سفر نامہ وادی جہلم کشمیر

 تحریر و تصاویر: ڈاکٹر صداقت ریاض

چلو بادلوں کو چھو کر دیکھتے ہیں 

 اگست 2020 کے شروع کے دن تھے ۔۔۔ ہم میاں بیوی کا پروگرام بنا کہ چند روز کے لئے کشمیر چلتے ہیں ۔۔۔ اہلیہ کشمیر کےعلاقے چکار سے ہیں ، ہماری شادی کو دو برس ہونے کو آئے ۔۔ان دو سالوں میں کشمیر جانے کا پروگرام بنتا ٹوٹتا رھا ۔۔۔ اس دفعہ میرا ارادہ واہ کی شدید گرمی مزید پکا کر رہی تھی ۔۔۔ 

اہلیہ کا خیال تھا کہ طویل سفر تھکا دے گا اور ہماری شہزادی حفصہ ابھی چار ماہ کی ہے میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ ابھی سے سفر کرے گی تو اسے دنیا کا پتا چلے گا 

 اور ویسے بھی شدید گرمی کے ساتھ ساتھ کلینک کی مصروفیات ذہنی دباؤ میں رکھتی ہیں کچھ دن اس یکسانیت سے نکل کر گزارنا چاہتا ہوں اور وہ بھی آپکے کشمیر میں  

چلو بادلوں کو چھو کر دیکھتے ہیں 

وادی جہلم کے چکار جیسے علاقے کا  یہ سفر تھکاوٹ نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی توانائی کا ذریعہ بنے گا۔۔۔۔۔ چنانچہ 6 اگست کو ہم کشمیر کے لئیے روانہ ہو گئے۔۔۔۔ ہمارے اس سفر کی منزل کشمیر تھی جسکی وادیاں اور پہاڑ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سیاحوں کے ذوق نظر تسکین بنتے ہیں۔۔۔۔میں ذاتی طور پر کشمیر کی تاریخ کے ساتھ کشمیر کے جغرافیے میں بھی دلچسپی رکھتا ہوں ۔۔۔ مظفرآباد شہر میں قائداعظم برج جسے مقامی طور پہ دومیل پُل کہتے ہیں سے دائیں جانب سابقہ جرنیلی روڈ جو مظفرآباد سرینگر شاہراہ کہلاتی ہے کے ساتھ بہتے دریائے جہلم کے دونوں اطراف پھیلا  جھیل ڈل سرینگر تک کا علاقہ وادی جہلم کہلاتاہے… آپ مظفرآباد کی راولپنڈی جیسی گرمی سے اس روڈ پر آتے ہیں تو تھوڑی دیر بعد ہی خوشگوار ٹھنڈک اور مست ہوائیں یہ سندیسے بھیجتی ہیں کہ آپ بادلوں کے دیس میں جا رہے ہیں۔۔ 

وادی جہلم کی زیادہ تر آبادی تعلیم یافتہ ہے۔  عموماًلوگ ملازمت پیشہ ہیں۔کھیتی باڑی گلہ بانی زراعت کا عام رواج ہے ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے بلند و بالا چوٹیاں گھنے جنگلات آ بشاریں ہرے بھرے میدان… غرض قدرت نے جہلم ویلی کو بے شمار خصوصیات سے نوازا ہے۔  گڑھی دوپٹہ ، چھٹیاں، سراں ، ہٹیاں بالا، چناری، چکوٹھی، شاریاں، لمنیاں، ریشیاں ، چکار، نون بگلہ، بنی حافظ، اور سر بگلہ  جہلم ویلی کے مشہور قصبے ہیں ۔۔۔ جہلم ویلی کے مشہور سیاحتی مقامات میں چکار، نون بگلہ، سُدھن گلی، داوءکھن، چھم آبشار  (جو آزاد کشمیر کی سب سے بڑی آبشار ہے) شامل ہیں۔ جبکہ پیر پنجال پہاڑی سلسلے میں موجود گنگا چوٹی جہلم ویلی کو پونچھ سے علیحدہ کرتی ہے دوسری طرف کوہ  قاضی ناگ کا پہاڑی سلسلہ جہلم ویلی کو  وادی لیپہ سے علحیدہ کرتا ہے۔۔۔ آٹھ اکتوبر 2005 کے 

زلزلے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی دو جھیلیں زلزال جھیل اور بنی حافظ جھیل  بھی اسی وادی جہلم میں واقع ہیں۔۔۔ وادی جہلم سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہونے کیوجہ سے ابھی تک صحیح طور پر متعارف نہیں ہو سکی۔۔۔۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ گاڑی مظفرآبادسری نگر شاہراہ کو چھوڑ کر چکار کی بلندیوں کی طرف مڑ گئی۔گویا 

ھاں مجھے آسمان چھونا ہے 

 بادلوں پہ مجھے سوار کرو 

چکار بادلوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔ بارشوں کے گیلے الپائن جنگلات کی مہک آور خوشبو رگ رگ میں اتر رہی تھی ۔۔

نون بگلہ میدان

چکار: قدرت کا شہکار

چکار ایک انتہائی خوبصورت اور صحت افزا مقام ہے۔ آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس خوبصورت اور پرکشش مقام پر جانے کے لیے مظفرآباد میں واقع قائد اعظم برج یا جس کو عرف عام میں دومیل پل کہا جاتا ہے سے دائیں جانب شاہراہ سرینگر پر سراں اور چھٹیاں کے قصبوں سے گزرتے ہوئے  تقریباً  35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں دھنی بقالاں سے دائیں طرف کی بلندیوں کی جانب اوپر سے اوپر چکار کی طرف مڑ جائیں جو یہاں سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ چکار کے پر رونق بازار سے چند منٹ کے فاصلے پر پوٹھی بازار آ تا ہے ۔ جہاں سے ایک سڑک نیچے کو مڑتی ہے جو ضلع باغ آزاد کشمیر کی طرف جاتی ہے جبکہ اسی مقام سے ایک سڑک اوپر کی طرف جاتی ہے جو نون بگلہ اور رحیم کوٹ کی طرف جاتی ہے۔یہاں سےنون بگلہ  تقریباً 10 کلومیٹر اوپر واقع ہے ۔ اور زلزال جھیل 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔رستے میں ہل ویو ریزارٹ اور گیسٹ ہاؤس کے ساتھ فش ہیچری بھی ہے ۔۔۔ گرمیوں میں چکار کا موسم انتہائی خوش گوار ہوتا ہے ۔۔۔ آپ گھنٹوں بادلوں میں گھرے رہتے ہیں۔۔۔اسی لئیے  ڈسٹرکٹ ہٹیاں بالا کی یہ تحصیل چکار بادلوں کا دیس بھی کہلاتی ہے۔۔۔ یہاں سے گنگا چوٹی اور دوسری طرف کوہ قاضی ناگ چوٹی بادلوں میں بسیرا کیے ہوئے نظر آتی ہیں ۔چکار  میں تین جگہیں خصوصیت کے ساتھ دیکھنے کے قابل ہیں۔
1. زلزال جھیل (2005 کے زلزلے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی عطا آباد کی طرح کی جھیل جو ساڑھے تین کلومیٹر کے ایریے میں ہے ۔۔۔

نون بگلہ

نون بگلہ

نون بگلہ چکار سے خاصی اونچائی پر دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ 10 کلومیٹر کا سفر انتہائی دلفریب مناظر سے بھرپور ہے۔۔۔۔نون بگلہ سے اوپر کی جانب ایک خوبصورت ٹریک ہے یہ ٹریک بہت خوبصورت چیڑ کے بلند قامت جنگلات میں گھرا ہوا ہے جو ٹاپ تک جاتا ہے  ۔۔
زلزال جھیل کے اختتام پر جھیل کا پانی تین آبشاروں کی صورت میں نیچے گرتا ہے ۔ اور اس کے دائیں طرف زلزلے کے نتیجے میں بننے والی ایک اور جھیل بھی ہے جسے بنی حافظ جھیل کہتے ہیں۔۔۔۔۔ہمارا اگلا سفر چکار سے نون بنگلہ یا بگلہ کا تھا ۔

نون بگلہ مسجد

نون بگلہ:  قدرتی ائیر کنڈیشنڈ
 نون بگلہ چکار بازار سے تقریباً 10 کیلومیٹر اوپر چیڑ، دیودار ،اخروٹ کے جنگلات کے نظاروں سے بھر پور ٹریک پر واقع ہے ۔ یہ گاؤں اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے آزاد کشمیر بھر میں جانا جاتا ہے۔ نون بگلہ بازار سے 10 منٹ کی ٹریکنگ پر واقع نون بگلہ ٹاپ پاکستان کے کسی بھی سیاحتی مقام سے کسی طور کم خوبصورت نہیں ۔۔ اسے منی اڑنگ کیل بھی کہا جاتا ہے ۔۔اس مقام سے آپ ایک جانب لیپہ ویلی، پانڈو، گنگا چوٹی،  زلزال جھیل، اور کڑلی چکارکے نظاروں سے لطف اندوز ہوتےہیں تو دوسری جانب اسی مقام سے آپ کوہ قاضی ناگ کی چوٹیوں کے دلکش نظاروں کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔
 نون بگلہ میں کچھ مقامات پر ایسی چٹانیں موجود ہیں جن کو مقامی لوگ قدرتی ایئر کنڈیشنرز بھی کہتے ہیں کیوںکہ ان چٹانوں سے ہر وقت قدرتی طور پر انتہائی ٹھنڈی ہواؤں کا اخراج جاری رہتا ہے جیسے زیر زمین اے سی چل رہے ہوں۔۔۔ یہ ایک حیرت ناک تجربہ تھا۔اسی طرح نون بگلہ بازار سے آگے کی جانب نون بگلہ گاؤں میں واقع میدان بھی ایک خوبصورت مقام ہے۔۔۔ یہاں کی جامع مسجد کے ساتھ ایک چشمہ ہے جسے اللہ ہو چشمہ کہتے ہیں جس کی خاصیت یہ ہے کہ اس چشمے کے کنارے اللہ کا ذکر کیا جائے تو پانی کے سوتے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں یہ بھی ایک حیرت انگیز تجربہ تھا ۔۔۔ دوسرا اس چشمے کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے چشمے سے بننے والی چھوٹی سی نہر کے کنارے پر واقع چاروں طرف سے فلک بوس پہاڑوں اور قدرتی جنگلات میں گھرا ہوا  تقریباً   600 کنال اراضی پر محیط یہ میدان نون بگلہ کی وادی کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ چاندنی راتوں میں اس مقام پر کیمپنگ کسی طور پر زندگی کے بہترین اور خوبصورت ترین تجربے سے کم نہیں۔ اسی میدان سے تقریباً 25 منٹ کی ٹریکنگ پر ڈنگیاں نام کا انتہائی خوبصورت مقام واقع ہے جو ہر سال آنے والے سیاحوں کو اپنے قدرتی حسن سے سحر انگیز کر دیتا ہے۔۔۔۔۔ نون بگلہ کی انتہائی اہم اور منفرد خصوصیت یہاں موجود ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے ہیں۔ نون بگلہ میں تقریباً ہر گھر کے باہر ایک چشمہ ضرور موجود ہے جن کی تعداد تقریباً30  کے لگ بھگ ہے۔۔۔۔ اللہ ہو چشمہ زیادہ خوبصورت ہے ۔۔۔۔ نون بگلہ کا موسم تقریباً سارا سال سیاحت کے حوالے سے موضوں رہتا ہے۔۔ سردیوں میں یہاں دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں 4 سے 5 فٹ برف باری ہوتی ہے اور گرمیوں میں بھی یہاں کا درجہ حرارت عموماً 10 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے ۔جہلم ویلی آنے والے سیاح ایک دن نکال کر ضرور نون بگلہ تشریف لائیں۔۔۔۔۔ یہ خوبصورت مقام پورے آزاد کشمیر کا حسن اپنے اندر سموئے آپکی آمد کا منتظر ہے۔۔۔۔

زلزال جھیل

مظفرآباد چکوٹھی روڈ سے دائیں طرف چکار سدھن گلی روڈ  سے گنگا چوٹی جاتے ہوئے رستے میں کڑلی،  کے مقام پر ایک خوبصورت جھیل نظر آتی ہے جو پہاڑوں کے درمیان گہرائی میں سحر انگیز لگتی ہے۔۔کیا اپنے کبھی اس جھیل کی سیاحت کی ہے ؟نہیں کی تو آئیں آج اپکو زلزال جھیل کا راستہ بھی  بتاتے ہیں اور اس کے بارے میں چند اہم معلومات بھی بتاتے ہیں ۔یہ جھیل ایک حادثے کی وجہ سے بنی ہے۔اپکو پتہ ہوگا 8 اکتوبر 2005 کو کشمیر اور پاکستان  میں ایک زلزلہ آیا تھا جس کی وجہ سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوا تھا ۔اسی زلزلے کے دوران مظفرآباد کے علاقہ چکار سے متصلہ ایک گاؤں کڑلی میں سلائیڈ گری اور سارا گاؤں سلائیڈ کی زد میں آگیا اور جس کی وجہ سے سات سو سے بارہ سو نفوس سلائیڈ کے نیچے دب گئے۔سلائیڈ کی وجہ سے نون بنگلہ کی بلندیوں سے آنے والے پانیوں پر مشتمل قدرتی نالے کا راستہ بند ہوگیا اور اس کا پانی اس پوری ویلی میں بھر گیا یوں یہ جھیل وجود میں آئی۔۔۔۔چونکہ یہ جھیل زلزلے کی وجہ سے بنی اسی وجہ سے اس کا نام زلزال جھیل رکھ دیا گیا ۔جھیل کے آس پاس سرسبز پہاڑ گھنے درخت اور۔ خوبصورت گاؤں ہیں جو خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں، اس جھیل کا پانی تین آبشاروں کی شکل میں گرتا ہے۔۔۔۔ یہ تین آبشاریں گھنے جنگلات کے پس منظر میں  بہت ہی خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں ۔۔۔ یہ پانی  ہٹیاں بالا بازار کے شروع میں ایک نالے کی شکل میں دریائے جہلم میں جا ملتے ہیں ۔۔

اگر زلزال جھیل ویلی کی طرف توجہ دی جائے اسکے  کے کنارے 5 فٹ کا واک وے بنا دیا جائے جس کے اطراف پر سیفٹی وال بنا دی جائے تو زلزل جھیل چکار اور کشمیر تو کیا  پورے پاکستان کے مشہور سیاحتی مقامات میں آ سکتی ہے۔۔۔ سجی کوٹ حویلیاں کی دو آبشاریں پورے ملک میں مشہور ہیں جبکہ اس جھیل کی تین آبشاریں ہیں ۔۔۔ لیکن افسوس کہ اداروں کی عدم توجہی کا شکار یہ جھیل اپنی خوبصورتی کے باوجود کوئی باقاعدہ سیاحتی مقام کا درجہ حاصل نہیں کرسکی ۔زیادہ تر سیاح اسے دور سے دیکھنے میں ہی عافیت جانتے ہیں  ایک عرصے تک جھیل۔پر جاکر سیاحتی سرگرمیوں کرنے کو گناہ سمجھا جاتا رہا یے اور اسکو عبرت کا نشان سمجھا جاتا رہا ہے کیوں کہ یہ زلزلہ کی وجہ سے بنی اور 1200 نفوس اس کے نیچے دب گئے تھے۔۔یہ جھیل اور اس کے ارد گرد کے بے شمار سیاحتی مقامات، متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہیں جن میں سے ایک بنی حافظ جھیل بھی ہے ۔۔

بنی حافظ جھیل

چکار سے سدھن گلی روڈ پر جہاں زلزال جھیل کا پہلا منظر دکھائی دیتا ہے وھاں جھیل کے پار کے پہاڑ پر گھنے جنگلات میں خوبصورت سرخ چھتوں والے گھر نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ علاقہ بنی حافظ کہلاتا ہے۔۔۔ اس پہاڑ کے دامن میں بنی حافظ جھیل واقع ہے یہ جھیل بھی زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں پانی رک جانے سے بنی ہے ۔۔۔ بنی حافظ جھیل جانے کے لئیے آپ کو پہلے ہٹیاں بالا جانا پڑے گا وھاں بازارمیں بنی حافظ چوک سے ایک رستہ بنی حافظ جاتا ہے وھاں سے بنی حافظ پہنچ کر آپ کو نیچے گہرائی میں بنی حافظ جھیل اور جھیل کے دائیں طرف زلزال جھیل کا پانی آبشاروں کی شکل میں گرتا نظر آتا ہے ۔۔۔۔ بنی حافظ سے دوہزار فٹ کی گہرائی میں بلند پہاڑوں کے درمیان گنگا چوٹی کے اطراف سے انیوالے پانی بنی حافظ جھیل کی تشکیل کرتے ہیں ۔۔۔ پھر تھوڑا آگے جا کر یہ زلزال جھیل کے پانیوں کے ساتھ مل کر ھٹیاں بالا کے مقام پر دریائے جہلم میں جا ملتے ہیں۔۔۔۔۔ بنی حافظ جھیل اور زلزال جھیل اور آبشاریں ایک ہی دن میں دیکھنے کا ایک شارٹ کٹ طریقہ بھی ہے کہ آپ صبح چکار سے زلزال جھیل پر اتریں ۔۔ سیر کریں پھر کشتی میں بیٹھ کر جھیل کے دوسرے کنارے پر جائیں وھاں سے آبشاروں کا حیرت انگیز منظر اور جنگلات میں گھری ہوئی بنی حافظ جھیل  کا دیدار کریں ۔۔۔ جھیل اور آبشاروں کو انجوائے کر کے واپس کشتی میں جھیل کے دوسرے کنارے جا سکتے ہیں۔۔۔ ہم بوجوہ کشتی والا رستہ استعمال کرنے سے رہ گئے اور بنی حافظ جانا ہوا تو وھاں رشتے داروں سے میل ملاقات میں وقت ہی نہ بچا کہ نیچے اتر کر جھیل بنی حافظ اور آبشاروں کو چھوئیں اور محسوس کریں ۔۔۔ شام ہو گئی اور پہاڑ کے اوپر سے ہی تصاویر لیکر واپس آنا پڑا ۔۔۔ اور اسی رات 12 بجے سکائی ویز کے ذریعے مظفر آباد سے پنڈی کیلئے نکل رہے تھے۔۔۔۔