جس کی غزلیں ریشم کے ڈھیر

کشمیر کاہونہار  بیٹا ۔ مشتاق شاد

تحریر:۔ ظہیر احمد مغل

کشمیر کا ادبی منظر نامہ کئی مایہ ناز شعرا اور ادبا کے نام سے روشن ہے۔ اردو ادب کو کشمیر نے جو نام ور شعرا اور ادبا دیے ان کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس حوالے سے میرپور اپنی زرخیزی میں انفرادیت کا حامل ہے۔ ناموں کی اس طویل فہرست میں ایک نام مشتاق شاد کا بھی ہے

ظہیر احمد مغل کا مشتاق شاد کو خراجِ عقید ت

مشتاق شاد کے حالات زندگی 

مشتاق احمد شاد جو ادبی دنیا میں مشتاق شاد کے نام سے مشہور ہوئے یکم ،جنوری1942 کو آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں شیخ رشید کے گھر تولدہوئے۔ ٦ برس کے تھے کہ والدہ ماجدہ دارِ فانی سے کوچ کر گئیں بعد ازاں ان کے والد صاحب لاہور منتقل ہو گئے جہاں مشتاق شاد، دیال سنگھ کالج، لاہور میں زیرِ تعلیم رہے۔ آپ نے ایم اے اردو کے علاوہ ایم او ایل کی ڈگری بھی حاصل کی- آپ اردو ،پہاڑ ی ، گوجری کے علاوہ ہندی ،سنسکرت ،پنجابی اور سنسکرت زبان پر دسترس رکھتے تھے –  آپ کی شادی 1965ء میں ہوئی جس میں سے آپ کی ٣ بیٹیاں اور ٢ بیٹے ڈاکٹر گوہر شاد اور عمر شاد (انجینئر) ہیں۔ آپ تلاشِ معاش کے سلسلے میں 1986ء میں سعودی عرب گئے اور البنک الاھلی التجاری، الریاض میں بہ طور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ فرائض منصبی ادا کرتے رہے۔ آپ سعودی عرب میں اردو ادب کی محافل کو روشنی بخشتے رہے اور ”بزمِ فانوس” کے صدر رہے۔ 1993ء میں آپ میرپور لوٹے اور تا دمِ مرگ یہیں رہے ۔ آپ نے 23 مئی ١٩٩٩ء میں میرپور کشمیر میں وفات پائی اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی۔

مشتاق شاد کی شاعری کی انفرادیت 

ہر کشمیری شاعر کے کلام میں کشمیر کا درد و غم ، دکھ اور کشمیر کے حسن کے تذکرے ملتے ہیں بے شک یہ ایک فطری عمل ہے مگر مشتاق شاد کے ہاں کشمیر کا جو دکھ ، درد اور کرب ملتا ہے وہ بے مثل ہے۔ مشتاق شاد کے علمی و ادبی قد کاٹھ کا اندازہ ان کے شعری مجموعوں کا مطالعہ کرنے سے ہو جاتا ہے۔ان کے شعری مجموعوں پر اردو کے قد آور شعرا اور ادیبوں نے آرا دی ہیں کہ میری جرات نہیں کہ ان کے کلام پر بات کر سکوں۔ میرا مقصد بس ان کی سوانحی اور دیگر معلومات آپ تک پہنچانا ہے۔

 ان کا پہلا شعری مجموعہ (غزلیات) ”ریگ رنگ” ماورا پبلی کیشنز لاہور نے ١٩٩٢ء میں شائع کیا جو ٢٤٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ ”ریگ رنگ ” میں ١٥٢ غزلیں ہیں۔

مشتاق شاد دوسروں کی نظر میں 

امجد اسلام امجد نے ”مشتاق شاد کی غزل ” کے عنوان سے ایک مفصل تقریظ لکھی ہے اس کے علاوہ محسن نقوی ، خالد احمد اور نجیب احمد نے بھی اپنی اپنی رائے دی ہے۔ خالد شریف منظوم انداز میں یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں:

”اُس نے لفظوں کے طاق پر

چاہت کے دیے سجا رکھے ہیں۔۔۔۔!

کہ اس کے بازار میں نفرت نام کی چیز ہی نہیں۔۔۔۔!

اُسے عکس اچھا لگتا ہے

ٹوٹے ہوئے آئینوں کا۔۔۔!

اور رنگ بھلا لگتا ہے

ریت کا

سنہری، دمکتی ، زندہ ریت

اس کی شاعری کا استعارہ۔۔۔

ریگ رنگ ۔۔۔! محسن نقوی لکھتے ہیں: ”مشتاق شاد نے خیالوں میں چمکتی دمکتی ریت پر جذبوں کی دھنک کے ساتوں رنگ چھڑک کر اُسے ”سونا” بنا دیا ہے۔ وہ میرے عہد کا ذہین شاعر ہے جو ڈوب کر غزل کہتا ہے اور پلکوں کو ہوائے ہجر کے نم ناک جھونکوں میں بھگو کر ایسی شاعری تخلیق کرتا ہے جسے پڑھ کر اپنے عہد کی صداقت اور احساس کی توانائی پر یقین کرنا پڑتا ہے، ”ریگ رنگ” یقینا اس سال کا زندہ، تابندہ اور رخشندہ مجموعہ ٔ کلام ہے۔”

مشاق شاد کی غزل کے متعلق امجد اسلام امجد لکھتے ہیں:۔

”اس کا لہجہ اتنا مانوس اور انداز ایسا اپنائیت والا ہے کہ اس کی غزلیں ریشم کے ڈھیر کی طرح دل میں تہیں سی بچھاتی چلتی جاتی ہیں، سیدھی سادی، دل میں اترنے والی باتیں، نئی اور طبع زاد تمثالیں، آسان اور رواں بحریں، لمبی لمبی مترنم ردیفیں، کہیں کہیں لسانی تشکیلات اور ان سب پر مستزاد ایک درد مند دل اور ایک حساس اور سوچنے والا ذہن۔ اچھی شاعری کے اجزائے ترکیبی اور کیا ہوتے ہیں؟ ” ۔

مشتاق شاد کا مجموعہ- نِمبل

مشتاق شاد کا دوسرا شعری مجموعہ ”نِمبل” کے نام سے الحمد پبلی کیشنز ، لاہور نے ١٩٩٦ء میں شائع کیا۔ اس مجموعۂ کلام میں کشمیر کے متعلق نظمیں ہیں۔ ”نمبل” میں ٦٢ اردو نظمیں جب کہ ٠٩ پہاڑی نظمیں شامل ہیں جو ان کی اپنے وطنِ عزیز کشمیر کے لیے بے پناہ محبت اور پردیس میں رہتے ہوئے وطن پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ”نمبل” میں ڈاکٹر وزیر آغا کا مفصل مضمون شامل ہے علاوہ ازیں عباس تابش اور نصیر احمد ناصر کی آرا بھی شامل ہیں۔ اپنی کتاب میں ”نیلگوں لمحہ” کے عنوان سے مشتاق شاد لکھتے ہیں: ”نمبل شاید آپ کے لیے کوئی نیا سا نام ہو لیکن یہ معنوی اعتبار سے اتنا ہی پرانا ہے جتنا آسمان، بادل، سورج ، چاند اور ستارے۔ جب بادل کھل کر برس چکتے ہیں اور آسمان نیلے پانیوں کی طرح شفاف ہو جاتا ہے ، وہی نیلگوں لمحہ ”نمبل ” ہے۔ کشمیر میں بولی جانے والی بہت سی علاقائی زبانوں، کشمیر، پہاڑی، گوجری، ڈوگری، بھدرواہی اور پنجابی میں بھی نمبل کے یہی معنی ہیں۔ اس لحاظ سے ”نِمبل” پورے کشمیر کی آزادی اور بقا کا سمبل (symbol )ہے۔”

”نمبل” میں موجود تمام نظموں میں مشتاق شاد نے کشمیر کے درد و کرب کو بڑی حساسیت سے قلم بند کیا ہے۔ نمبل کی تمام نظمیں بڑی جوشیلی ہیں اور مجال کے کوئی شعر بھرتی کا ہوتو ہو ، ہر شعر ایک تحریک ہے اور آزادی ٔ کشمیر میں روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مشتاق شاد کی ہر نظم کے اک اک  لفظ میں دکھ، کرب اور کشمیر کا نوحہ ہے،  مشتاق شاد کی لفظوں پر دسترس اور ان نظموں کی بے مثالی ہی ہے جو ڈاکٹر وزیر آغا ”نمبل” کو ظلم کے خلاف جہاد کا کھلا استعارہ قرار دیتے ہیں

مشتاق شاد کے کلام کی نئی پیش کش

قارئین! ایک اور خاص بات بتاتا چلوں کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی عروج پر ہے اور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا۔ مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کی مزاحمت کر رہے ہیں اور تحریکِ آزادی کشمیر میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں وہیں میرپور کا ایک نوجوان جسے اللہ نے پُرکشش آواز سے نوازا ہے ، وہ پیشہ ور گلوکار نہیں بل کہ کشمیر کی محبت میں اور کشمیر پرہونے والے ظلم و ستم ، صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے اپنے وطن کے لیے ، تحریک آزادی کشمیر کے کارکنوں کے جوش و ولولے کو ابھارنے کے لیے اپنی آواز سے بے لوث اور بغیر کسی لالچ کے کشمیر کے ترانے گاتاہے ۔ وہ ہر سرکاری و غیر سرکاری پروگرام میں مدعو کیا جاتا ہے وہ اس کام کے پیسے نہیں لیتا بل کہ یہ سب کشمیر کی محبت میں کر رہا ہے۔ جب میں نے اس گلوکار جسے دنیا زوہیب زمان کے نام سے جانتی ہے، رابطہ کیا اور مشتا ق شاد کی کشمیر کا نوحہ کرتی نظموں اور کتاب ”نمبل” کا ذکر کیا تو زوہیب زمان نے بتایا کہ مشتاق شاد میرے تایا تھے۔ زوہیب زمان نے آزادکشمیر کا قومی ترانہ اور ”میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن” نئے انداز میں گائے ہیں جو آپ یوٹیوب پر سن سکتے ہیں۔ اب زوہیب زمان اپنے تایا مشتاق شاد کی نظموں کو اپنی آواز دے کر امر کرنے کا کام بھی کر رہے ہیں۔

مشتاق شاد کا نثری سرمایہ 

مشتاق شاد کا کلام اور مضامین پاکستان کے نمائندہ ادبی رسالوں میں چھپتے رہے جن میں ابلاغ، تجدیدِ نو، آسمان، اردو زبان، ادبیات، چہارسو، افکار، الفاظ، اوراق، الانسان، اندیشہ، ادبِ لطیف، صریر وغیرہ شامل ہیں۔ سِہ ماہی ”ابلاغ”کے شمارہ اکتوبر١٩٩٨ء میں ”مشتاق شاد کے تحقیقی مضامین” کے عنوان سے سیدہ حنا لکھتی ہیں: ”انھوں نے نظم و نثر میں کتنا کام کیا ہے اور ساراکام معیار ی ہے، معلوماتی ہے۔ نئی نئی اصناف شعر سامنے آتی ہیں۔ ان کے خوب صورت ترجمے دل لبھاتے ہیں۔ پہاڑی، چھلا، لوک نظم، ڈھولنے، ڈھولے، دوہے ، ماہیے، پنجابی غزل، اردو غزلیں، نظمیں، گیت، آزاد نظمیں، ان میں تخیل کی رنگا رنگی، اپج، انفرادیت سبھی کچھ موجود ہے۔ لیکن ان سے بڑھ کر جو کام انھوں نے کیا ہے وہ شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ اس کو دیکھ کر افسوس ہوا کہ یہ اب تک کتابی شکل میں کیوں نہیں آیا۔ ”

مشتاق شاد کا دیگر تخلیقی کام 

مشتاق شاد کی بے شمار غزلیں، نظمیں، پہاڑی اور لوک گیت ابھی تک زیورِ طبع سے آراستہ نہیں ہوئے ۔ ان کا ضخیم کام اسی طرح پڑا ہوا ہے جو قابل ِاشاعت ہے جس کو آنے والی نسلوں اور اردو ادب کے طَلَبہ کے لیے طبع کیا جانا ناگزیر ہے۔ مشتاق شاد کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے اور ان پر کام کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا کام محفوظ کیا جاسکے۔ دعا ہے اللہ پاک مشتاق شاد کو غریقِ رحمت فرمائے اور کشمیر یوں کو آزادی کی نعمت سے مالا مال فرمائے۔

مشتاق شاد کی شاعری کا انتخاب 

آخر پر مشتاق شاد کے چند اشعار بہ طور نمونہ پیش خدمت ہیں۔

مرے آقاۖ، مرے کشمیر پر اپنی نظر کر دیں

یہاں اتری ہوئی ظلمت کی ہر شب کو سحر کر دیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آغاز ہے کشمیر تو انجام ہے کشمیر

کشمیر کا بیٹا ہوں، مرا نام ہے کشمیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشمن کو میں اس خاک کا ذرہ بھی نہ دوں گا

میرے لیے اس خاک کا ذرہ بھی وطن ہے

۔۔۔۔۔۔۔

خدا مری مفلسی کی عزت بنائے رکھے

فقیر ہوں اور بادشاہوں میں آ گیا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لفظ جب تک وضو نہیں کرتے

ہم تری گفتگو نہیں کرتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ایک ذرہ تھا صحرا کیا مجھے اس نے

مری شکست سے پیدا کیا مجھے اس نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیند آنکھوں کی طرف لاکھ دبے پائوں چلے

خواب حساس ہیں، خوابوں کو پتا چل جائے

۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاتھ پھیلائو نہ تم اپنی ضرورت کے لیے

ہاں کسی اور کی خاطر ہو تو بڑھ کر مانگو

ختم شد//