سمیع اللہ ملک

آج اقوام ِعالم متعدد فکری،سیاسی،اقتصادی،سماجی،قانونی اورمذہبی چیلنجزکاسامناکررہی ہیں۔ ایسے میں ایک طرف جہاں لوگوں،گروہوں اور ریاستوں کی انفرادی،گروہی اور ریاستی مفادات نے مختلف اقوام کے اندرایک تناکی کیفیت پیداکررکھی ہے اورلوگوں کے مختلف نسلی، لسانی، مذہبی اورسماجی وسیاسی تعصبات نے پرامن بقائے باہمی کوخطرے سے دوچارکردیاہے ۔ وہاں موجودہ زمانے میں مسلمانوں کااہل کتاب سے تعامل بڑھ گیاہے۔

ہم ان کی طرف سے فکری یلغارکابھی شکارہیں۔ان وجوہات کی بنیادپراہل کتاب سے مکالمہ کیلئے اصول مرتب ہوناایک نہایت سنجیدہ اورگہرائی سے مرتب کیاجانے والا مسئلہ بن گیاہے۔ مذاہب کے درمیان مکالمے کااصطلاحی اورجدیدمفہوم اپنے اندرخاصی الجھنیں رکھتا ہے۔موقع ومحل کے لحاظ سے مذاہب کے درمیان مکالمہ مختلف صورتیں اختیارکرلیتاہے۔

اس لیے جب تک مکالمے کاصحیح اورغیرصحیح مفہوم واضح نہ کردیاجائے تواس وقت تک بین المذاہب مکالمے کی اصطلاح سے کوئی کارآمد نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔

مفادات اورتعصبات کی چپقلش نے کبھی مذہبی رنگ توکبھی سیاسی رنگ اوربسااوقات نسلی رنگ اختیار کرتے ہوئے مختلف اقوام اوررنگ ونسل کے کروڑوں انسانوں کولقمہ اجل بناڈالاہے۔دنیاکودرپیش مشکلات کے حل،اوراس میں رہنے والوں کی زندگی میں امن،خوشحالی،توازن اورترقی کیلئے جن چیزوں پرپھرسے اصرارکیا جارہاہے،وہ دنیاکے مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کی ثقافت کوزندہ رکھناہے۔

دنیا کے تمام مذاہب میں ایسی تعلیمات موجودہیں جن میں انسانیت کی بہتری اورفلاح کاسامان موجودہے۔سب مذاہب نے انسانوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے،ان کی خدمت کرنے،ضرررسانی سے بچنے اورلوگوں کیلئے آسانیاں پیداکرنے پرزوردیاہے۔مذہب میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انسان کوان فسادات ومسائل سے نجات دلاسکے۔

پوری انسانیت کوبالعموم اہل کتاب کوبالخصوص اسلام کی دعوت درست مفہوم،عقائد،تصورات،آداب کے ساتھ اللہ کی طرف بلانا، حق پرلوگوں کو اطمینان دلانا،اللہ کے حکم کے ساتھ شریعت کے فرائض میں سے اہم فریضہ ہے جیساکہ قرآن حکیم میں ارشاد ربانی ہے:
(مومنو)جتنی امتیں(یعنی قومیں)لوگوں میں پیداہوئیں تم ان سب سے بہترہوکہ نیک کام کرنے کوکہتے ہواوربرے کاموں سے منع کرتے ہواوراللہ پرایمان رکھتے ہو(آل عمران:110)
پھرمکالمہ کاطریقہ بھی سکھلادیاکہ:اے پیغمبرلوگوں کودانش اورنیک نصیحت سے اپنے رب کے رستے کی طرف بلااوربہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔(لنحل:125)

دنیاکے تمام مذاہب بنیادی طورپرانسانیت کوامن کاپیغام دیتے ہیں مگراس کے باوجودبدقسمتی سے ان کے ماننے والوں میں شدیدتناؤپایاجاتاہے۔ انسانیت کی بقاکیلئے خوشگوار ماحول اوربین المذاہب رواداری کے فروغ کیلئے ان کے مابین مکالمہ کی اہمیت کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔اسلام غیرمسلموں سے بھلائی کاحکم دیتاہے۔جب مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کوقریب سے دیکھتے ہیں توان کی باہمی غلط فہمیاں دورہوتی ہیں اوران کے دل میں ایک دوسرے کیلئے نرم گوشہ پیداہوتاہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام اقوام برابرنہیں اورنہ ہی تمام مذاہب کوایک پیمانہ پرپرکھاجاسکتا ہے بلکہ ہر قوم کودوسری قوم پرکچھ نہ کچھ ترجیح حاصل ہوتی ہے لیکن خالق کائنات نے انسان کوقوموں اورقبیلوں میں تقسیم اورخود اس کی وجہ بیان فرمائی ہے:
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کوشناخت کرو۔(الحجرات: 13)

معاشرے کے امن کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کاہرفرددوسرے کے ساتھ بلاتفریق بہتررویہ اختیارکرے،رنگ ونسل اورمذہب کے امتیازات سے قطع نظرسب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے اور نہ کسی کو حقیر اورکمزورسمجھے،انسان کے اس برتاکانام رواداری ہے،رواداری کاتقاضاہے کہ ہرانسان قوم وقبیلہ اور رنگ ونسل کے امتیازسے بلند ہوکرمعاشرے کے ہرفردکے حقوق کاخیال رکھے۔

انبیا کرام مکالمے کے ذریعے ہی اپنی قوم کودین حق کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں لیکن مکالمے کی یہ صورت وہ صحیح صورت تھی جس کی آج بھی ضرورت ہے۔انبیا کرام مکالمہ کیلئے طرح طرح کے اسلوب اختیار کرتے تھے۔مسلمانوں کے پاس مکالمے کیلئے نہایت ٹھوس بنیادیں موجودہیں۔ مسلمانوں کاپاس ایساربانی دین ہے جو نہ صرف انسان کی تعقل پسندی کے ساتھ نباہ کرلیتاہے بلکہ اس کے وجدان کیلئے اطمینان کیلئے کافی ہے:
کیاوہی نہ جانے گاجس نے پیداکیا ہے حالانکہ وہ باریک بین اورباخبرہے۔(الملک:14)

آج کے دورمیں انتہاپسند روزبروزبڑھ رہی ہے جوہ عالمی امن کیلئے نقصان دہ ہے،معاشروں کے درمیان نفرت اورتقسیم ختم کرنے،مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیداکرنے ، مغربی دنیااوراسلام کے مابین یگانگت،مفاہمت،وحدت اورامن وسلا متی کے قیام کیلئے انتہاپسند روکناازحدضروری ہے۔ بقائے باہمی،تحمل وبرداشت،احترامِ آدمیت اورحرمتِ جانِ انسانی،اس دینِ امن،دینِ محبت کے وہ شعائرہیں جس کواجاگرکرکے دنیاکوامن کاگہوارہ بنایاجاسکتاہے۔

جس شخص نے کسی دوسرے کوعلاوہ جان کے بدلہ یازمین میں فساد بپاکرنے کی غرض سے قتل کیاتواس نے گویاسب لوگوں کوہی مارڈالااورجس نے کسی کو(قتل ناحق سے)بچالیاتووہ گویاسب لوگوں کی زندگی کاموجب ہوا۔(المائدہ:32)

نجانے کیوں بین المذاہب مکالمہ ایک نہایت پیچیدہ مبحث کے طورپرجاناجاتاہے جس میں باطل افکارکی آمیزش بھی ہے اور انصاف پسندی کے علاوہ دوسرے مقاصد بھی ہیں۔ بین المذاہب مکالمہ سے فی زمانہ صحیح مفہوم نکالناامردشوارہوگیاہے۔اس کے باوجوداس رویے کودرست نہیں کہاجاسکتاکہ مکالمے کابہ غرض باطل استعمال اس کے صحیح استعمال میں مانع ہے۔درست منہج یہ ہے کہ مکالمے کے عمل سے باطل عنصرکونکال دیاجائے اوراس کاصحیح معنی رائج کیاجائے۔ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو دعوت دینے کیلئے اسلام نے مکالمے کوہی ذریعہ بنایاہے۔

پرامن اورمتوازن سوسائٹی کی تشکیل بین المذاہب مالمہ کاتقاضاہے اوراسلام بین المذاہب ہم آہنگی اوربھائی چارے کے فروغ کی تعلیمات سے عبارت ہے۔اسلامی تعلیمات امنِ عالم کیلئے ناگزیرہیں۔دہشتگردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے ان تعلیمات پرعمل پیراہوکرہی امن قائم کیاجا سکتاہے۔ دنیاکو میانہ روی،صبر،برداشت اورباہمی رواداری پر مبنی معاشرہ بنانے کیلئے اسلامی تعلیمات پرعمل کرنا ہو گا۔ایک مہذب اورپرامن معاشرے کی تشکیل میں نبی کریم کی حیات مبارکہ میں کیے گئے عملی اقدامات روشن مثالیں ہیں۔ ہمارا فرض بنتاہے کہ ہم اپنے پیارے حضور ﷺ کی سنت اورآپ ﷺ کے اسوہِ حسنہ اورہدایات پرعمل کریں۔اورآپ ﷺ کے خصائص و فضائل اور اخلاق حسنہ کی دوسروں کو تعلیم دیتے رہیں۔