جاوید خوشحال خان/

یہ پیاری  سی بچی راولاکوٹ کے نواحی گاوں بن بہک سے تعلق رکھنے والی ہے۔ اس کو سردی اور برف باری سے انجوائے کرتے ہوۓ دیکھ کر ہمیں بھی بچپن کا سیالہ یاد آگیا۔ ہمارے بچپن کے سیالے میں پہناوے بہت معنی رکھتے تھے۔

” منگر” کے مہینے سے  بڑی باجیاں سویٹر اور ٹوپیاں بننا شروع کر دیتیں۔یہ وہ وقت ہوتا تھا جب گھروں  میں اون کے دھاگوں  کے گولے بکثرت ہوتے تھے۔اور یہی وقت ان منچلوں  کیلئے آئڈیل تھا،   جو پلاسٹک کی تھیلی سے پتنگ بناتے۔اون کے دھاگوں کے ٹکڑے جوڑ جوڑ کر پتنگ اڑاتے۔جب دھاگے نا پید سے ہو جاتے تو ہم  ” طاقوں ” سے پورا گولہ لے اڑتے۔ اور خوب انجوائے کرتے لیکن اسکے بعد شام میں دل کھول کر چھتر کھاتے۔

بہرحال ” پوہ” اور “ماہ” کے مہینوں  میں جب خوب”سنتی” تھی، (برف) تو یہی اون سے بنے گرم سویٹر , ٹوپیاں اور جرابیں بچے اور بڑے سبھی ذور و شور سے پہنتے۔ لیکن سردی کی شدت اتنی ہوتی تھی کہ یہ گرم پہناوے بھی کم محسوس ہوتے۔ تبھی اماں ” بڑے بکسے” میں سے لکڑی کے بٹنوں والے لونگ کوٹ اور لمبے جوتے نکال کر دیتیں۔ اور ہم تازہ ” سنی” ہوئی برف میں سے ” کھڑک رستہ” بناتے۔اب یہ کھڑک رستہ کیا ہوتا ہے یہ ایک الگ داستان ہے۔ بس آپ سمجھ لیجئے کہ گری ہوئی بڑی برف میں سے پہلی بار گزر کر رستہ بنانے کو ” کھڑک رستہ ” کہتے تھے۔

بچوں کے پہناوں میں “پھونجی والی ٹوپی” ایک فیشن تھا لیکن ایک اور ٹوپی جو اب ناپید ہو چکی ہے وہ ” بوجاٹوپی” تھی۔بوجا ٹوپی کی شباہت  آجکل کی جاسوسی فلموں  میں موجود  جاسوسوں  کے نقاب سے ملتی جلتی تھی۔  جس میں آنکھوں  , ناک اور منہ کی جگہ بس سوراخ ہوتے تھے۔میں اکثر اتار کر پھینک دیتا تھا۔ بلکہ ہم میں سے اکثر اس کی اون چبھنے کی وجہ سے بڑوں سے چھپ کر اتار دیتے تھے۔ لیکن ایک بات ہے وہ تھی بہت گرم۔لیکن کھیل کود کے دوران  ہمیں اس کی ضرورت قطعاً  محسوس نہیں ہوتی۔

نہانا تو دور کی بات تھی۔۔البتہ اماں روزانہ صبح پانی گرم کر کے منہ دھلواتیں۔ لیکن ہمیں گرم پانی سے چڑ تھی۔ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ اور پاؤں دھوتے اور ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے اور ان میں سے خون نکلتا ۔ہم روزانہ خوشبودار  ویزلین جو اسوقت “باسلین ” کہلاتی لگا کر  دھوپ میں تھوڑے گیلے سے کوٹھے پر پیروں میں جرابیں اور سلیپر پہن کر ” چیچوں ” کھلیتے۔

جب باریاں کر کر کے تھک جاتے تو پلاسٹک پگھلا کر ” کوک” کی گیند بناتے اور کرکٹ کھلینا شروع کرتے ۔ ایک دوسرے کو وسیم اکرم اور عمران خان کی طرح باؤنسر مارتے۔۔۔تب ہم اس سخت گیند سے ہاتھ پاؤں سجا کر ایک دوسرے سے گھتھم گھتھا ہوتے اور کھیل ختم کرتے۔۔۔ تھوڑی دیر میں ” کھنو” لے آتے اور والی بال کھیلتے “تاڑی” لگاتے۔۔۔ اسی لمحے رات ہو جاتی اور ہم گھروں کو چلے جاتے۔۔۔
اب بھی سوچتا ہوں وہ دن کہاں گئے۔۔۔