مخلص وجدانی مظفرآباد

ہوں تے نیھ کہتو وے شخصا تیں انوکھی چال کی
جہیڑی تیرے نال برتی واہ ہی میرے نال کی
ہو ہی نیھ سکتی پیہالی کنک تے کنڈھال کی
اس کی ریسیں جم گئی بوٹی واہ مندا خال کی
ہو بھی جائے زندگی مانھ اپنی مرضی کے خلاف
آ ہی جائے سال مانھ اک رُت کالی سیال کی
اپنی اپنی بوریاں مانھ پہر کے تم خوشحال تھا
کے زمانو آگیو ہے فکر ہے آٹا دال کی
سچ کسے نے کہیو خالی جا ہووے اُمید کی
اوہ ہی میرے کم نہ آیو جس کسے کی پہال کی
عشق کو ہے روگ لگو کائے لگتی نیھ دوا
بد پرہیزی تے میں نہ کی میں عمر ساری پال کی
مہربانی یار کی ہے ہوں نہ سکھنو موڑیو
اپنی یاداں کی برات ایک اس نے میرے نال کی
اوہ ہی کلو اوہ ہی رسو واہ ہی کُھرلی واہ ہی جُو
اوہ ہی اپنو مال واہ ہی بانڈھی اپنا مال کی
راہ مانھ چھاں ہوتی جے مُخلص چھٹ کہڑی ہوں بیستو
چا کے ٹُرتو رہیو ہوں اپنی زندگی کی پالکی