وہ اب تک تمہاری راہ تکتے ہیں

مگر لگتا ہے۔ان کی آس کو تم توڑ دالو گے

اپنے معاشرے میں اقتدار کی ہوس کا کھیل کھیلنے والوں نے ملک کا جو حشر کیا ہے اس کی تصویر اس سے کیا مختلف ہو گی؟

اک کاہکشاں تھی تاروں کی

کہساروں کی ، گلزاروں کی

جھرنوں کی ، مست نظاروں کی

جوبن کی ، جھومتی ناروں کی

اک چاند تھا ان کی بیچ سکھی

اس چاند کو ہم نے بیچ دیا

تحریک آزادی کے حوالے سے وہ پر امید ہے ، اس کا ایمان ہے کہ ایک نہ ایک دن کشمیر ضرور آزاد ہوگا

سفر جو جاری ہے ختم ہوگا

کبھی تو منزل سے جا ملیں گے

نوید ہو یہ مسافروں کو

نجات ہو گی انہیں صعوبت سے

نہ خوف کھائو اندھیری شب سے

کہ اس کی کالک دھلے گی آخر

پھر اک نیا دن طلوع ہوگا

اجال دے ہر ایک منظر

زمیں اجالوں کا دیس ہوگی

اور ان پہ پھولوں کا تاج ہوگا

شفیق راجہ وطن کی محبت میں ڈوبا ہوا ایک شاعر ہے۔ بس اسے مقتدر طبقے کی روش، ہوس اقتدار کرسی کے ساتھ چمٹے رہنے کی عادت قبیحہ ، آزادی کو پس پشت ڈالنے کی شعوری کوششوں، ادھر کی جنتا کی بے حسی بڑی کڑھن ہوتی ہے۔

شفیق راجہ کے موضوعات متنوع ہیں ۔ ایک طرف وہ منظر نگار ہے،دوسری طرف وہ شہر آشوب پڑھ رہا ہے، ایک طرف وہ حسن کی رعنائیوں کا نغمہ گو ہے ، عشق کی سرشوریوں ، بے تابیوں کی خبر دے رہا ہے دوسری طرف وہ معاشرے میں پھیلتی بے راہروی ، اقتدار کی راہداریوں میں پنپتی کرپشن پر نشتر چلاتا نظر آتا ہے۔ 2005 کا قیامت خیز زلزلہ اردو ادب میں 1857کی جنگ آزادی، اس کے بعد تحریک آزادیٔ ہندوستان، تقسیم ہند ، مہاجرت کی طرح ایک بڑا موضوع ہے جو لوگ اس قیامت سے براہ راست متاثر ہوئے وہ پاکستان کے چار شمالی اضلاع، اور آزاد کشمیر کے نیلم مظفرآباد، باغ حویلی اور پونچھ کے اضلاع ہیں۔

ان علاقوں کے لوگوں نے زلزلے میں شہید ہونے والے بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں مردوں عوررتوں کو مرے ہوئے ، کچلے ہوئے بھی دیکھا اور اور بے بسی سے بعض کو مرتے ہوئے بھی دیکھا ۔مرتی انسانیت بھی بے بس اور زندہ انسان بھی بے بس۔ آنکھیں اشکبار تو ہونا تھیں دلوں میں چوٹ تو لازمی لگنا تھی۔حساس دل زیادہ متاثر ہوئے ۔ ان دنوں میں اور شفیق راجہ تقریباً ایک ماہ تک اکٹھے رہے اسے میں نے روتے نہیں دیکھا میں سوچتا تھا کہ یہ ایک پتھر دل شخص ہے۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ وہ آنسو نہیں بہاتا بلکہ لفظوں کو اشکوں میں ڈبو کر ، دل کے خون سے اپنے دکھ کا اظہار کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے لفظ آنسوئوں سے لبریز تھی بے آنکھیں خشک تھیں اس نے زلزلے کے دوران اپنے دل پر مرتب ہونے والے تاثرات کو لفظوںکا جامہ پہنایا ۔

مر ا زمین سے رشتہ تھا اور اب بھی ہے

یہی زمیں مرے رشتے نگل چکی ہے بہت

زلزلے کے فوراً بعد کی اس کی ایک نظم”زلزلہ اور ہم” معرض وجود میںہوئی۔

ننھے ننھے پھول سے بچے سکولوں میں بہم

صورت غلمان جنت میں ٹہلتے دم بدم

مسکراتے ،گاتے جاتے گیت خوشیوں کے بہم

زلزلے نے توڑ ڈالا ان کی خوشیوں کا بھرم

آ گئے سب مرد و زن پیروجواں ملبے تلے

مٹ گئیں سب بستیوں کی بستیاںملبے تلے

اس نظم میں بھی اس نے لٹے دلوں کو امید کاسبق دیا:

چھا رہی ہیں جو گھٹائیں دیکھنا چھٹ جائیں گی

ایک دن ہاں ایک دن تازہ بہار آجائے گی

میرے گلشن کو ملے گی ایک دن پھر تازگی

دیکھنا پھر ، کھل اٹھے گی باغ کی ہر اک کلی

ہم ڈبو ڈالیں گے جب مایوسیاں ملبے تلے

مٹ گئیں سب بستیوں کی بستیاں ملبے تلے

آئیے مل کر جلائیں آس کے شمس و قمر

عزم و ہمت سے کریں آغازِ تجدیدِ سفر

ایک قطعہ آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں جو زلزلے کی قیامت خیزیوں کے حوالے سے امر واقعی ہے :

بکھرے ہوئے تھے زخم، لہو، درد، اردگرد

بجھتے ہوئے چراغ ، شرر سرد، اردگرد

دہشت سے میری آنکھ ذرا بند کیا ہوئی

کھولی تو کچھ نہیں تھا ، فقط گرد اردگرد

پتھرائی تھیں نگاہیں تو لب بستہ لوگ تھے

بے جان پھر رہے تھے جواں مرد اردگرد

چلتے چلتے ایک اہم بات آپ سے کرتا چلوں کہ آج کا شفیق راجہ اپنی نوجوانی کے زمانے کی شاعری کو قلم زد کرنے کی فکر میں تھا۔ وہ ایسا کر گذرتا لیکن بھلا ہو اس کے چند نوجوان دوستوں کا جنہوں نے اسے، اس کے برے ارادے سے باز رکھا۔ اسے مُلّائیت کے سنگھا سن سے اتار کر ادب کی صدر نشینی پر فائز کیا ۔ اسے مجبور کیا کہ اپنی بکھری ہوئی شاعری کو یکجا کرے سو اس نے ایسا کیا۔ لیکن پھر اس کی ضرورت سے زیادہ سے ”احتیاط پسندی” اس کو شائع کروانے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ اُس وقت شفیق راجہ کا چھوٹا بھائی ڈاکٹر عتیق زاہدآگے بڑھا اس نے تھوڑی زبردستی کر کے اسکا پہلا مجموعہ ”میں حرف حرف سمیٹوں” کے نام سے شائع کروا دیا۔ یہ الجھن اس کے آئندہ مجموعوں اور دوسری نثری کوششوں کے حوالے سے ابھی تک موجود ہے ۔ اس کے پاس چار کتابیں نثر کی اور تین مجموعے شاعری کے پرنٹ ہونے کیلئے تیار ہیں لیکن اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا۔

2015ء میں اس کی ایک نثری تحقیق ” نعت کا سفر ” کے نام سے منظر عام پر آئی جس سے یہ پتہ چلا کہ وہ تحقیق کی وادیوں میں بھی کافی گھوم پھر چکا ہے یہ کتاب شعری اور نثری ادب میں ایک معقول اضافہ ہے اور یہ نعت گو، یا نعت خوان حضرات کیلئے ایک مؤثررہنما تصنیف ہے تاہم شفیق راجہ کے شعری مجموعوں ( لفظ کا کاجل) ، ( کدل) اور نثری کاوشوں ( عشق دم جبرئیل ) (دخل در معقولات ) ،(اجلی دھرتی سچے لوگ ) کہ ان میں سے ہر کتاب ایک معرکة الآرا کتاب ہے۔ اس کی نعت کا سفر، عشق دم جبرئیل، لفظ کا کاجل اور کدل شائع ہو چکی ہیں۔

مستقبل قریب میں باقی کتب کی اشاعت کیلئے اس کے دوستوں اور اس اعزاء کو شاید اس کے ساتھ پھر زبردستی کرنی پڑے گی اس لئے کہ شفیق راجہ، میں اسے سست الوجود تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نے زندگی بھر اسے ہر دم مصروف جستجو دیکھا ہے ہر دم متحرک دیکھا ہے، کئی سال پہلے باغ بازار میں عین سحری کے وقت ستائیسویں شب رمضان کو آگ لگی تو آگ بجھانے والوں میں میں وہ سر فہرست تھا ، ادھر کچھ سال پہلے میرے گھر آگ لگی تو میرے گھر کی دوسری منزل میں میرے پوتے پوتیاں پھنسی ہوئیں تھیں وہی شخص تھا جس نے ایک لمحے دیر کئے بغیر دوسری منزل تک رسائی حاصل کی اور دھوئیں کی گہری تہوں سے میرے بچوں کو باہر نکال لایا ، اب بھی یہ رات کا وقت تھا وہ شخص جس نے اپنی زندگی کے پینتیس چھتیس برس سپورٹس میں گذارے ہوں ہاکی، فٹ بال اور کرکٹ سے سن رسیدگی کے باعث کنارہ کش ہوا تو بیڈ منٹن کا ریکٹ سنبھال لیا اور انتہائی مختصر عرصے کے بعد ویٹرن سنگل چیمپئین شپ کے ونر کی شیلڈ اس کے ہاتھوں میں تھی ۔

وہ جب ملوٹ میں تعینات تھا تو ملوٹ کا پیدل سفر باغ تک دو سوا دو گھنٹوں کا تھا وہ چھٹی کے بعد ہاکی کی ایک گیم ملوٹ میں کھیل کر سفر شروع کرتا اور باغ پہنچ کر ہاکی کا پورا میچ کھیلتا اور شام کو تفریح کرتے ہوئے ملک محمود مرحوم کو اپنے دوستوں سمیت اس کے گھر تک پہنچا کے آتا پھر جب وہ ریڑہ تبدیل ہو کر گیا تو روزانہ شام کو سکس بلاک لس ڈنہ تک تفریحاً جاتا اور وہاں ہم روزانہ دو تین گھنٹے صرف کرتے گانے گاتے خوش گپیاں کرتے اور شام کوپیدل وہاں سے ریڑے آجاتے اس کا ہر دم متحرک رہنے کا معمول وہاں بھی تھا۔ ایسے شخص کو میں سست الوجود نہیں کہہ سکتا ہاں ضرورت سے زیادہ احتیاط پسندی اس کے ہر مثبت کام کے آڑے آتی ہے ، یا شاید وہ معاشرے سے ڈرتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، وہ اس سے بھی خوفزدہ رہتا ہے کہ اس کے کلام کا معیار کیا ہے؟

لیکن میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ ، اس کا ہر مصرع ہر شعر ہر نظم اور ہر نثر پارہ اعلیٰ معیار کا ہے ،اسے علم ہو یا نہ ہو پورے آزاد کشمیر کے ادبی حلقوں کو علم ہے کہ اس کا معیا کیا ہے ؟ وہ ہر اعتبار سے، خواہ لفظوں کی بنت ہو یاخیال کی بلندی، لفظ برتنے کا سلیقہ ہو یا لفظ فہمی ، وہ کسی سے کم نہیں ، آزاد کشمیر کی سب سے زیادہ فعال تنظیم طلوع جس کا وہ دو دہائیوں سے صدر نشین ہے اس ادبی تنظیم کے تمام دوستوں سے مجھے کہنا ہے کہ شفیق راجہ کو اس trauma سے نکالیں خواہ اس کیلئے انہیں زبردستی ہی کیوں نہ کرنا پڑے مجھے یقین ہے کہ یہ ” زبردستی ” کرنے والے اردو ادب پر احسان کریں گے اگر اس کی ساری شاعری اور نثری کوششیں طبع ہو کر ادبی حلقوں میں پہنچ جائیں۔مجھے یقین ہے کہ شفیق راجہ کا معیار سخن اپنا راستہ خود بخود بنا لے گا۔میری اس رند خراب حال کے لیے دعا ہے کہ:

اﷲ کرے حسن رقم اور زیادہ