شیراز طفیل کیانی

حویلی ریاست پونچھ کی ایک زرخیز اور مردم خیز تحصیل تھی ۔ریاست پونچھ کا صدر مقام شہر پونچھ تحصیل حویلی کی حدو میں واقع تھا۔ جہاں راجگان پونچھ کی عالیشان رہائش گاہیں ،موتی محل ، میاں نظام الدین ، وزیر اعظم پونچھ کی حویلی ۔ مہتمم بندوبست پونچھ جو ایک انگریز تھا کا دفتر۔پیر حسام الدین گیلانی کا حسام منزل، جعفری بلڈنگ وغیرہ تاریخی اور قابل دید جگہیں تھیں۔ 1947میں پونچھ شہر ہندوستان کے قبضہ میں چلا گیا تا ہم حد متارکہ کے اس پر موجودہ ضلع حویلی میں دیگوار تیڑواں سے لے کر خواجہ بانڈی اور ہلاں سے لے کر محمود گلی تک بہت سارے تاریخی سیاحتی اور زمانہ قدیم میں آباد رہنے ولا مقامات ایسے ہیں جو اپنے اندر سیاحوں اور دیگر اہل ذوق کی دلچسپی کا سامان لیئے ہوئے ہیں ۔ذیل میں چند اہم مقامات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔

سرائے علی آباد جو بین الاقوامی شہرت کے حامل درہ حاجی پیر کے دامن میں واقع ہے یہ سرائے مغلیہ عہد میں تعمیر ہوئی تھی آج اس کے کھنڈرات ہی دیکھے جا سکتے ہیں ،کھنڈرات سے پتا چلتا ہے عمارت عالی شان تھی مغلیہ دور کے بعد راجگان پونچھ بالخصوص ڈوگرہ راجگان نے یہاں ڈاک بنگلہ تعمیر کروایا ۔راجہ پونچھ نے 1906ء میں یہاں دیودار کابیج کاشت کروایاتھا ۔جو آج دیوقامت درختوں کی صورت میں علی آباد کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا ہے۔سرائے علی آباد کے مغرب میں (الف رکھ) گھنا جنگل ہے ۔یہ راجگان پونچھ کی شکار گاہ تھی ۔جہاں راجگان پونچھ کی دعوت پر دیگر ریاستوں کے راجے ،مہاراجے اور برگانوی ہند کے اعلیٰ عہدیدارشکار کے لیے آیا کرتے تھے ۔وائسرائے ہند لارڈ کچز بھی یہاں شکار کے لیے آیا تھا ۔شکار گاہ تک ایک مخصوص راستہ بنایا گیا تھا جس کے آثار آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔
گواہی دیتے ہیں نقش پاء سنو،    گزرا ہے کوئی رہگذر ابھی ابھی
سرائے کے مقام پر راجگان پونچھ نے ایک ڈاک بنگلہ بھی تعمیر کرایا تھا ۔پونچھ سے سرینگر جاتے ہوئے راجے مہاراجے ریاستی عہدیداران و دیگر مسافر یہاں ٹھہرا کرتے تھے

یہاں راجہ کی اہلیہ رانی ، رانی سری لال کنریبہ صاحبہ(رانی صاحبہ) بھی قیام پزیر ہوئی تھی ۔رانی باغ آنجہانی کی یادگار ہے ۔رانی باغ میں رانی کی تصویر بھی رکھی ہوئی ہے ۔تصویر دیکھ کر مصور حقیقی کے حسن تخلیق کی بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی عہد میں علی آباد کے مقام پر کوئی شہر آباد تھاا سکا اور تو کوئی ثبوت نہیں البتہ یہاں ایک وسیع و عریض قبرستان پایا جاتا ہے ۔جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں کوئی انسانی آبادی ہو گزری ہے۔محکمہ آثار قدیمہ اس کا کھوج لگا سکتا ہے ۔رانی باغ اور سرائے کے قریب ہی لکھی تراڑ واقع ہے ۔(لکھی تراڑ )(پتھر کی سل ) پر مغلیہ لشکر کی علی آباد میں خیمہ زن ہونے کی روائیداد سنسکرت زبان میں کنندہ ہے ۔علی آباد ہیلی پیڈ کے اطراف میں ایک چشمہ ہے ۔جہاں پر تراشیدہ پتھر بڑی مہارت سے نصب کیے گئے ہیں ان پتھروں کی تراش خراش سے اُس عہد کی تہذیب کا پتا چلتا ہے ۔سرائے علی آباد سے آگے جائیں تو تقریباً بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر درہ حاجی پیر واقع ہے ۔یہاں عین درے کی بیچوں بیچ ایک روحانی بزرگ کا مزار ہے جو صدیوں سے مرجع خلائق ہے ۔درہ حاجی پیر سے بجانب مغرب کوئی 15/16سو فٹ بلندی پر ایک نوگزلمبی قبر ہے اس قبر کی مناسبت سے اس پہاڑی چوٹی کا نام نوگزئیے کی ماہل پڑ گیا ہے ۔یہ قبر کس کی ہے اور کب سے ہے اس بارے میں کوئی علم نہیں ۔آثار قدیمہ والے جدید آلات کے فیض سے کچھ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ حسن فطرت سے عشق رکھنے والوں اور قدرتی مناظر سے محبت کرنے والوں کے لیے بڑی دلکش جگہ ہے ۔درہ حاجی پیر سے آگئے جائیں تو یونین کونسل بھیڈی کا علاقہ آتا ہے ۔اس علاقے میں بھی کئی ایک سیاحتی اور تاریخی مقامات ہیں ۔طوالت کہ خوف سے بہت سارے مقامات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف نوری چھم کا ذکر کروں گا۔نوری چھم ایک ایک انتہائی دل آویز آبشار ہے ۔دل کو موہ لینے اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی یہ آبشار کائیاں نالہ پر واقع ہے ۔کہتے ہیں ملکہ نور جہاں نے کشمیر جاتے ہوئے جب اس آبشار کو دیکھا تو اپنے کارواں کو کچھ دیر کے لیے یہاں روک لیا ۔جتنی دیر کارواں رُکا رہا نور جہاں آبشار کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتی رہی ۔ملکہ نور جان نے آبشار کو اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے اس کا نام نوری چھم رکھا۔اور یہاں چٹان پر ایک تختی کی بھی کنندہ کروائی ۔تب سے یہ آبشار نوری چھم کے نام سے مشہور ہے ۔چٹان پر کنندہ تختی تو اب ڈھونڈے سے بھی ملنے کی نہیں ۔البتہ اس کہانی کو نوری چھم کے قریب سے گزرنے والی صدیوں پرانی گہل (راستہ) جو اگیواس کے دامن میں ہے ) تقویت پہنچاتی ہے ۔پونچھ اُوڑی سڑک تعمیر ہونے سے پہلے یہی گہل (راستہ) شاہراہ عام تھی تھی ۔نوری چھم جس نالے پر واقع ہے اس نالے پر ایک پُل بنایا گیا تھا ۔جسے 1947ء میں مجاہدین نے جلا دیا تھا ۔پُل کے پائے آج بھی موجود ہیں جو اپنے بنانے والوں کے فن اور مہارت کی گواہی دیتے ہیں ۔یونین کونسل بھیڈی میں ہڑدُنبہ ،پرتھ گلی ،سرپیر ،اعوان ڈھوک ،ستھرہ ،اور پٹھان ڈہوک کے مشرق میں واقع بلند و بالا سفیدی مائل دھاری دار،گاہے ننگی، گاہے جھاڑیوں اور ہری ہری ریشمی خوشبو دار گھاس سے اٹی عمودی سنگلاخ چٹانیں او رپھر ان چٹانوں سے گرتی ہوئی آبشاریں چوکڑیاں بھرتے ہرن نافہ ،کھٹنار و سہڑی ڈھوک ،چٹی بٹی اور بیڈوری کے دامن میں واقع رکھ چٹو (جہاں انواع واقسام کے نایاب جنگلی پرندے ،مارخور بکریاں شیر اور ریچھ گام گام ملتے ہیں اور قاضی ناگ کی فلک بوس پہاڑی چوٹیوں کے نظارے)سیاحوں کی دلچسپی کا سامان لیئے بیٹھے ہیں ۔درہ حاجی پیر کے اس طرف آئیں تو سیاحتی مقامات میں شیروڈھارہ ،ناگہ ناڑی فٹاں والی گلی ،گھوڑانکہ جہاں 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران دشمن سے دوبدو لڑائی میں ارض وطن پر جان قربان کرنے والے شہدا آسودہ خاک ہیں )نیزہ پیر ،قبراں والی ،کرن ٹاپ ،بیڈوری ،پجہ گلی ،سری ڈھوک ،مین سر،نیلفری جھیل ،ڈنہ شہباز خان ،قالو ڈہیری ،بٹہالن ہلاں ،گل ڈنگہ

آبشار قابل دید جگہیں ہیں ۔بٹہالن میں زمانہ قدیم میں کسی جامعہ کا ہونا بیان کیا جاتا ہے ۔یہاں ایک گول بازار کے آثار ملتے ہیں ۔علاوہ ازیں یہاں کسی پن چکی کا ایک پارٹ تونگ کے دیوقامت درخت کی چوٹی پر زبان ِ حال سے عہد گشتہ کی داستان سُنا رہا ہے ۔ضلع حویلی کے طول و عرض میں بہت سے ایسے مقامات بھی ہیں جو قدیم تاریخ اور رہن سہن کا پتا دیتے ہیں ۔ان مقامات میں ٹھولانگڑ اور خورشیدآباد کے درمیان ایک پہاڑی ہے ۔سڑک کے دائیں کنارے کوئی 100فٹ کی بلندی پر ایک تختی کنندہ ہے ۔روایت ہے کہ صدیوں پہلے ٹھولانگڑ کے ایک روحانی بزرگ پیر حبیب اللہ نے کوڑی کوڑی جمع کر کے حج کے لیے زاد راہ بنایا ۔اُس دور میں حجاج کرام قافلوں کی شکل میں حج کے لیے پاپیادہ حرمین شریفین جایا کرتے تھے ۔جب حاجیوں کے قافلے تیار ہوئے تو پیر صاحب نے تیاری کی ۔روانگی سے پہلے ایک رات انہیں خواب میں ایک بزرگ آئے اور فرمایا حبیب اللہ تم یہ راستہ بنوا دو۔اللہ تمہیں حج کا اجر دیگا۔پیر صاحب نے حج کا ارادہ ترک کر دیا اور اُس جمع پونجی سے ٹھولانگڑ تا حاجی بل کے دامن (موجودہ آرمی چیک پوسٹ تک گھنے جنگل اور دشوار گزار عمودی چٹانوں کو کٹوا کر راستہ بنوا دیا۔مذکورہ بالا تختی پیرصاحب نے کنندہ کروائی ہے ۔ ٹھولانگڑ سے آگے ہوتر گائوں جہاں ایک پنڈت خاندان جو کہ دوران جنگ 1947ہجرت کر کے ہندوستان چلا گیا ہے ،کا ایک خوبصورت دو منزلہ مکان جو کہ اُس دور کے فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔آج بھی موجود ہے ۔اس مکان کے قریب ایک چشمہ ہے ۔ پتھر کی بڑی بڑی ترشیدہ پتھروں سے بنایا گیا یہ چشمہ بھی فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ہوتر سے آگے چھانجل گائوں پڑتاہے ۔جہاں غیر معمولی شہرت کا حامل چھانجل پُل واقع ہے ۔آج سے کوئی ڈیڑھ پونے دو صدیاں قبل پونچھ سے اوڑی جانے والی سڑک پر نالہ بیتاڑ پر بنائے جانے والے اس پل کے پائے فن تعمیر کا خوبصورت شاہکار ہیں ۔ڈیڑھ دو صدیوں کے دوران کئی بھونچال آئے نالہ میں طغیانیاں آئیں کئی طوفان آئے مگر مجال ہے ایک پتھر بھی اپنی جگہ سے ہلا ہو۔آفرین صد آفرین اُن کاریگروں اور مزدوروں کو جنہوں نے اپنی محنت سے اسے ثبات دوام بخشنے کی سعی کی ہے ۔ہندوپاک کے مشہور ادیب کرشن چندر نے اپنے ایک افسانہ ”جرا اور جری ” میں اِس پل کا ذکر کیا ہے ۔چھانجل پل جغرافیائی لحاظ سے موضع فتح پور میں آتا ہے ۔نہ جانے چھانجل کے ساتھ اسے کیوں منسوب کیا گیا ہے ۔پونچھ اُوڑی سڑک پر رینکڑی چوہان میں سڑک کے کنارے سے کوئی پچاس گز اوپر ایک چشمہ پرتراشیدہ پتھروں سے دو غسل خانے بنائے گئے ہیں ۔تراشیدہ پتھروں سے بنائے گئے یہ غسل خانے کسی گم گشتہ تہذیب اور عہد کی داستان سناتے ہیں ۔پونچھ اُوڑی سڑک پر اوچھی کے قریب ایک پہاڑی گھاٹی تھی جس زمانے میں یہ سڑک تعمیر ہو رہی تھی ۔یہاں سے کوئی خزانہ ملاتھا ۔دیگوار جاتے ہوئے سڑک کے بائیں کنارے کوئی تیس گز اوپر چٹان پر ثبت دیگوں کے نشان 90کی دھائی تک دیکھے جا سکتے تھے ۔سڑک کی کشادگی کے دوران چٹان گرنے سے وہ نشان معدوم ہو گئے ہیں ۔کہوٹہ شہر میں بھی قدیم تہذیب کے کھنڈرات موجود ہیں ۔جس جگہ آج کل تحصیل کے دفتر ہیں یہاں ایک بارہ دری ہوتی تھی ۔کہوٹہ کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے ۔تحصیل ممتازآباد میں راجگان سدہرو ن کا بنگلہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔جہاں وائسرے ہند کے علاوہ ہندو پاک کی معروف شخصیات وقتاً فوقتاً تشریف لاتی رہیں ۔اس طرح بساہاں شریف کی مرکزی جامع مسجد موجودہ جامع مسجد بنا کر دہ حضرت پیر سید شاہ ولائیت شاہ جمالیاتی ذوق رکھنے والوں کو دعوت نظارہ دیتی ہے ۔بساہاں شریف میں واقع کنڈیالہ جنگل میں ایک چشمہ ہے یہ چشمہ بھی کسی گمشدہ تہذیب کا سراغ دیتا ہے ۔اسی چشمہ کے قریب سے حضرت پیر سید حبیب اللہ شاہ بخاری نے ایک خزانہ نکالا تھا ۔مختصر یہ کہ حویلی کے اندر جہاں بہت سارے سیاحتی مقامات ہیں وہاں تاریخی مقامات بھی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ اس طرف توجہ دیں ۔

علی آباد سرائے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں پیر مرگ کی پہاڑی کے قریب واقع ہے۔ یہ سرائے سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ جہانگیر نے تعمیر کروائی تھی۔ یہ سرائے مشہور مغل شاہراہ کے اُوپر واقع تھی۔ شاہی قافلے راجوری سے سرینگر جاتے ہوئے یہاں قیام کیا کرتے تھے ۔۔۔اس کے پینتالیس رہائشی کمرے ہیں ۔۔۔۔کیچن اور حمامات اس کے علاوہ ہیں۔ یہ سرائے قریب مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ نوے کی دہائی میں یہ بھارتی افواج کے زیرِ استعمال بھی رہی ہے۔ آج کل یہ گجر بکروالوں کے مال ویشیوں کا مسکن ہے اور انتہائی مخدوش حالت میں ہے