ڈاکٹرعبدالکریم


’رشحاتِ نشتر‘ بنیادی طور پر مظفرآباد شہر کی تاریخ ہے ۔1947ء کے بعد کی سیاسی ،سماجی ،معاشرتی،اخلاقی او ر اقتصادی زندگی کے بارہ میں نشتر لکھنا چاہتے تھے۔ لیکن زندگی نے وفا نہ کی۔ یہ کتاب ایک بیٹے کا اپنے باپ کو خراج عقیدت ہے جس نے لفظ لفظ ،سطر سطر ،ورق ورق اکٹھا کیا ،سینے سے لگایا اور اسے کتابی شکل میں پیش کر دیا۔

میں نشتر سے نہیں ملا ۔ وہ عشروں پہلے جہانِ فانی سے چلے گئے ۔اس کتاب کے ذریعے’کشمیر ڈائجسٹ‘سے تعارف ہوا جس کے شماروں کی اہمیت وقت کے ساتھ بڑھ گئی ہے ۔ نشتر کا تذکرہ اسلام ،پاکستان اور اردو کا تذکرہ ہے ۔ نشتر کی شاعری ایک نظریے،ایک مقصد کے گرد گھومتی ہے۔ اور انھوں نے صرف اردو کو سینے سے لگایا ۔

ان کی نثر بھی اردو کے گرد گھومتی رہی ۔ان کی نثر میں کتنی جاذبیت ،روانی ،ٹھہراؤ ،رچاؤ ہے اس کا ایک رخ میں آپ کوان کے ان خطوط کی صورت میں کبھی سنا دوں گا جو انھوں نے ڈاکٹر خالد شیخ صاحب کے نام لکھے ۔
جب نشتر نے’کشمیر ڈائجسٹ ‘میں یہ تحریر یں لکھی تھیں اس وقت کا مظفرآباد چند ہزار کا اور تقریباً 3

مربع میل کے علاقے میں پھیلا ہوا تھا ۔

جہاں ہندو اور سکھ بھی بستے تھے ۔ جہاں کا ماحول پر امن تھا ۔انقلاب آزادی کے بعد سے لے کر آج تک مظفرآباد نے کئی رنگ بدلے ہیں ۔یہ شہر6لاکھ سے زیادہ آبادی کا شہر بن چکا ہے ۔1947ء میں یہاں ایک زبان غالب تھی اور اب بے شمار زبانیں اور نسلیں ۔

اس شہر کو پھیلاؤ کا عارضہ لاحق ہے اور اب یہ ایک طرف گڑھی دوپٹہ ،دوسری طرف چھتر کلاس ،تیسری طرف لوہار گلی ،چوتھی طرف یادگار تک پھیل چکا ہے ۔اس کی روایات بد ل چکیں۔زبان بدل چکی۔اقدار،تہذیب ،ثقافت سب کچھ بدل گیا ۔

نیلم اور جہلم آج بھی وہیں پر بہہ رہے ہیں جہاں ستر سال پہلے تھے لیکن ان سات دھائیوں نے سلطان مظفر خاں کے مظفرآباد کی ایک ایک اینٹ تبدیل کر دی۔
اکتوبر 2005ء کے زلزلے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ۔اب مظفرآباد کا کلچر ڈالر،ریال ،پاؤنڈ،یوآن،کا کلچر ہے ۔بہت تیزی سے مظفرآباد کنزیومر کلچر کا شکار ہو رہا ہے ۔اس شہر میں ہر بڑے شہر کی خامیاں آ گئی ہیں ۔خوبیاں نہیں ۔اچھی اقدار کو فروغ نہیں مل سکا ۔مادیت نے سب کچھ ہڑپ کر دیا ۔

نشتر کا مظفرآباد آج کا مظفرآباد نہیں ہے ۔یہ کوئی اور دنیا ہے ۔ہم نے دوش کے آئینے میں امروز کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے ۔جو قوم تاریخ کو بھول جاتی ہے اس کا جغرافیہ اسے بھلا دیتا ہے اور یہ حقیقت ہے ۔

کشمیر کا جغرافیہ 70برسوں میں طے نہیں ہو سکا ۔ قحط الرجال کا رونا تو مختار مسعود نے رویا تھا ۔یہاں تو تاریخ ،ماضی،حال اور مستقبل کا رونا بھی ہے ۔مظفرآباد کے قدیم آثار کو نقش کہن کی طرح مٹا دیا گیا ہے ۔ قلعہ مظفرآباد شکست و ریخت کا شکار ہے اور اس پر لینڈ مافیا کے قبضے جاری ہیں ۔

سیاست دان اپنا اپنا لچھ تل رہے ہیں ۔ پانی کی گزر گاہوں ،نالوں ،سرکاری املاک ،چٹانوں ،مذبح خانوں ،دریاؤں کے خشک کناروں تک پر قبضے ہو چکے ۔ مظفرآباد کے مضافات میں جس کے بارہ میں نشتر نے تحریر کیا ہے کہ گھنے جنگلات تھے ۔اب آبادیاں ہیں ۔درخت نام کو نہیں ۔

بدترین ذہنی غلامی ان سات عشروں میں اپنے پنجے گاڑ چکی ۔ہم اس ننھی سی ریاست کو فلاحی ریاست نہیں بنا سکے۔تعلیم اور صحت برائے فروخت ہیں ۔مظفرآباد شہر میں یہ دونوں مہنگی ہیں ۔اسی لیے عوام صحت اور تعلیم پر اپنا سرمایہ لگا رہے ہیں ۔

نجی تعلیمی اداروں اور نجی شفا خانوں کاجال بچھاہوا ہے ۔ڈاکٹر اور استاد برائے خرید اورفروخت ہیں۔مظفرآباد کے مقامی باشندے دراوڑوں اورریڈ انڈینز کی طرح اقلیت میں تبدیل ہو چکے ۔
دیہاتوں سے شہر کی طرف نقل مکانی کو روکا نہیں جا سکا۔اسی وجہ سے زراعت اور ڈیری فارمنگ کے مسائل شدید تر ہوتے چلے گئے ۔یہ شہر کہ جس میں تمام اشیاء مقامی میسر ہوتی تھیں اب کچھ بھی مقامی نہیں ۔سبزی سے لے کر مرغ اور ایندھن سے لے کر آٹا، سب کوہالہ اور برارکوٹ پار سے آتا ہے ۔

مظفرآباد کی معیشت کو بہر حال سہارا بیرونی افراد نے دیا ہے ۔یہ شہر سب کا شہر ہے۔یہ سری نگر سے جموں ،گلگت سے چترال ،مانسہرہ سے کراچی ،تاؤبٹ سے افضل پور ۔سب کا شہر ہے ۔یہ محبتوں کا شہر ہے جس میں کبھی کبھی کچھ عناصر فرقہ واریت کا تڑکا لگا دیتے ہیں ۔

یہ کتاب مظفرآباد کے چہرے کا ایک رخ دکھا رہی ہے ۔ایک وقت تھا مظفرآباد کی تاریخ پر کچھ نہ تھا ۔اب چیزیں مرتب کی جا رہی ہیں تو کہیں مظفرآباد ،کہیں کشمیر،ان کہی داستان ،کہیں اوراق پارینہ ،کہیں رشحاتِ نشتر ،کہیں جو ہم گزار چکے ،کہیں آئینہ مظفرآباد کی شکل میں مظفرآباد کی تاریخ کے دروا ہو رہے ہیں ۔
اس کتاب کی سب سے خاص بات اس کے اندر قدیم مظفرآباد کی نادر تصاویر ہیں ۔یہ تصاویر اس دور کے مظفرآباد کی جیتی جاگتی پہچان ہیں۔قارئین کو میرا مشورہ ہے کہ اس کتاب کے باب نمبر 29,27,26,25,24,23,22,19,14,12,11,10,9,8,7کا مطالعہ ضرور کریں ۔کتاب ویسے بھی اتنی دیدہ زیب ہے اور لکھنے کا انداز اتنا جاذب ہے کہ قاری پوری کتاب ایک نشست میں پڑھ اور دیکھ سکتا ہے ۔کتاب ضرور خریدیں کہ یہ آپ کی اردو ،مظفرآباد اور زاہد کلیم(خانماں برباد) سے محبت کا قرض ہے۔

مظفرآباد نے کرپٹ سیاست کے تمام رنگ دیکھے ہیں اور ہم جو اس کے وارث ہیں ۔سیاست دانوں کو ہر طرح کی اچھل کود کرتے ،پارٹیاں اور وفاداریاں بدلتے،لوگوں کو لڑاتے اورمفادات کے لیے بکتے دیکھا۔

اس کرپٹ سیاست نے افراد کو اس حد تک کرپٹ کر دیاہے کہ اب ان کو تنقید برداشت ہی نہیں ہوتی اورآئینہ دکھانے پر اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے لکھنے والے کے خاندان کا معلوم کرنے نکل پڑتے ہیں۔
بدترین ادبی کرپشن کے سارے رنگ اس شہر نے دیکھے ۔پڑھے لکھے اور اپنے آپ کو الفاظ کا خالق کہنے والے،دو جملے لکھ لینے والے ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کرتے ۔جو کچھ یہ ایک دوسرے کے بارے میں کہتے ہیں( نجی محفلوں میں۔اور میں اس کا گواہ ہوں) ۔

کبھی جی چاہتا ہے کہ سب کچھ لکھ کر اپر اڈہ میں لٹکا دوں(قرآن کے حلف کے ساتھ کہ یہ سب میں نے ان کی زبان سے خود سنا) ۔آپ دیکھیں گے کہ سب انکار کر دیں گے ۔ غلط کو غلط کہنا ہمارے رویے کا حصہ ہونا چاہیے ۔جانے کیوں ہم بے حسی کے اس کلچر میں پھنس چکے ہیں کہ ہمارے سامنے سب غلط ہو رہا ہوتا ہے اور ہم اس غلط کا حصہ بن جاتے ہیں ۔
آپ اور میں شعور رکھتے ہیں اور نشتر جن پر لکھنا چاہتے تھے آج کا مظفرآباد اس کا تقاضا کررہا ہے ۔اس شہر کی سیاسی،سماجی ،اخلاقی،نفسیاتی ،معاشی تاریخ بھی لکھنے کی ضرورت ہے ۔اور یہ کام آپ میں سے کوئی کر سکتا ہے ۔ادب کا مطالعہ زبان کا مطالعہ ہے اور اردو زبان کا مطالعہ ان سب علوم کا مطالعہ ہے ۔

پڑھیں اور لکھنے کی کوشش کریں ۔ایک اور زبان پر عبور ہونا چاہیے اور وہ موجودہ دور میں انگریزی ہے لیکن عربی سے اپنا دامن چھڑانے کی کوشش مت کریں ۔جناب زاہد کلیم کی صحت ، زندگی ، ایمان اور صلاحیتوں میں برکت کے لیے دعاگو ہوں۔