پناہ گاہیں، ایک احسن اِقدام

ندیم سرور

پاکستان شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ آج کی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ سردی سکردو میں ریکارڈ کی گئی جو کہ منفی سترہ ڈگری تھی۔ اس سے پہلے 1965 میں اتنی شدید سردی پڑی تھی جس سے ہر مائع چیز منجمند ہو گئی تھی۔ آج بھی ہر طرف دھند / فوگ کا راج ہے۔ شہری اور میدانی علاقے  زیادہ متاثر نظر آتے ہیں جہاں دن بھر چھائی دھند سے ہر شے متاثر نظر آتی ہے۔ ایسے میں اہل ثروت حضرات گرم کھانوں اور اپنی رہائش گاہوں کو گرم رکھنے کے لیے  طرح طرح کے جتن کرتے نظر آتے ہیں۔ خود کو اور اپنے اولاد کو ہر ممکن کوشش کر کے اس سرد لہر سے بچاتے ہیں تاکہ وہ بیمار ہونے سے بچ سکیں۔

موجودہ حکومت نے اب تک کے کاموں میں سب سے مثالی کام بڑے شہروں  پناہ گاہیں قائم کرنا ہے۔ اسلام آباد میں رہنے کے دوران میں ایسے کئی لوگوں کو عموماً دیکھا کرتا تھا جو رہائش نہ ہونے کے باعث سڑکوں پر اور بازار میں قائم تھڑوں پر رات ٹھٹر ٹھٹر کر گزارتے تھے۔ میں جب بھی ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اے اللہ انھوں نے کس دنیا میں آنکھ کھولی ہے جہاں کہ حکمران اتنے ظالم اور سفاک ہیں کہ اپنے گھروں میں ہمیشہ ایک جیسامعتدل موسم رکھتے ہیں مگر اپنی رعایا کے لیے کچھ بھی نہیں کرتے ہیں۔

 بلا شبہ اللہ پاک نے وقت کے حکمران عمران خان سے ایک بڑا کام لیا ہے۔ یقیناً ہم میں سے کوئی بھی اس درد اور کرب کو نہیں سمجھ سکتا کیونکہ ہم اس کرب اور  مصیبت سے کبھی دو چار نہیں ہوئے۔  اگر کبھی ایسا موسم اور وقت آیا بھی ہے تو انجوائے کرنے کے لیے وہ رات ہم نے بسر کی ہوگی۔ اگرچہ اتنی رہائش گاہیں کافی نہیں ہیں،  ملک میں غربت زیادہ ہے مگر یہ فلاحی ریاست کی جانب ایک بڑا قدم ضرور ہے۔ اگر میٹرو اور اوریج ٹرین کی بجائے ایسےلوگوں کی رہائش،  صھت اور اِن کے بچوں کے لیے مفت تعلیم فراہم کی جاتی تو وہ بھی آج معاشرے کے اچھے شہری بننے کی طرف بڑھ رہے ہوتے۔

اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ انسانوں کی ترقی کے منصوبے ترجیع بنیادوں پر شروع کرےتاکہ عام آدمی کو فائدہ پہنچے اور وہ بھی قومی دھارے میں شامل ہو سکے۔شکریہ وقت کے حکمران: عمران خان۔