کہانی کار:  ماہ نور عباسی

جیسے گھاس کٹائی ، اور مکئی کی کٹائی کا ایک موسم ہوتا ہے بلکل اسی طرح بد قسمتی سے ا یک موسم جنگل جلائی کا بھی  ہے ۔ آج کل یہ موسم شدت اختیار کر چکا ہے ۔ہر طرف دھواں ہی دھواں  پرندوں ،جنگلی جانوروں درختوں اور حشرات کی سسکیوں کی آوازوں کا موسم جو ہم سننے سے قاصر ہیں ۔

ہمارے مستقبل کی نسلوں کے لئے گلوبل وارمنگ اور بنجر زمین مہیا کرنے کا یہ سیزن سالوں سے بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے ۔ بڑی ہی راز داری سے اس تباہی پھیلانے والی آگ کو ایک چین کی طرح آگے بڑھایا جاتا ہے اور یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔

محکمہ جنگلات گھوڑے گدھے بیچ کر سو  رہا ہے اور ہمارا قیمتی سرمایہ خاکستر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ہمارے لوگ محض اگلی سال زیادہ ہری گھاس اور آگ جلانے کے لئے سوکھی لکڑیاں حاصل کرنے کے لئے اتنا بڑا ظلم کرتے ہیں۔ اس لئے کیونکہ وہ  اس نقصان سے نا واقف ہیں۔۔ ان کو شاید یہ نہیں معلوم کہ وہ چھوٹے سے فائدے کے لئے کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں ۔

پورے یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے اگر آگاہی  مہم چلائی جائے علاقائی سطح پر لوگو ں  کو سکولوں ،مسجدوں میں    اسکے نقصانات کا علم دیا جائے تو ضرور ہر سال ہونے والی تباہی سے بچا جا سکتا ہے ۔یہ آخری حل ہے کیونکہ نہ تو محکمے والے اس کے خلاف کوئی ایکشن لیتے ہیں اور نہ کوئی اور کاروائی کر سکتا ہے ۔ بچوں ،بزرگوں اور عورتوں کو جو گھاس کاٹنے کے بہانے تیلی لگا کے بھاگ جاتے ہیں۔

انکو اگر سمجھایا جائے تو وہ ضرور سمجھیں گے ۔ ہر گاؤں کی با  اثر شخصیات اگر  یہ آگاہی مہم اپنے کندھوں پر لیں تو ہو سکتا ہے لوگوں  کی سوچ میں تبدیلی آ جائے ۔   ہم اتنا تو ضرور کر سکتے ہیں کہ فارغ وقت میں لوگوں کو اگھٹا کر کے ان کو مستقبل میں جنگلات کی تباہی کی وجہ  سامنے آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا جا سکے اور سمجھایا جا ہے  کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے ۔