انعام الحسن کاشمیری ادیب‘ افسانہ نگار‘ کالم نگار اور حکومت پاکستان سے صحافت میں قومی ایوارڈ یافتہ ہیں۔ ان کا تعلق ممتاز علمی خانوادے سے ہے۔ انہوں نے سکول کے زمانہ طالب علمی ہی سے لکھنے کا آغاز کیا۔ 1998ء میں جب وہ فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے معروف جریدے میں ان کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ اس کے بعد ممتاز جریدوں میں ان کی تحریریں شائع ہونے لگیں۔ 2005ء میں انہوں نے اپنے شوق کے تحت صحافت کا پیشہ عملی طور پر اختیار کیا اور پاکستان کے ممتاز جریدے کے ساتھ بحیثیت فیچر رائٹر و اسسٹنٹ ایڈیٹر منسلک ہوئے۔

اس دوران انہوں نے متعدد تحقیقی فیچرز لکھے جنہوں نے علمی و عوامی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل کی۔ وہ واحد صحافی تھے جس نے اکتوبر2005ء کے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں کا متعدد بار دورہ کیا اور تحقیقی رپورٹیں مرتب کیں۔ 2008ء میں حکومت پاکستان نے انعام الحسن کاشمیری کو تحقیقی کام پر بہترین صحافی کے قومی ایوارڈ سے نوازا۔ قومی ایوارڈ کی یہ تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انہیں قومی اعزاز عطا کیا۔

2008
میں انعام الحسن کاشمیری کا ایک افسانہ ”خوف“ پاکستان میں اولیول کے اردو نصاب میں شامل کیا گیاجو نصاب پر نظرثانی کے باوجود تاحال برقرار ہے۔ اس افسانے کی اشاعت پر ملک کے ممتاز اشاعتی ادارے”فیروزسنز“ نے انہیں نئے افسانے لکھنے اور کتب شائع کرنے کی بھی پیش کش کی۔ اس افسانے پر ایک نجی ٹی وی چینل کی جانب سے ڈرامہ بھی بنا یا گیا۔ ان کے افسانوں کی پہلی کتاب ”نئے کپڑے“2010ء میں شائع ہوئی جس میں 1998ء سے لے کر2007ء تک لکھے گئے افسانے شامل ہیں۔ اس کتاب نے علمی و ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی حاصل کی۔ ممتاز ادیبوں نے اس کتاب پر اپنے تاثرات تحریر کیے۔ ممتاز ادیب منشا یاد اور نیلم احمد بشیر نے اس کتاب پر اپنی رائے قلم بند کرتے ہوئے مجموعہ کو بہترین افسانے قرار دیا۔ فروری2015ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے منعقد کیے گئے انٹرنیشنل کراچی اردو لٹریچر فیسٹیول میں بھی ان کا ایک غیر مطبوعہ افسانہ شامل کیا گیا۔ انعام الحسن کاشمیری کی دوسری کتاب”ہزار روپ کے انسان“ ان کے تحقیقاتی فیچرز پر مشتمل ہے۔

انعام الحسن کاشمیری مختلف اہم قومی اداروں کے ساتھ وابستہ رہے۔ ان کا شمار منجھے ہوئے کالم نگاروں اور افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے۔ وہ متعدد اعزازات حاصل کرچکے ہیں۔ دسمبر2015ء میں انہیں پاکستان بزنس انڈسٹری پروموشن ایسوسی ایشن کے زیراہتمام تقریب میں بھی گورنر بلوچستان احمد خان اچکزئی اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے بہترین خدمات پرگولڈ میڈل عطا کیا۔ تحریک استحکام پاکستان اور بزم وارث شاہ پاکستان کی جانب سے بھی انعام الحسن کاشمیری کو اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ انعام الحسن کاشمیری کے فی الوقت دو مزید افسانوی مجموعے اشاعت کے قریب ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ترجمہ اور کالموں پر مشتمل کتب زیرتکمیل ہیں