تحریر: مرزافرقان حنیف تصاویر :  مرزا فرقان حنیف  ۔ سوشل میڈیا   


بھمبر آزاد کشمیر کا تاریخی مقام ہے۔ یوں ریاست جموں و کشمیر کا ہر شہر اپنی تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن بھمبر کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے مغل حکمران یہاں سے گزر کر سرینگر جایا کرتے تھے۔ اسے بابِ کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔ کسی دور میں بھمبر ایک ریاست کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ موجودہ بھمبر کو آزاد کشمیر کے ایک ضلع کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ضلع تین تحصیلوں پر مشتمل ہے، تحصیل بھمبر، تحصیل سماہنی، تحصیل برنالہ۔ضلع بھمبر میں ماضی کی بہت ساری یادگاریں موجود ہیں۔ ایسی ہی تاریخی جھیل اور باغسر قلعہ ضلع بھمبر کی تحصیل کے گاؤں باغسر میں واقع ہے۔

گاؤں باغسر

یہ گاؤں ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی میں واقع ہے،جو کہ بھمبر شہر سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ باغسر گاؤں لائن آف کنٹرول کے قریب کافی اونچائی پر پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ نہائیت ہی خوبصورت گاوں ہے۔ باغسر کے لوگ خوش اخلاق، محنتی، پڑھے لکھے اور مہمان نواز ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں باغسر کا نام “سرباغ” تھا۔ جو وقت کے ساتھ تبدیل ہو کر باغسر بن گیا۔ باغسر میں بہت سارئے باغات بھی ہیں۔ اس کی سبزیاں بہت مشہور ہیں۔ یہ تحصیل سماہنی کا ایک خوبصورت سیاحتی اور تاریخی مقام ہے۔ باغسر میں تاریخی جھیل اور قلعہ بھی ہے۔

باغسر جھیل۔۔۔۔۔


باغسر گاؤں میں ایک جھیل جسے باغسر جھیل کہا جاتا ہے۔ یہ جھیل سطح سمندر سے تقریباً 975 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ جھیل قلعہ باغسر سے مغرب میں واقع ہے۔ باغسر جھیل تقریباً نصف کلو میٹر طویل ہے۔

یہ آزاد کشمیر کی واحد جھیل ہے جس میں کنول کے پھول اُگتے ہیں۔ کنول کی جڑوں کو عام زبان میں “نڈروں” کہا جاتا ہے،جو کہ ایک ذائقہ دار سبزی ہے۔ جھیل پر تیرتے ہوئے پھول نہائیت خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ جھیل موسم سرما میں دور دراز سے آنے والے خوبصورت پرندوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔

یہ قلعہ سطح سمندر سے تقریباً 965 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ قلعہ لائن آف کنٹرول کے بلکل قریب ہے۔ اس قلعے کے تین اطراف گہری کھائی ہے۔ جبکہ چوتھی جانب سے ایک تنگ پگڈنڈی سے قلعہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔

قلعے کے اطراف مضبوط فصیلیں۔۔۔۔۔

قلعہ کے اطراف دو مضبوط فصیلیں ہیں۔ قلعہ کا مرکزی دروازہ باہر فصیل میں موجود ہے۔ قلعہ کی مرکزی عمارت اس فصیل سے تقریباً دس فٹ کے فاصلے پر ہے۔ یہ دوہری فصیل حفاظتی تدابیر کے پیش نظر بنائی گئی تھی۔ اس قلعہ کی بناوٹ سے لگتا ہے کہ اس قلعہ کو فتح کرنا بہت مشکل تھا۔

صدر دروازہ اس طرح کا ہے کہ کوئی گھڑسوار تیز رفتاری سے اس میں داخل نہ ہو پائے۔ مگر اگر کوئی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے داخل ہو بھی جائے تو وہ اپنے آپ کو دوہری فصیل میں پائے گا، جہاں اس پر دونوں اطراف سے حملہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوشمن پر گرم تیل انڈیلنے کے لیے فصیلوں میں ڈھلوان والے سوراخ بھی موجود ہیں۔
صدر دروازئے پر لوہے کی نوکدار میخیں لگی تھیں۔ اس لیے کہ اگر ہاتھی کے زریعے دروازہ گرانے کی کوشش کی جائے تو ہاتھی زخمی ہو کر گر جائے اور دوسری فصیل سے اس پر حملہ کیا جا سکے۔ یوں قلعہ کی بناوٹ سے لگتا ہے کہ اس قلعہ کو فتح کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں تھا۔

یہ قلعہ جس جگہ پر بنایا گیا تھا اس سے دو قدیم گزرگاہوں کی حفاظت ممکن تھی۔

نمک روڈ یا مغل روڈ۔۔۔۔

قلعہ باغسر شاہراہ نمک سے مغرب کی جانب واقع ہے۔ یہ سڑک بہت قدیم ہے۔ یہاں سے کشمیر میں نمک لے جایا جاتا تھا۔ اس لیے اسے نمک روڈ بھی کہا جاتا ہے۔ 1586 میں اکبر کے جرنیل قاسم خان نے اس شاہراہ کو کشادہ کیا اور اس کا نام مغل روڈ رکھا۔

دوسری گزرگاہ کبوتر گالہ

کبوتر گالہ۔۔۔

قلعہ باغسر کبوتر گالہ سے مشرق کی جانب ہے۔ یہ سڑک درہ کبوتر گالہ سے ہو کر گزرتی تھی۔ اور نمک روڈ کی کشادگی سے قبل تجارتی شاہراہ تھی۔

قلعہ باغسر کے اندر ایک باولی بھی ہے۔ قلعے کے اوپر سے اگر شمال کی طرف قدرئے مغرب میں دیکھا جائے تو ایک اور قلعہ نظر آتا ہے۔ جسے قلعہ منگل دھی کہا جاتا ہے۔ جو بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر کے علاقے نوشہرہ میں واقع ہے۔

قلعہ باغسر کی تعمیروتاریخ۔۔۔۔۔

باغسر کے متعلق واضح مصدقہ ریکارڈ موجود نہیں۔عموماً باغسر قلعہ کو مغلوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مگر غیر جانبدار  مصنفین میں سے کسی ایک نے بھی اس قلعہ کو  اپنی تحریروں اور سفرناموں میں مغلوں سے منسوب نہیں کیا۔جی ٹی وینگ

ایک یورپی مورخ اپنے سفرنامے ٹریول ان کشمیر ، لداخ اینڈ  سکردو 

میں صفحہ 238 جلد آول میں لکھتے ہیں کہ یہ قلعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وزیر اور ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کے بھائی دھیان سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔

مشہور فرانسیسی مورخ برنئیر پہلا یورپی مورخ تھس جو1665ء میں کشمیر آیا۔ اس نے شاہراہ نمک سے مغل بادشاہ اورنگزیب کے ساتھ سفر کیا،اس نے اس شاہراہ پر واقع ہر تاریخی عمارت کا زکر کیا، مگر باغسر قلعہ کا زکر نہیں کیا۔ اگر یہ قلعہ اس وقت موجود ہوتا تو وہ ضرور زکر کرتا۔ اس کے علاوہ مور کرافٹ  نے بھی اپنے سفرنامے میں(1819,1825) میں اس قلعہ کا زکر نہیں کیا۔

قلعہ کے باہر ایک قبر بھی موجود ہے جس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں بادشاہ جہانگیر کی آنتڑیاں دفن ہیں،لیکن مورخین جہانگیر کی جائے وفات راجوری لکھتے ہیں۔ اور وہیں پر اس کی آنتڑیوں کی تدفین کا زکر بھی کرتے ہیں۔ ثریا خورشید نے اپنے سفر نامے “بانہال” میں لکھا کے جہانگیر کی موت راجوری کے قریب ہوئی ،اور اس کی آنتڑیاں بھی وہیں پر دفن ہیں۔ مزار بھی ہے