تحریر : فرہاد احمد فگار

               اورنگ زیب عالم گیر کے انتقال (1808ء)کے بعد مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہوگیا۔ جب انگریزوں کی حکومت شروع ہوئی تو پنجاب کی ترقی میں انگریزوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1842ء میں لاہور اور دہلی میں گورنمنٹ کالج قائم کیے گئے۔ ڈاکٹر جی ڈبلیو لائیٹر کو گورنمنٹ کالج لاہور کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ ڈاکٹرلائیٹر نے کرنل ہالرائیڈ (جو اس وقت کے سرشتہ تعلیم کے منتظمِ اعلا تھے)کے مشورے سے 21 جنوری 1845ء کو ”انجمن پنجاب“ قائم کی۔ ڈاکٹر لائیٹر کو اس انجمن کا صدر منتخب کیا گیا۔ انجمن کا پورا نام”انجمن اشاعتِ مطالب مفیدہ پنجاب“ رکھا گیا اور اس کے تحت مجموعی طور پر دس شاعرے کروائے گئے۔

               عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان جدید مشاعروں کے بانی مولاناآزادؔ تھے اور انھوں نے بہ طور خود اس کی بنیاد ڈالی لیکن واقعات سے اس کی تائید نہیں ہوتی امرواقعہ یہ ہے کہ ان مشاعروں کا آغاز حکومت کے ایماسے ہوا تھاالبتہ یہ درست ہے کہ آزادؔ، ان مشاعروں کے سیکرٹری تھے۔ڈاکٹر لائیٹر جو مشرقی زبانوں کے ماہر تھے انھوں نے مولانا آزادؔ کے مشورے سے جدید مشاعروں کی بنیاد رکھی۔ کرنل ہالرائیڈ سرشتہ تعلیم پنجاب نے انجمن ِپنجاب کی سرپرستی قبول کی۔

               ۱۵اگست 1848ء کو انجمن کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں آزادؔ نے   ”نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات“کے موضوع پر ایک لیکچر دیتے ہوئے نظمیہ شاعری کی ضرورت پر روشنی ڈالی جس میں انھوں نے اردو شاعری، ادبی معیار میں انقلاب اور شاعری کے نصب العین میں تبدیلی پر زور دیا۔

               انجمن پنجاب کے مشاعروں کا مقصد اگرچہ تدریسی تھا لیکن درحقیقت یہ اردو غزل کے روایتی ڈھانچے کے خلاف ایک شدید ردِعمل بھی تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مشاعروں کی اسی مقصدیت نے اردو نظم میں نیچر کی شاعری کی ابتدا کی۔ بہ قول ڈاکٹر تبسم کاشمیری:”انجمن پنجاب کے ان مشاعروں کا مقصد اردو شاعری کو ایک شریف، اخلاق آمیز، رومانی اور فطرت پسند شاعری کا تصور دینا تھا اور یہ تصور اس دور کی برطانوی سیاست کے سیاسی اور تہذیبی تقاضوں کے عین مطابق تھا۔“ انجمن پنجاب کے تحت ہونے والے ان مشاعروں کا مختصراً احوال درج ذیل ہے۔

پہلا مشاعرہ

               انجمن پنجاب کے تحت پہلا مشاعرہ ۳۰ مئی ۱۸۷۴ء کو منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کا موضوع ”برسات“ تھا۔ آزادؔ نے اس مشاعرے میں بہ طور نمونہ مثنوی ”شبِ قدر“ پڑھی۔ اس مشاعرے میں مولانا آزادؔ کے علاوہ مولانا الطاف حسین حالی ؔاور دیگر شعرا نے شرکت کی۔ حالیؔ نے اپنی نظم ”برکھارُت“ پیش کی۔

دوسرا مشاعرہ

                              یہ مشاعرہ تیس جون ۱۸۷۴  کو منعقد ہوا اور اس کا موضوع ”زمستاں“ رکھا گیا (جس کا مطلب خزاں ہے)۔ اس مشاعرے میں مجموعے طور پر ۹ شعرا نے شرکت کی جن میں مولانا محمد حسین آزادؔ، شاہ انور حسین ہماؔ، مولوی عطاؔ اللہ، مولوی اشرف بیگ خان اشرفؔ، منشی الہی بخش رفیقؔ، مولوی محمد مقربؔ علی، مولوی عموجان ولیؔ دہلوی، مولوی قادر بخش اور مولوی علاؤالدین محمد کاشمیری شامل تھے۔

تیسرا مشاعرہ

               یہ مشاعرہ ۳اگست ۱۸۷۴ء کو ہوا۔ جب کہ اس کا موضوع ”امید“ رکھا گیا۔ انجمن کے اس مشاعرے میں حالیؔ اور آزادؔ کے علاوہ مزید آٹھ۸ شعرا نے شرکت کی۔ ان میں مولوی عموؔ جان دہلوی، مرزا محمد بیگ خان فکریؔ، مرزا محمد عبداللہ بیگ مضطرؔ، مرزا محمود بیگ راحتؔ، مولوی مرزا اشرف خان اشرفؔ، شاہ انور حسین ؔہما، مولوی عطا اللہ خان عطاؔ اور شیخ الہی بخش رفیق ؔشامل تھے۔

چوتھا مشاعرہ

               انجمن پنجاب کا چوتھا مشاعرہ بہ تاریخ یکم ستمبر ۱۹۷۴منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کا موضوع ”حبِ وطن“ رکھا گیا۔ اس مشاعرے میں شریک شعرائے کرام کی تعداد ۳۱ تھی جن میں حالیؔ اور آزادؔ  تو سر فہرست تھے جب کہ دیگر شعرا میں پنڈت کرشن لال طالبؔ، مولوی عمو جان ولیؔ دہلوی، ملا گل محمد ولیؔ، مفتی امامؔ بخش، انور حسین ہماؔ، شیخ الہی بخش رفیقؔ، مصر رام داس قابلؔ، مولوی عطا اللہ خان عطاؔ، منشی علاؤا لدین صافیؔ، لالہ گنڈا ملؔ اور سید اصغرؔ علی لکھنوی حقیر شامل تھے۔

پانچواں مشاعرہ

               انجمن پنجاب کے زیر انتظام انیس،اکتوبر ۱۸۷۴کو ہونے والے اس مشاعرے کا موضوع ”امن“ تھا۔ اس مشاعرے میں شریک شعرا کی تعداد گیارہ(۱۱) تھی۔ مولانا حالیؔ اس مشاعرے میں شریک نہ تھے جب کہ دیگر شعرا کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ منشی لچھن داس برہمؔ، مولوی گل محمد عالیؔ، مولوی شاہ محمد صادقؔ، مفتی امام بخشؔ، مصر رام داس قابلؔ، مولانا محمد حسین آزادؔ، سید اصغر علی حقیر ؔلکھنوی، مولوی سلطان علاؤالدین، محمد قریش ؔحنفی قادری صافی، مولوی عطاء اللہ خان عطا ؔاور مولوی عمو جان ولیؔ دہلوی شامل تھے۔

چھٹا مشاعرہ

               ”انصاف“ کے موضوع سے منعقدہ یہ مشاعرہ چودہ نومبر ۱۸۷۴ء کو ہوا۔ اس مشاعرے میں حالی ؔاور آزاد سمیت  ؔ تیرہ شعرا شریک ہوئے۔ حالیؔ نے اس کے بعد اور کسی مشاعرے میں شرکت نہ کی اور دہلی چلے گئے۔ دیگر شعرا میں مولوی محمد فصیح الدین رنجؔ، مولوی محمد شریفؔ، مصر رام داس قابلؔ، منشی لچھن داس برہمؔ، میر انور حسین ہماؔ، اصغر علی حقیرؔ لکھنوی، ملا گل محمد عالیؔ، شیخ الہی بخش رفیقؔ، مفتی امام بخشؔ، مولوی محمد عطاؔء اللہ خان اور  پنڈت کرشنؔ لال شامل تھے۔ مقالات گار سال دتاسی کے مطابق اس مشاعرے میں سیتان کے مرزا محمد اکبر خان خاورؔ بھی تھے جنھیں ”سلطان الشعرا“ کا خطاب ملا ہے۔ اس اعتبار سے شعرا کی تعداد ۴۱ بنتی ہے۔ لیکن نبیرہئ آزادآغا محمد باقر کے مطابق (نظم آزاد پر شعرا کی جو فہرست دی ہے) یہ اس میں شامل نہ تھے۔

ساتواں مشاعرہ

               انیس دسمبر ۱۸۷۴ء کو منعقدہ اس مشاعرے کا موضوع”ثروت“ تھا۔ اس مشاعرے میں چودہ شعرا نے شرکت کی جن میں ملا گل محمد عالیؔ، مولوی سلطان علاؤالدین محمد قریشؔ، مولوی محمد شریفؔ، منشی لچھن داس برہمؔ، مصر رام داس قابلؔ، مولوی عطاء اللہ خان عطاؔ، شیخ الہی بخش رفیقؔ، میر انور حسین ہماؔ، مولوی عمو جان ولیؔ دہلوی، منشی امامؔ بخش، سید اصغر علی حقیر ؔلکھنوی، پنڈت کرشنؔ لال طالب، محمد حسین آزادؔ اور مولوی محمد سعیدؔ شامل تھے۔

آٹھواں مشاعرہ

               یہ مشاعرہ تیس جنوری ۱۸۷۵ء کو منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کا موضوع ”قناعت“ تھا۔ا س مشاعرے میں دو طلبہ لالہ دین دیال عاجزؔ اور جوالا سہائے خورمؔ کے ساتھ ساتھ کی شرکت سے شعرا کی تعداد اٹھارہ(۸۱) ہوگئی۔ دیگر ا میں ڈاکٹر لچھن داس برہمؔ، ملا گل محمد عالیؔ، مولوی سلطان علاؤالدین محمد صافیؔ، لالہ تارا چند تارؔا لاہوری، شیخ مولا بخش بلندؔ لاہوری، مصر رام داس قابلؔ، میاں محمد حیات فیضؔ لاہوری، میر انور حسین ہماؔ، مولوی عطا اللہ عطاؔ، شیخ الہی بخش رفیقؔ، سید اصغر علی حقیرؔ، مفتی امام بخشؔ، مولوی محمد سعیدؔ، مولوی محمد حسین آزادؔ، پنڈت جواہرلال خلفؔ اور پنڈت موتیؔ لال شامل تھے۔

نواں مشاعرہ

               ڈاکٹر اسلم فرخی اور ڈاکٹر صفیہ بانو کی تحقیق کے مطابق ۱۳مارچ ۱۸۸۵ اس مشاعرے کی تاریخ ہے جب کہ موضوع ”تہذیب“ تھا۔ لیکن ڈاکٹر علی محمد خان نے اس کی تردید کرتے ہوئے اس مشاعرے کی تاریخ ۲۲مئی لکھی ہے اور اس کا موضوع ”ہم دردی“ بتایا ہے۔ علی محمد خان کے مطابق اس مشاعرے میں مولانا آزادؔ کی شرکت کا ثبوت نہیں ملتا درست نہیں اور اس کا موضوع اور تاریخ بھی درست معلوم نہیں ہوتی اور صحیح تاریخ اور موضوع ڈاکٹر اسلم اور ڈاکٹر صفیہ کی ہی معلوم ہوتی ہے۔

دسواں مشاعرہ

               ڈاکٹر صفیہ بانو نے اپنی کتاب ”انجمن پنجاب کی تاریخ و خدمات“ میں لکھا ہے کہ دسویں مشاعرے کی تاریخ کا تعین نہیں کیا جاسکتا لیکن اختلاف کی گنجائش آزادؔ کی مثنوی”شرافت حقیقی“ سے نکلتی ہے۔ ڈاکٹر صفیہ نے ا س مشاعرے کا موضوع ”اخلاق“ لکھا ہے جو کہ درست نہیں، یہ مشاعرہ ۳ جولائی ۵۷۸۱ء کو منعقد ہوا۔ اس مشاعرے کا موضوع ”شرافت انسانی“ تھا اور اسی منابست سے آزادؔ نے مثنوی پڑھی۔

               درج بالا دس مشاعروں کے بعد انجمن پنجاب کے مشاعرے بند ہوگئے۔ اس تحریک نے جدید نظم نگاری پر دوررس نتائج مرتب کیے۔ لیکن ایک ہمہ گیر صورت میں تحریک بن کر نہ ابھر سکی۔ ڈاکٹر محمد صادق کے مطابق مشاعروں کی ناکامی کا سبب بھی یہی تھا کہ یہ بہت حد تک پیش از وقت تھی۔