شوکت باغی ایڈوکیٹ

اللّہ تعالٰی نے انسان کو مُختلف قبائل اور گروہ کی صورت میں میں ایک مخصوص ترتیب اور نظم ونسق سے پیدا کیا۔ جس کا مقصد یقینًا پہچان کی حد تک تھا، جیسے قُرآن حکیم میں بیان ہُوا۔ لیکن ساتھ ہی اس بنیاد پر فخر اور تفریق (برادری ازم) سے جگہ جگہ سختی سے منع اور اس کو ردّ کیا گیا۔ اور  اللّہ رب العزت نے کامیابی کا پیمانہ تقوٰی قرار دِیا۔ 

اس کالے ناگ نے بہت سے با صلاحیت لوگوں کو صرف اس لیے نگل لیا کہ اُن کا تعلق مُخالف سیاسی پارٹی ، تعداد میں کم افراد کے قبیلہ  یا کم بااثر افراد کے قبیلہ سے ہوتا ہے۔ اور بہت سی جگہوں پر اپنی برادری ،قبیلہ یا اپنے مخصوص زہنی غلاموں کو نوازنے کے لیے میرٹ کی دھجیاں اُڑاتے ہُوۓ ایسے ایسے نا اہل لوگوں کو  معاشرے پر سانپ کی صورت میں مسلط کر دیا جاتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔

اسی سلسلہ کی اگلی شکل حزب اقتدار لوگوں کی طرف سےکبھی الیکشن سے دو۔ چار ماہ پہلے ترقیاتی بجٹ ایک سیاسی رشوت کے  پر آتاہے  اور کبھی تعلیمی پیکج کے نام پر پُوری حکومتی دورانیے کی نالائقیاں اور نا اہلیاں چُھپانے کے لیے عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکی جاتی ہے۔ اور اس سے اور اس طرح کے پیکجز سے آسامیاں پیدا کر کے آنے والی نسلوں پر بہت سے طفیلیے مسلط کر دیے جاتے ہیں ۔

اور پھر ان سرکاری ملازمین نے طفیلئوں کی طرح ریاست اور قومی خزانہ کو اپنی وراثت سمجھتے ہُوۓ بے دریغ لُوٹنا ہوتا ہے۔ اورحصہ اپنے آقاؤں کو بھی پہنچانا ہوتا ہے۔ اور یا پھر کبھی ٹونٹی اور نلکا کے نام پر تختیاں لگتی ہیں ۔برادری ازم کےاس زہریلے پودے یا سانپ کو پروان چڑھانے میں حلقہ کی سطح ہو یا قومی ، اکثریت ہمارےسیاسی لیڈران (کسی ایک جماعت کی بات نہیں) نے اپنا اپنا  بھر پُور رول پلے کیا۔ اور ہمارے اکثریت بھول بھالے معصوم لوگ “جیتے ہی جیتے” اور “ آوے ہی آوے “ جیسے خُشک نعروں سے اپنا گلہ پھاڑتے اور اور سعی لاحاصل میں لگے رہتے ہیں۔ 

یقینًا اس زہر قاتل اور کینسر میں سے  راتوں رات باہر نکلنا شاید دیوانہ کا خواب ہو گا، لیکن ایک پہلا قدم اور پہلی شمع ہم چھوٹی سی کوشش سے کر سکتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ گلی،  محلہ، بازاروں، شادیوں ، خُوشی، غمی، کاروبار اور ذاتی تعلقات کو اگر برادری کی ناسور سے دُور رکھنے کی کوشش کی جاۓ تو شاید یہ ایک بڑا جہاد ہو گا، تو پھر اس سےاگلہ مرحلہ سیاسی جدوجہد ہے۔ اب الیکشن کا دور ہے تو اس سلسلہ میں میری ذاتی راۓ ھیکہ 

آئیے اور ایک نئے جذبہ کے ساتھ نئے دور کا آغاز کیجئے ۔تمام امیدواران کو بلا تخصیص اور تفریق اپنے گھروں پر بلائیے، معاملات ڈسکس کیجئیے ، مطالبات سامنے رکھئیے، ان سیاسی لیڈران کےہم لوگوں کے مرنے جینے، شادی خُوشی اور عام معاملات زندگی میں عمل دخل ہی امیدوار کا اصل چہرہ اور قابلیت لوگوں کے سامنے آشکار کرتا ہے۔یہاں سے شاید ہم ایک صحیح ابتدا اور  صحیح سمت کا تعین کر سکتے ہیں کہ ایک تو سیاسی اُمیدوار کو احساس ہو کہ عوامی مسائل اصل میں ہیں کیا؟۔  اور دُوسرا وہ آپ کی اصل قدر و قیمت سمجھ سکیں گے۔اور تیسرے آپ اُن کے مزاج اور سوچ کو پرکھ سکتے ہیں ۔ 

ہمارے ہاں اس ظالم سوچ کو  ، کہ دُوسرے امیداور سے ملنا بھی جُرم عظیم ہے، پروان چڑھانے میں ہمارے بے شمار نا عاقبت اندیش اور ظالم لیڈران کا بڑا عمل دخل رہا  ہے۔ اور اُس سے زیادہ عوام الناس خُود زمہ دار ہے۔ کہ جہاں مخالف پارٹی کا اُمیدوار اگر فاتحہ کے لیے بھی چلا جاۓ تو کُچھ لوگ اپنے سیاسی آقاؤں کو خُوش کرنے کے لیے اس کو کُفر تک لے جاتے ہیں۔ جو میری راۓ میں ۱۴ سو سال پہلے والے عرب قبائل کی جہالت کا ایک ماڈرن رُوپ ہے۔  

ضرورت از امر کی ھیکہ اپنی زاتی تعلقات کو سیاست کی نذر نہ کیجئے۔ آپ کی خُوشی میں ہو نہ ہو غمی میں آپ کا پڑوسی (وہ کسی بھی برادری یا پارٹی سے ہو ) سب سے پہلے پہنچے گا اور سیاسی لیڈران شاید دیر سے پہنچیں۔ 

آپ اپنے اُمیدوار کو ضرور سپورٹ کیجیے لیکن دُوسروں کا حق مار کر نہیں ، دُوسروں کا راستہ روک کہ نہیں بلکہ دُوسرے کو عزت و احترام سے راستہ دے کر۔ یقینًا اس سے ایک نئے باب کا آغاز ہو گا۔