کہانی کار :  اعجاز الرحمن

یہ تصویر آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کے گاؤں بڑا لی کس کی ہے۔  جس میں راقم اپنی آبا ئی زمینوں پر ہل چلا کر ماضی کی یادیں تازہ کر رہا ہے ۔ہمارا بچپن ایک فطری ماحول میں گزرا ہے۔ایک خالص دیہاتی ماحول میں پل کر بڑے ہوۓ ۔ہمارے بچپن کی ایک خوبصورت یاد کھیتی باڑی ہے ۔ اپنی زمینوں کو بیلوں کے ذریعے کاشت کرنا آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں عام رواج تھا ۔ تقریباً  ہرگھر میں بیلوں کی ایک  جوڑی ہوتی تھی ۔پھر بیلوں کی جگہ ٹریکٹر نے لے لی ۔

آہستہ آہستہ زمینداری کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔  کیونکہ لوگوں کا ذریعہ معاش ملازمت ہے۔  اور لوگوں کی بڑی تعداد بیرون ملک بھی چلی آئی۔ ہم بھی اپنی تعطیلات گزارنے انگلستان سے جب اپنے آبائی وطن کشمیر جاتے ہیں توگا ؤں کے قدرتی ماحول سے محظوظ ہوتے ہیں ۔بیلوں کی جوڑی تھوڑا سرکش مزاج رکھتی تھی،  اس لئے ان کو راہ راست پر رکھنے کے لئے مزید افرادی قوت کا سہارا لیناپڑا ۔غفور صاحب شفقت کرنے والے انسان ہیں جو بڑی محبت سے زمینداری کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئےہمارے ساتھ مصروف ہیں ۔