تحریر: نسیم سلیمان ، تصاویر: سعود خان

 

2003

کے بعد کے کسی سال کی بات ھے۔تب میں قلعاں  کالج میں تھی۔ھم ہر سال  کالج کی طالبات کو  کہیں نہ کہیں ضرورلے جاتے۔یہ سال بھی ایک ایسا ھی سال تھا۔ ھم لوگوں نے “تولی پیر” جانے کا پروگرام بنایا۔قلعاں کالج ایک ایسا کالج ھے جہاں کبھی بھی تعداد کے حوالے سے طالبات کا مسْلہ  نہیں رھا۔ طالبات کی ایک کثیر تعداد ہمیشہ سے ھی کالج میں رھی ھے۔

ھوتا یہ تھا کہ ہر سال صرف فرسٹ ائیر اور سکینڈ ائیر کی طالبات ھی ٹور پہ جاتیں تھیں۔اس دفعہ پرنسپل صاحب نے  نویں اور دسویں کی طالبات کو بھی ساتھ شامل کر لیا۔ تو اس طرح طالبات کی تعداد بہت زیادہ ھوگئی۔چار بسوں پہ مشتمل یہ قافلہ صبح سویرے قلعاں کالج سے “تولی پیر” کی طرف عازم سفر ھوا۔میں چونکہ راولاکوٹ سے جاتی تھی بجائے اس کے کہ قلعاں جاوْں میں کھائیگلہ اُن کے آنے کا انتظار کرتی رھی۔

تقریباؑ نو بجے یہ قافلہ کھائیگلہ پہنچ گیا۔طالبات پورے جوش وخروش سے اپنے سفر سے لطف اندوز ھو رھی تھیں۔اور جلد سے جلد “تولی پیر” پہنچنے کے لیے بے تاب۔اُن کا یہ شوق اور جذبہ سب کو ھی خوشی اور طمانیت دے رھا تھا۔ کھائیگلہ سے یہ قافلہ۔”تولی پیر” کی جانب رواں دواں رہا۔راستے میں طالبات ترانے اور نغمے گاتے سر سبز و شاداب راستے کی تازگی سے  لطف اندوز ھو رہی تھیں۔

کھائیگلہ سےچلنے کے تقریباؑ  ایک گھنٹے بعد ھم “تولی پیر”کے پُرفضا مقام پہ پہنچ گئے۔ طالبات اتنے بڑے کھلے اور شاداب علاقے کو دیکھ کر بہت خوش ھوگئیں۔سبز مخملی گھاس پہ اُنھوں نے دوڑنا  شروع کیا۔سفید یونیفارم میں”تولی پیر” کے سبز گھاس کے میدان میں دوڑتیں بھاگتیں طالبات پریوں کی مانند لگ رھیں تھیں۔۔اپنے اس ٹرپ سے وہ بہت خوش تھیں۔

گو کہ کچھ طالبات ایسی بھی تھیں جو سفر کی دوری کے باعث بہت تھک بھی گئیں تھیں۔لیکن یہاں پہنچ کر سبزے اور خوبصورت” دیاروں”  کے جنگل دیکھ کہ کافی تازگی محسوس کر رھیں تھیں۔اس خوبصورت مقام کی سیر سے طالبات  بہت لطف اندوز ھوئیں۔گھر سے لایا ھوا کھانا کھایا۔کھانا بہت ھی لذیذ تھا۔کھانے کے بعد ایک دفعہ پھر طالبات پورا تولی پیر گھومیں۔اور تصاویر بنائیں۔

جب کافی سارا وقت گزر گیا۔اور شام ھونے لگی۔توترتیب دیے گئے پروگرام کے مطابق واپسی   کا ارادہ کیا۔کہ اب نکلنا چائیےتاکہ سب لوگ بروقت اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔ سو ساری طالبات اپنی اپنی بسوں میں سوار ھوئیں۔اور یہ قافلہ واپس چل پڑا۔جس بس میں ھم سوار ھوئے اُس میں اکثریت نویں  دسویں کلاس کی بچیوں کی تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا  کہ کچھ بچیاں آتے ھوئے راستے میں سفر کی وجہ خراب طعبیت کے باعث بہت سُست سُست  سی تھیں۔

واپسی پہ بھی اُن کی طعبیت خراب ھو گئی۔ایک بچی  کی صحت تھوڑی  ذیادہ خراب ھو گئی۔وہ بہت ذیادہ رونے لگی۔اور روتے ھوئے اُونچی اُونچی آواز میں بین کرنے لگی۔۔ ھم نے بہت روکا کہ نہیں روئیں۔لیکن وہ مسلسل روئے جا رھی اور بین کر رھی۔کہتی ھے۔””او ماڑیہ بے میں مری یہہ گیسیں اج۔او ربا وے” جو کہہ  وی واہ۔مائے ھن کھانہ وی لبنی وے””۔

مطلب بہت روئے جاری۔اور۔یہ کہہ رھی (کہ میری ماں میں اب مر ھی جاوْں گی۔اور اب میں کیسے ملوں گی آپ سے۔ )وہ جو بس کا ڈارئیور تھا وہ شائد اُس کا رشتے دار تھا۔ اُس کو کہے کہ “” او ماڑیا لالہ وے میں کی اتّے ساٹی گھچھا اُوٹھی۔میں کی اتھہے یہہ پگھیاڑ کھائی شوڑلے۔ماڑیہ بے کہنے آخیا کہ ساٹھی آیاں اُس کی٠(۔””مطلب کہ ادھر ھی پھینک کے چلے جائیں۔درندے وغیرہ کھا لیں گے۔۔میری امی کو بتا دینا کہ کہ کھا لیا ھے کسی جانور نے)۔

وہ جو ڈارئیور تھا اُس نے بہت ڈانٹا اس کو کہ  آپ کو پتہ تھا کہ آپ سفر نہیں کر سکتی ھیں تو آئی کیوں ھیں۔اب آئی ھیں تو آرام کر کے چلیں۔یہ سنتے ھی پھر  زور زور سے بین کرنے لگی۔کہ ” او ماڑے سینے وچ وی تہے دل سا۔تولی پیر دیکھے نا دل آیا اُوٹھی  تہہ آئیُس ۔۔

مطلب (کہ میرے سینے میں بھی تو دل تھا۔شوق تھا تولی پیر دیکھنے کا) جی بھر کہ اُس نے بین کیے۔سب لوگ بہت ہنسے بھی اُس کی باتوں پہ۔لیکن وہ جب بین کرے اور اتنا روئے کہ میرا دل بہت دُکھا۔بہت سمجھایا اُس کو۔بڑی مشکل سے اُس کو چپ کروایا۔

اُس کے بعد میں بہت دفعہ تولی پیر گئی۔اور جب جب گئی وہ بچی بہت شدت سے یاد آئی۔اور اُس کے بین  بھی۔جب بھی یاد آئی وہ بچی  تو اُس کے وہ بین یاد  کر کے دکھی بھی بہت ھوئی ۔اور بے اختیار مسکراہٹ بھی آئی