کامریڈ کرشن دیو سیٹھی
گر فکر زخم کی تو خطا وار ہیں کہ ہم
محو مدح خوبیٔ تیغ ادا نہ تھے
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دُکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
(فیضؔ)

کشمیرکی سیاست ایک زبردست آتش فشاں پرکھڑی ہے، جس میں لاوا وقتاً فوقتاً پھٹتا ہے اور خونچکاں داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ دراصل یہ صورت حال حکمرانوں کی اس غلط سوچ اور بے ہودہ اپروچ کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر لاء اینڈآرڈر کا ہے، سیاسی معاملہ نہیں ۔

بنابریں اس حل طلب مسئلہ کو سیاسی طورپر حل کرنے کی کوئی سنجیدہ ، نتیجہ خیز اور پُر امن کوشش نہیں کی جاتی. اور اگر بحالی ٔاعتماد  کے نام پرکبھی کوئی کوشش کی بھی جاتی ہے۔ تو یہ محض دکھاوے کے لئے ہوتا ہے۔ یا وقتی بحران ٹالنے کے لئے ۔ یا عالمی رائے کی موافقت حاصل کر نے کے لئے ۔

اس شورش زدہ خطے کی کتاب ِ تاریخ کھولئے تو یہی نظر آئے گا کہ کشمیر پرجنگیں ہوئیں ، بحثیں ہوئیں، قرارا دادیں پاس ہوئیں ، امن معاہدے ہوئے، اعلامیہ جاری ہوئے، قول وقرار کے طومار باندھے گئے،آر پار دکھاوے کی سفری سہولیات اور بعض رابطہ سڑکیں بحال ہوئیں ، محدود پیمانے کے تجارتی لین دین ہوئے ، سہ رُکنی مصالحتی کمیٹی ، ورکنگ گروپوں کی تشکیل ہوئی ، گول میز کانفرنسیں منعقد کی گئیں ۔

اور نہ جانے کیا تماشے ہوئے مگر نتیجہ وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔ اب مودی سرکار نے کہ ایک سابقہ انٹیلی جنس افسر کی بطور رابطہ کار تقرری عمل میں لائی ، نتیجہ ندارد۔ ان ساری کارستانیوں پرغالباً یہ حکایت چسپاں ہو تی ہے ۔

کہتے ہیں کہ ایک بار کسی گاؤں کے کنویں میں کتا گر مر گیا۔ ظاہر ہے اس وجہ سے کنویں کا پانی پلید وناپاک ہونے سے ناقابل استعمال رہا۔ لوگ پر یشان ہوئے کہ اب کیا کیا جائے ، طے ہو اکہ سب مل کر گاؤں کے پجاری یا مفتی کے پاس مسئلہ لے کر جائیں کہ کنویں کو کیسے پاک وصاف کیا جاسکتا ہے ۔

پجاری یامفتی نے انہیں سجھاؤ دیا کہ کنویں میں سے کتے سمیت ایک سو بالٹیاں نکال باہر کرو ، کنواں اپنے آپ پاک ہوجائے گا ۔ لوگوں نے سو بالٹیاں نکال تو دیں مگر کتے کو وہیں کا وہیں رکھ چھوڑا ۔

پھر اپنے مذہبی رہنما کے پاس یہ طلاع دینے چلے گئے کہ اجی ہم نے کنواں صاف کیا ، سو بالٹیاں پانی نکالیں۔ پتہ چلا کہ مردہ کتا بہ نفس نفیس وہی موجود ہے تو کنویں کی پاکی اور صفائی کا فتویٰ جاری ہوسکتا۔

بعینہ ٖ جب تک کشمیر کے اصل مسلٔہ کو طرفین سیاسی عزم وہمت اور حقیقت پسندی کے ساتھ ایڈریس نہیں کر تے،خطے میں قیام ِامن، سکھ شانتی کی بحالی اور بھائی چارے کا ماحول کی واپسی خیال وجنون والی بات ہوگی۔   
 حالیہ بلدیاتی انتخابات میں وادیٔ کشمیر کے عوام کی طرف سے تقریباً مکمل بائیکاٹ نے بھی واضح طورپر ظاہر کردیاہے کہ محض لاء اینڈآرڈر کی کاروائیوں یا دکھاؤے کی سیاسی کاروائیوں سے وادی ٔکشمیر کانہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور نہ ہی امن وامان قائم کر نے کا خواب پوراہوسکتا۔

وادی کشمیر میں پائیدار امن وامان قائم کرنے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے مسئلہ جموں وکشمیر کے متعلقہ فریقوں کے درمیان غیر مشروط اور جامع الاثر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ بامعنی مذاکراتی عمل شروع کئے بغیرنہ امن وامان قائم ہوسکتاہے اور نہ یہ پیچیدہ مسئلہ حل ہوسکتاہے۔  


وادیٔ کشمیر کی صورت حا ل کئی برسوں سے تشویش ناک بنی ہوئی ہے لیکن برہان وانی کا سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہونے سے لے کر اب تک اُس نے جو شدید صورت حال اختیار کی ہے، اس سے ہرکوئی بخوبی آگاہ ہے۔ کئی ماہ سے متواتر وادی کشمیر کے عوام خاک و خون کے گرداب میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ایک طرف ملی ٹینٹ کارروائیاں ہیں اور ودسری طرف سیکورٹی فورسز کی گولیاں نہ صرف سینے چھلنی کر کرکے بے شمار ہلاکتوں اور زخمیوں کا موجب بنی ہوئی ہیں بلکہ متواتر تقریباً کرفیو کے نفاذ سے ساری زندگی کی چہل پہل ختم ہوچکی ہے۔

سڑکیں اور بازار ویران نظرآتے ہیں، کاروبار معطل ہے۔ عوام اشیائے ضروریہ کی کمی اور قلت کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اسی فضا میں پتھر بازوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں۔ کہیں کہیں ناراض نوجوان تعلیمی اداروں اور اپنے کام کاج کو ترک کرکے پتھر بازی میںمصروف نظر آرہے ہیں۔ متحدہ مزاحمتی قیادت کی آواز پرہڑتالیں روزمرہ کادستور بن چکی ہیں۔ سارا سرکاری نظم و نسق درہم برہم ہوچکاہے۔

سیاحتی سیزن جو کہ وادی کشمیر کے روزگا ر کاسب سے بڑا ذریعہ ہے،مزید تباہ و برباد ہوچکاہے۔ غرض یہ کہ ارض کشمیر ایک جنگ کا عالم ہے اور ہر طرف آہ و بکا کی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کا وجود عملی طورپر ختم ہوچکاہے۔ بے شک کاغذی طورپر اخبارات میںاُن کے بیانات ان کی زندگی کا ثبوت مہیا کرتے ہیں۔

لیکن ان پارٹیوں کی عوام میں گر تی ساکھ کا اندازہ وادی میں لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں عوام کی عدم شمولیت سے لگایا جاسکتاہے۔ سری نگر بڈگام میں انتخابی عمل صرف ۷ فی صد ووٹروں کی شمولیت سے پایہ ٔ تکمیل کت پہنچا مگر احتجاجی تحریک کے باعث جس میں متعدد نوجوان ہلاک اور زخمی ہوئے ، کے باعث اننت ناگ حلقۂ انتخاب کے پارلیمانی انتخابات کو سر کار نے بحالت مجبوری ملتوی کیا ۔ قبل ا زیں سرینگر بڈگام حلقہ انتخاب کی پارلیمانی نشست پرفقط سات فیصدرائے دہندگان کی شمولیت سے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کل ووٹوں کو تقریباً چار فیصد ووٹ پرچیاں حاصل ہوئیں اور وہ خدا خدا کرکے لوک سبھا میں سرینگر کے نمائندے بن گئے مگر اپنے حلقۂ انتخاب میں آج تک کوئی سیاسی سرگرمی نہ کر سکے۔ اتنے کم ووٹ حاصل کرکے ا س نشست پر فاروق عبداللہ نمائندگی بے شک دعوے کریں لیکن یہ’’ کامیابی اور نمائندگی ‘‘ فی ذاتہٖ مضحکہ خیزقراردی جاسکتی ہے۔

کہنے کامطلب یہ ہے کہ وادی کشمیر میں مین سٹریم انتخابی پارٹیوں کی رہی سہی عوامی ساکھ ختم ہوچکی ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں نمائندہ کہلانے کی مستحق نہیں رہی ہیں۔ ان میںُ نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، بھاجپا اور دیگرانتخاب لڑنے والی سبھی پارٹیاں شامل ہیں۔ غرض کہ غور سے دیکھئے تو جموں کشمیر میں سارا نظام مملکت قدرت کی کرشمہ سازی کے باعث ہی چل رہاہے۔

زندگی کے تقریباً تمام پہلو معطل اور موقوف ہوچکے ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات نے اس صورت حال کو شیشہ کی طرح مزید واضح کردیا ہے کہ جہاں وادی ٔکشمیر کے صرف تین فیصدی لوگوں نے حق رائے دہندگان کا استعمال کیا ہے اور باقی ماندہ نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ یہ تشویش ناک صورت حال نہ صرف جموںوکشمیر کے عوام بخوبی سمجھتے ہیں بلکہ ہندوستان، پاکستان اور دُنیا بھر کی رائے عامہ بھی اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔

وادیٔ کشمیر کی اس تشویش ناک صورت حال کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان تلخی ، کڑواہٹ، تعلقات میں مسلسل سرد مہری اور معاندت بھی ود طرفہ مخاصمانہ صورت اختیار کرکے ہر روز جنگ بندی لائین پر خطرناک صورت حالات پیدا کرتی رہتی ہے

یہ حالات جموں وکشمیر کے عوام کے لئے تو ہیں ہی تشویش ناک جو کہ ان حالات کا سامنا کررہے ہیں لیکن ہندوستان اور پاکستان کے عوام بھی ان کی وجہ سے پریشان ہیں اور ایک بار پھر دونوںہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کے بادل چھائے نظرآتے ہیں۔ عالمی رائے عامہ بھی پریشان ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے مالک ہیں اور دیگر ممالک کو بھی جنگ کی لپیٹ میں لے کر عالمی امن کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس وقت تشویش ناک صورت حال کو معمول پر لا کر کوئی دیرپا حل دریافت کرنے کے لئے طرح طرح کے فارمولے اورتجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ دائیںبازو کے رجعت پسند عناصر وادی کشمیر کی احتجاجی اور مزاحمتی تحریک کو فوجی اور جابرانہ طریقہ سے کچل دینے کی تجاویز پیش کررہے ہیں اور پاکستان کو فوجی سبق سکھانے کی باتیں کررہے ہیں۔ احتجاجی اور مزاحمتی تحریک کے لیڈر رائے شماری کے مطالبہ پر اَڑے  ہوئے ہیں۔ ملی ٹینٹ عناصر بندوق کی نوک پر آزادی حاصل کرنے کے موقف پر قائم ہیں۔

کچھ اور عناصر ڈکسن پلان کی بنیاد پر مسئلہ کے حل کی تجویز پیش کررہے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ تجاویز اور فارمولوں پر غور وخوض کو فی الوقت بالائے طاق رکھتے ہوئے سردست اس صورت حال کے محرک ومتاثر تمام فریق یا طرفین ہٹ دھرمی ترک کر کے جامع الاثر اور غیر مشروط مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ مسئلے کا حتمی حل پانے سے پہلے کوئی خاطر خواہ متفقہ عبوری حل دریافت کیا جاسکے اور آخری حل کی جانب پیش قدمی کی جاسکے۔

اگر سارے فریق یا طریفین باہمی مذاکرات پر رضامند نہیںہوتے تو نہ صرف جموں وکشمیر کی تشویش ناک صور ت حال اس ریاست میں مزید تباہی و بربادی نازل کردے گی بلکہ برصغیر ہندوپاک کو جنگ کی بھٹی میں دھکیل کر عالمی امن کے لئے بھی خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
جنگ وجدل کے ذریعہ مسائل حل کرنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان باقاعدہ طورپر تین بار زورآزمائی کرچکے ہیں اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات ہی  نکلا اور آخر کا ردونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا۔ توکیوں نہ ایک اور جنگ سے پیشتر ہی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اختلافی مسائل کا پُرامن حل تلاش کرلیا جائے او ر برصغیر کو ایک اور جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ کر نیک ہمسائیگی کا حق اداکیا جائے؟ ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کو گزشتہ تجربات کی روشنی میں اپنے اپنے لئے لازمی سبق حاصل کرکے جنگ بازی کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ دُرست ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جموں وکشمیر سمیت کئی متنازعہ معاملات پر شدید اختلافات اور تنازعات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے حکمرانوں نے ا س سلسلہ میں متعدد بار مذاکرات کئے ہیں اور مذاکرات کے لئے راہیں بھی نکالی ہیں۔ جنگ وجدل سے دونوں میںسے کوئی بھی کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور دونوں ممالک کے حکمران کئی بار اس امر کا اعادہ کرچکے ہیں کہ جنگ کوئی آپشن نہیں ہے تو پھر جنگی تیاریاں کیوں اور جنگی جنون پیدا کر نے والے بیانات کیوں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوپاکستان مذاکرات کاآغاز کریں۔

کشمیر کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کا آغاز کیا جاناچاہیے۔ پیش ترازیں بھی حریت کانفرنس (م )کے لیڈروں سے نریندرمودی کے لیڈر اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن ایڈوانی بات چیت کرچکے ہیں۔ اب بھی اس جمود کو توڑ کرکشمیر میں بحالی ٔ امن کے لئے بات چیت کی پہلے سے زیادہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ کشمیر کی مین ا سٹریم پارٹیاں پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس بھی اس بات چیت اور مذاکرات کا مطالبہ کررہی ہیں۔ مذاکرات کی کنجی نریندرمودی کے ہاتھ میں ہے۔ نریندرمودی کو اپنے بند تالے میں اس کنجی کو قومی اور انسانی مفاد میں گھمانا چاہیے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بھی اور حکومت ہند اور علیحدگی لیڈروں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ یہ تقاضا ئے وقت ہے جس کی کسی بھی دوربین لیڈر سے یہ توقع کی جاسکتی ہے۔ اس امر میںکوئی شک نہیں کہ حریت کانفرنس پوری ریاست کی ہر گز نمائندہ فورم نہیںکہلاسکتی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وادیٔ کشمیر کے غالب حصہ کے احساسات وجذبات کی یہ ترجمان بن گئی ہے، اس لئے اس کے ساتھ بات چیت کے علاوہ مین ا سٹریم پارٹیوں پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس اور بی جے پی کوبھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنا یا جاناچاہیے تاکہ حل وسیع البنیاد ہو۔

ان مذاکرات میں ان پارٹیوں کے علاوہ جموں ، لداخ ، پہاڑی بولنے والے لوگوں کی بھی شمولیت لازم وملزوم ہے۔ تنازعہ جموںوکشمیر کے حل کے مذاکرات میں ہندوستان کے زیرانتظام علاقہ کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام جموںوکشمیر کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے نمائندوں سے مذاکرات ضروری ہے۔ بہرصورت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات حل کرنے اور وادی کشمیر میں بحالیٔ امن کی خاطر پاکستان اور علیحدگی پسند عناصر سے مذاکرات کا آغاز کرنے کے لئے ہندوستان کی زیادہ تر اپوزیشن پارٹیاں بھی اسی نظریہ کی حامی ہیں اور لازمی ہے کہ حکومت ہند اور نریندرمودی بغیر تذبذب کے پاکستان اور کشمیر کی علیحدگی پسند حریت کانفرنس سے مذاکرات کا آغاز کریں۔ ہاں ،یہ تبھی ممکن ہوگا جب امن مذاکرات شروع کرنے کی حامی سبھی پارٹیاں اس سلسلہ میں پورا زور لگائیںگی اور عالمی رائے عامہ بھی اس سلسلہ میں اپنا موثر دبائو استعمال کر ے گی۔
جب 1989میں کشمیر میں ملی ٹینٹ تحریک شروع ہوئی تو اس وقت بھی ہم نے واضح کیا تھا کہ موجودہ بین الاقوامی حالات اور جموں وکشمیر ریاست کی ہیت ترکیبی کے پیش نظر نہ تو ریاستی جبر وتشدد سے ملی ٹینٹ علیحدگی پسندتحریک کو ختم کیا جاسکتاہے اور نہ ہی عسکری بندوق کی نالی سے آزادی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مسئلہ سلجھا نے کاایک ہی راستہ ہے: بات چیت اور افہام وتفہیم کے ذریعہ مسئلہ کا نپٹارا۔ 2008اور 2010  اور 2016کی عوامی تحریکات کے درمیان بر بادیوں اور اور ہلاکتوں کے ناقابل بیان سلسلوں کے درمیان بھی ہمارا یہی موقف رہاہے اور آج بھی ہمارا موقف واضح اورا ٹل ہے کہ موجودہ بین الاقوامی حالات اور مختلف علاقائی و لسانی خطوں پر مشتمل جموںوکشمیر میں کسی عوامی تحریک کو نہ جبر وتشدد سے ختم کیا جاسکتاہے اور نہ ہی بندوق کی نالی سے مختلف خطوں پر مشتمل جموں وکشمیر کو آزاد کرایا جاسکتاہے۔ اس کا واحد حل فریقین کے درمیان پر خلوص اور ثمر بار مذاکرات کے ذریعہ دریافت کیا جاسکتا ہے جو خطے میں دیرپا امن کی بہاراور انصاف کی حیات آفرین پروائی مہیا کرسکتا ہے ۔ اس لئے نئی دہلی کو اپنی کشمیر پالیسی کو ان حیات بخش اصولوں پر استوار کر نی چاہیے کہ اس ے ردعمل میں دیگر فریق ضداور ہٹ دھرمی چھوڑ کر گفت وشنید کا راستہ اختیار کرنے میں آگے آئیں۔

جناب کرشن دیو سیٹھی کا یہ کالم کشمیر عُظمی میں شائع ہو ا تھا۔