این ٹی ایس کا متبادل

محمد اسلم میر


آزاد کشمیر میں این ٹی ایس پر کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بہر حال ایک بات حقیقت ہے کہ این ٹی ایس ایک  نجی ادارہ ہے جہاں کوئی بھی  با اثر شخص مطلب کے نتائج آسانی سے حاصل کر سکتا یے۔ کیا این ٹی ایس کا متبادل ہے؟ جی ہاں ہو سکتا ہے ۔

مانا کہ محکمہ تعلیم میں پرائمری اور مڈل تک استائذہ کو بھرتی کرانا ہے۔اس کا بہترین طریقہ کار یہ یے کہ اگر کسی یونین کونسل میں ایک پرائمری سکول کے لئے ایک استاد کی  آسامی خالی ہے اس کو پر کرنا یے۔ اس کے لئے محکمہ تعلیم کے  تحصیل آفس سے مقامی اخبارات کو اشتہار جاری کیا جائے۔درخواستیں تحصیل ایجوکیشن آفس میں جمع کرانے کے لئے آخری تاریخ دیں۔

اور ہاں اس آسامی کوپر کرنے کے لئے اسی یونین کونسل کے پڑھے لکھے امیدواروں کو ترجیح اول دی جائے اور اگر مطلوبہ قابلیت کے امیدوار متعلقہ  یونین کونسل میں دستیاب نہ ہوں  تو اس کے ساتھ لگنے والی یونین کونسل کے امیداواروں کو بالترتیب اس آسامی کے لئے تعینات کیا جا سکتا ہے۔

استاد کی  آسامی کے لئے مطلوبہ قابلیت شرط اول ہے۔۔ لیکن ترجیح اس امیدوار اور امیدوارہ کو دی جائے جو اس آسامی کے لئے درخواست جمع کرانے والوں میں سب زیادہ پڑھا لکھا یا پڑھی لکھی ہو اور اسی وقت اس کی تعیناتی کا آرڈر جاری کیا جائے۔ مانا کہ ایک آسامی کے لئے یونین کونسل سے سو درخواستیں جمع ہو گی ییں تو ان میں سے ایک ایم فل یا پی ایچ ڈی امیدوار یے  تو  ان کو ہی  تعینات کیا جائے۔۔ 

اگر ایک ہی تعلیمی قابلیت اور مساوی ڈگری کے دو امیدوار ہوں تو ان کیے نمبرات کو میرٹ بنا کر تعینات کیا جائے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا یے کہ اگر ایم فل یا پی ایچ ڈی  والے کو تعینات کیا جاے تو اگلے ہفتے ان کو کہیں اور اچھی جاب ملے گی تو یہ دونوں اعلی تعلیم یافتہ نوکری چھوڑ کر چلے جایں گےجسے ایک تو آسامی پھر خالی ہو  جائے گی اور دوسرا سکول کا تدریسی عمل  بھی متاثر ہو گا۔۔۔۔بالکل درست۔۔۔۔

اگر نو تعینات شدہ استاد چھوڑ کے چلا جائے تو دوبارہ اشتہار دینے کے بجائے اسی پرانی لسٹ میں سے  جو  امیدوار دوسرے نمبر پر آیا ہو اس کو بھرتی کیا جائے یعنی جو جو چھوڑتا جائے اس کے بعد شروع دن سے جس کا میرٹ بنا ہے اس کو تعینات کیا جاٙئے۔ کہتے ہیں ہر شعبہ شوق سے اختیار کیا جاتا یے ۔۔

ایک مرتبہ کسی بھی سکول  میں جب استاد کو بھرتی کیا جائے تو محکمہ تعلیم اس استاد کو مستقل کرنے کے بجائے پانچ سال تک اعزازی ماہانہ دس ہزار روپے پر تعینات کر ئے اور اس دوران پانچ سال کے بعد مستقل ہونے کے لئے حاضری سو فیصد  جبکہ سالانہ امتحانات کے  نتائج بھی اس کے مساوی شرط اول ہوں۔ اس کے بعد  اس کو مستقل کیا جائے۔۔ استاد کی  مستقل بنیادوں پر تعینا تی  کے لئے ان شرائط کے دو فائدے ہیں ۔۔۔۔ ایک تو صرف  شوق رکھنے والے ہی شعبہ تعلیم میں آیں گے ۔۔۔۔

۔دوسرا پانچ سال کا انتظار مستقل ہونے  کے لئے وہی بندہ  کرے گا جو اس شعبے کو جنون کی حد تک چاہتا ہو اور اس کو مستقل کیرئر کے طور پر اختیار بھی کرنا چاہتا ہو۔۔ اس کے علاوہ نئے استاد کی بھرتی کے لئے یہ ضروری قرار دیا جائے کہ وہ مستقل ہونے تک ایک ہی سکول میں پانچ سال تک تعینات رہے گا اور اس کے بعد محکمانہ پالیسی کے مطابق وہ تبدیلی کا حق استعمال کر سکتا ہے۔

یقین جانئے  اس ” فارملہ اور طریقہ کار”   کےتحت اگر محکمہ تعلیم میں بھرتیاں کی جایں تو اس سے نہ صرف میرٹ قائم ہو گا بلکہ معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ سنجیدہ لوگ بھی اس شعبہ کو نوکری سے زیادہ  ایک مشن کے تحت اپنایں گے جو وقت کی ضرورت ہے۔۔ بھرتی کے اس طریقہ کار کو سب سے زیادہ تعلیمی قابلیت سے مشروط کیا جائے پھر دیکھ لیں میر ٹ کی بھی بالا دستی قائم ہو گی اور شعبہ بھی ترقی کرئے گا۔۔۔۔۔ 

یقین مانیں استائذہ  کی تعیناتی  اس طریقہ کار کے تحت ہونے سے  کبھی عدالتوں میں بھی چلینج نہیں ہوں گی۔