شاردہ پتھ یونیورسٹی

تحریر و تصاویر : محمد احسن

شاردہ کا محلِ وقوع

شاردہ کا قصبہ شمالی آزاد جموں و کشمیر میں وادئ نیلم میں دریائے نیلم کے کنارے موجود ہے۔ مظفرآباد سے نیلم کے آخری سیاحتی قصبے تاؤبٹ جائیں تو شاردہ تقریباً وسط سے تھوڑا آگے پڑتا ہے۔ شاردہ سے ایک جیپ ٹریک وادئ کاغان کی جانب نکلتا ہے اور وحشت سے لبریز انسان درہء نُوری عبور کر کے جلکھڈ پہنچ جاتا ہے۔ شاردہ پر حاوی کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر شمالی جانب نظر دوڑائیں تو آپ نانگاپربت بادشاہ کی نظروں میں آ جاتے ہیں۔ مگر شاردہ کچھ اور بھی ہے.

لفظ “شاردہ” اصل میں سنسکرتی لفظ “شرّدھا” سے نکلا ہے جس کا مطلب “موسمِ خزاں سے محبت کرنے والی دیوی” ہے.. اور اُس دیوی کا اصل نام “سرسوتی” ہے جو خزاں سے محبت کرتی ہے اور اُس کی جاب ڈسکرپشن میں فنونِ لطیفہ، علم و حکمت اور موسیقی شامل ہیں۔ شرّدھا خصوصی طور پر جامنی رنگ سے وابسطہ ہے۔

سرسوتی دیوی ہندو عقیدہء تثلیث میں ایک اہم ستون ہے۔

دوسری دو پارٹنر دیویاں لکشمی (دولت کی فراوانی) اور پروتی (محبت کی فراوانی) ہیں۔ ہندومت میں دیوی صرف انرجی کے ذمرے میں ہے، باقاعدہ خدا وغیرہ نہیں ہوتی۔ اِس عقیدہ کو دنیاوی رنگ میں دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ موسیقی کا رسیا پڑھا لکھا انسان جب پیسے خرچ کر کے خزاں کو انجوائے کرنے لمبے سفروں پر نکلتا ہے تو اُس پر شرّدھا دیوی مہربان ہو چکی ہوتی ہے۔ ہندوستانی اداکارہ شرّدھا کپور کو شاردہ نیلم کہہ سکتے ہیں، مگر خیر یہ ذکر ایویں درمیان میں آ گیا۔ البتہ جامنی رنگ توجہ لاک کر لیتا ہے، خصوصاً مُسافرِشَب کی۔ تقریباً شدید ہائے۔ ایک تمغہء امتیاز میری جانب سے۔

پرانے دور میں شاردہ کے قریب سرسوتی دیوی کا مجسمہ بھی موجود تھا۔ قدیم مقامی عقائد کے مطابق اُس دیوی کے چرن چھونے سے انسان کا جسم یک دم گرمی کی لپیٹ میں آ جاتا تھا۔ غالباً ہر دیوی میں یہ خصوصیت موجود ہوتی ہے۔

آجکل بھی شاردہ میں شرّدھا یا سرسوتی دیوی کا مندر موجود ہے جسے شاردہ پتھ اور شاردہ یونیورسٹی کہتے ہیں۔ مختلف انگریزی آرٹیکلز اور گوگل وغیرہ پر “شاردہ پِیٹھ” لکھا ہے، پلیز اُن کی دلکش باتوں میں نہ آئیے گا۔

یہ “شاردہ پتھ” ہے اور “پتھ” کا مطلب شاردہ دیوی کی قابلِ احترام جگہ ہے.. مطلب بیٹھنے وغیرہ یا رہائش کی جگہ۔

ایک حد تک مطلب وہی ہے۔ماضی میں شاردہ پتھ کو ہندوؤں کے علاوہ اہلِ بدھ مت بھی استعمال کرتے رہے کیونکہ سرسوتی دیوی بدھ مت میں بھی قابلِ احترام ہے۔ اِس مندر میں داخل ہوں تو پاک فوج کے جوان توپیں تانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ نیا بندہ سمجھتا ہے کہ یہ انتظام شرک کو روکنے کے لیے ہے۔ مگر ایسا کچھ نہیں، پاک فوج اِس مندر میں اینٹی ایرکرافٹ سسٹم لگائے بیٹھی ہے۔

دوسرا خیال آتا ہے کہ آخر ہندوستانی فوج اپنے ہی مندر پر کاہے کو بمباری کرے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شرّدھا کا مندر (شاردہ پتھ) ایک پہاڑی کی بلندی پر ہے۔ پاک فوج نہیں چاہتی کہ نیلم-کاغان جیپ ٹریک کو کوئی نقصان پہنچا سکے۔ کچھ اور احداف بھی ہوں گے۔

شرّدھا اب دریائے کشن گنگا میں زندہ ہے.. کہ دریائے نیلم کا قدیم نام کشن گنگا ہے۔

یہ شاردا پتھ مندر کا ایک ستون ہے اور اِس میں ایک طاقچہ نظر آ رہا ہے۔ ذرا اپنی توجہ کو ایک ہزار برس قدیم زمانوں کی ایک چاندنی شَب میں لے جائیے جب یہ مندر درست حالت میں آباد تھا۔ اِس طاقچہ میں ایک دِیا ٹمٹماتا تھا۔ اردگرد مندر میں زیرِ تعلیم طلباء لکڑی کی چپلیں، نارنجی رنگ کے لباس اور صفا چٹ سروں کے ساتھ گھومتے تھے۔ دِیا کی روشنی، زورآور چاندنی، شدید گھناوٹ سے لبریز جنگل کی خوشبو، سرد موسم، قریب بہتا دریا جس کا نام نیلم نہیں گنگا تھا اور فضا میں شرّدھا دیوی سے متعلق عجب آوازیں….. یہ کشن گنگا کی وادی تھی۔

فرعون توتن خامن کے مقبرہ کو جب 3300 برس بعد دریافت کیا گیا تو اُس کے اندر طاقچہ میں اُنہی قدیم زمانے کے انسانوں کے ہاتھوں کے سیاہ نقش موجود تھے جو آخری بار دِیا بجھا کر چلے گئے تھے اور مقبرہ ہزاروں برس کے لیے بند ہو گیا تھا.. وقت کے گہرے بھید بھرے پرسکون سمندر میں دفن ہو گیا تھا.. اسی لیے محفوظ رہا۔

مگر شاردا کے مندر نے سطح سمندر پر آنے والے طوفانوں کی مانند زمانوں کے تھپیڑے سہے ہیں.. اس میں اتنی سکت نہ تھی کہ قدیم نقوش مستقبل میں لے جاتا۔ ہاں، توجہ ایک ایسا پرندہ ہے جو لازماں و لامکاں میں اُڑان کرتا ہے۔ اسی پرندے کو استعمال میں لا کر ہزار برس قدیم زماں میں پرواز کر جائیے اور کسی فلم کی مانند ماحول دیکھیے.. اگر دیکھنا چاہیں تو ممکن ہے.. ورنہ توجہ کو کہیں اور لے جائیے..

صحرائے عرب میں لے جائیے.. جراسک پارک پیریئڈ میں لے جائیے.. یا بچھڑے محبوب کی خواب گاہ میں لے جائیے۔ اور اِدھر.. شاردا میں یہ طاقچہ تو رہا مگر روشنی نہ رہی..تھی جس سے روشنی، وہ دِیا بھی نہیں رہا۔۔ اب دل کو اعتبارِ ہوا بھی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔کچھ ہم بھی ترے بعد زمانے سے کٹ گئے۔۔۔۔کچھ ربط و ضبط خدا سے بھی نہیں رہا۔۔

۔اب پڑھتے ہیں شاردہ یونیورسٹی آثارِ قدیمہ میں لگے بورڈز سے نقل کی گئی سیدھی سیدھی معلومات۔ مشہور مسلمان مورخ البیرونی اپنی کتاب الہند میں شاردہ کا کچھ یوں ذکر کرتے ہیں ”سری نگر کے شمال مغرب میں شاردہ واقع ہے۔ اہلِ ہند اس مقام کو انتہائی متبرک تصور کرتے ہیں اور بیساکھی کے موقع پر ہندوستان بھر سے لوگ یہاں یاترا کے لئے آتے تھے“۔ شاردہ یونیورسٹی کا قدیم نام شاردہ پتھ

(Sharda Peth)

ہے۔

پتھ قدیم سنسکرت زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے لغوی معنی ایسی جگہ یا نشست گاہ کے ہیں، جس کو روحانی تکریم سے نوازا گیا ہو۔

کنشک اول (نیپال کے شہزادے) کے دور میں شاردہ وسط ایشیا کی سب سے بڑی تعلیمی و تدریسی درسگاہ تھی۔ یہاں بدھ مت کی باقاعدہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تاریخ، جغرافیہ، ہیت، منطق اور فلسفے پر مکمل تعلیم دی جاتی تھی۔ اس درسگاہ کا اپنا رسم الخط تھا، جو دیوناگری سے ملتا جلتا تھا۔ اس رسم الخط کا نام بھی شاردہ تھا۔

کہا جاتا ہے کہ 3058 قبلِ مسیح میں وسط ایشیاء میں آنے والے سراس وات برہمن، جو علم آشنا اور مہذب لوگ تھے، اس درے میں آ کر آباد ہوئے۔ شاردہ دیوی انہی قبائل کی تخلیق بتائی جاتی ہے اور گاؤں کا نام شاردہ (شرّدھا) دیوی کے نام پر ہی ہے۔ شاردہ کا شمار ہندو مت، بدھ مت اور شیو مت کے مقدس ترین مقامات میں ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کی اس عمارت کو کنشک اول نے 24 تا 27ء میں تعمیر کروایا تھا۔ شاردہ یونیورسٹی کی عمارت شمالاً جنوباً مستطیل چبوترے کی شکل میں ہے۔ عمارت کی تعمیر آج کے انجینیئرز کو بھی حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

یہ عمارت برصغیر میں پائی جانے والی تمام قدیمی عمارتوں سے مختلف ہے، خاص طور پر اس کے درمیان میں بنا چبوترہ ایک خاص فن تعمیر کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً سو فٹ ہے۔ اس کے چاروں اطراف دیواروں پر نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ جنوب کی طرف ایک دروازہ ہے۔ عمارت کے اوپر چھت کا اب نام و نشان باقی نہیں ہے۔ مغرب سے اندر داخل ہونے کے لئے تریسٹھ (63) سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ آج بھی کچھ قبائل 63 زیورات پر مشتمل تاج ہاتھی کو پہناتے ہیں اور پھر اس کی پوجا کرتے ہیں۔ 63 عدد جنوبی ایشیاء کی تاریخ میں مذہبی حیثیت رکھتا ہے۔

بدھ عقائد سے ملتی جلتی تصاویر اس میں آج بھی نظر آتی ہیں۔ اِن اشکال کو پتھر میں کرید کر بنایا گیا ہے۔ اس عمارت میں ایک تالاب بھی ہوتا تھا جو اب موجود نہیں۔ امراضِ جلد سے متاثرہ لوگ اس میں غسل کرتے اور شفاء پاتے تھے کیونکہ یہاں آنے والا پانی دو کلومیٹر دور سے سلفر ملے ہوئے تالاب سے لایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ کشمیر کے پہاڑوں کے دامن میں شردھ (شاردہ) نامی لکڑی کا حیرت انگیز بُت تھا، جس کے پاؤں چھونے سے انسان کے ماتھے پر پسینہ پھوٹ پڑتا تھا۔

مقدس رات کے نصف پہر کو شاردہ تیرتھ کا مرکزی حصہ کسی غیبی طاقت کی مدد سے جھومتا تھا۔ بحوالہ: ابو الفضل آئین اکبری۔۔۔۔

مشہور مورخ زون راج کے مطابق 1088ء میں ریاست گجرات کی حدود میں ایک نہایت ہی ذہین و فطین انسان پیدا ہوا۔ اس کا نام ہیما چندرا بتایا جاتا ہے۔ علم و ادب میں اس کی شہرت دور دور تک پھیلی۔ گجرات (پاکستانی گجرات) کے راجہ جیا سمہا نے اس عالم و فاضل شخص کو اپنے دربار سے منسلک کیا۔ اس علم دوست انسان نے راجہ گجرات سے التجا کی کہ وہ ایک ایسی انسائیکلوپیڈیا تیار کرنا چاہتا ہے کہ جس میں مذاہب عالم زباندانی کے آفاقی اصول اور عالمی ادب جیسے مضامین پر مکمل تحقیق موجود ہو۔ اس کام کی تکمیل کے لئے آٹھ قدیم زبانوں میں لکھے گئی گرائمر کی کتب مطلوب تھیں۔

ان نایاب کتب کی دستیابی کے لئے ہیما چندرا نے بادشاہ سے گزارش کی کہ یہ کتب صرف اور صرف شاردہ کی یونیورسٹی کے ذخیرہ کتب سے مل سکتی ہیں۔ اس پر بادشاہ نے ان کتب کے حصول کے لئے ایک اعلیٰ سرکاری وفد کشمیر کی راجدھانی پری وار پورا (موجودہ سرینگر) روانہ کیا۔ یوں کتب اور مسودات وغیرہ شاردہ سے گجرات پہنچائے گئے، جن کی مدد سے Siddha Hema Chandra کے نام سے کتاب تیار کروائی گئی۔

محمد احسن “ مسافر شب “کے نام سے سوشل میڈیا پر سفر ناموں کا احوال لکھتے ہیں اور اپنی بنائی گئی تصاویر پر بھی یہی نام استعمال کرتے ہیں ۔ مدیر

 ‎