شاعری پہ تبصرہ   

محمد ایوب صابر

کشمیر جسے جنتِ ارضی بھی کہا جاتا ہے یہ سرسبز و شاداب وادیاں، قدرتی مناظر کے حسین شہکار ہیں، میں اکثر خیال کرتا تھا کہ جب ایک غاصب انسانوں کو جنت میں بھی سکون میں نہ رہنے دے تو وہ انسان کیا سوچتے ہوں۔

اعجاز کشمیری کے شعری مجموعہ ہائے کلام اعجازِ زیست اور سحرِ دوپٹہ کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہواکہ قدرت کے حسین مناظر سے بھرپور وادی کشمیر کا نوجوان کس قدر سنجیدہ اور پختہ سوچ کا مالک ہے۔

میں اکثر اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ کشمیر میرے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو جسم میں دل کی ہے، سیالکوٹ ویسے بھی جموں کشمیر کے سائے میں واقع ہے اس لیے سیالکوٹ کے ایک باسی کے دل میں کشمیر اباد ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ایک کشمیری نے سیالکوٹ میں پرورش پا کر شاعرِ مشرق کا خطاب حاصل کر کے پوری دنیا میں ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا، اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ خودی کا فلسفہ کشمیری خون میں شامل ہے

میرا گھر کشمیر روڈ پر واقع ہےاور شہدائے کشمیر کا قبرستان میرے گھر سے 500 گز کے فاصلے پر ہے، میری خواہش ہے کہ مرنے کے بعد مجھے شہدائے کشمیر کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے تاکہ میں موت کے بعد کشمیری شہیدوں کیساتھ اپنا وقت گزار سکوں،

اعجاز کشمیری نے محض قافیہ پیمائی سے شعر کا پیٹ بھرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ مقصدیت کو سامنے رکھ کر اشعار کے وہ نقش کندہ کیے ہیں جو نوشتہ دیوار بن گئے ہیں، ان کی شاعری میں کشمیر کا ذکر بین السطور میں شامل ہے، انہوں نے کشمیر وادی کا ذکر کس طرح کیا ہے ذرا انداز ملاحظہ کریں

روح کی مسرت سے کیوں ہے زاویہ خالی

کس کو سچ کہیں چاہت سے ہے سلسلہ خالی

سوچ اور بتا یہ اعجازؔ آج بھی کیوں ہے

امن کی طلب سے تہذیبِ حالیہ خالی

گزشتہ 75 سالوں سے ایک غاصب میرے کشمیر پر خونی پنجے گاڑھ کر انصاف اور انسانیت کے دستور کو پامال کر رہا ہے، وہ چاہتا ہے کہ کشمیری باشندے زباں بندی کر لیں تاکہ ان کی آواز دنیا تک نہ پہنچ سکے لیکن اعجاز کشمیری جیسے قلماکار جب قلم کی نوک قرطاس کے سینے پر رکھتے ہیں ان کے دل میں دبی خواہش زبان پر آ جاتی ہے ایسے ہی ماحول میں اعجاز کشمیری ایک مقام پر رقم طراز ہیں

سبھی کے منہ پہ ہے تالا خدا خیر کرے

اِ سے کہتے ہیں اجالا خدا خیر کرے

میرا یہ قافلہ جس کے ہی ہاتھوں لٹا تھا

وہی حاکم بنا ڈالا خدا خیر کرے

اعجاز کشمیری کا شعری رجحان زیادہ تر شاعری کی صنفِ اعظم غزل کی جانب ہےلیکن انہوں نے نظم سے بھی پہلو تہی نہیں کی یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں مختلف رنگ اور زاویے نظر آتے ہیں، اعجاز کشمیری بسلسلہِ تعلیم چین میں مقیم ہیں وہاں کی پرسکون زندگی ان کے لیے اطمینان کا باعث ہے اس کے باوجود اپنی مٹی کی خوشبو دامن میں بھر کے جیتے ہیں اپنے خوبصورت شہر بھمبر کا ذکر ایک نظم میں کیا ہی دلپذیر انداز میں کر رہے ہیں،

یادِ بھمبر آئی ہے مجھ کو تصور میں رہنے دو

اپنے گھر میں ہی اچھا ہوں میں مجھے گھر میں رہنے دو

کوئی ایسا ہے مجھ سے جو گفتگو بھمبر کی کرے

ٹھیک ہو تو، ورنہ مجھے سوچِ بھمبر میں رہنے دو

دیس جس میں سارے مرے اپنے ہیں تم اعجازؔ کو

لے چلو واں پر اپنے لوگوں کے ساگر میں رہنے دو

ان اشعار سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اعجاز کشمیری نے وادی کشمیر اور شہر بھمبر کو اپنے دل میں بسایا ہے وہ کہیں بھی جائیں کشمیر ان کے ساتھ سفر کرتا ہے اعجاز کشمیری کی شاعری میں زیادہ تر مذاحمتی موضوعات ہیں وہ شاعری میں غمِ دوراں کے قائل نظر آتے ہیں اس کے باوجود کبھی غمِ جاناں کی گلی میں جھانک لیتے ہیں، ان کا یہ انداز بھی ملاحظہ کریں

کون ان کو سمجھائے مسئلہ کہ ہے مشکل

کی جو مدتوں پہلے اس ہی بات میں جینا

اب بھی پہلی سی شدت کا تقاضا ہے ان کا

ان کی ہے یہی خواہش التفات میں جینا

اعجاز کشمیری کی شاعری کا مطالعہ کرنے کے بعد میں ان کو نئی نسل کا نمائندہ شاعر تسلیم کرتا ہوں میری دعا ہے کہ ان کا شعری سفر ارتقاء کی منزلیں طے کرتا رہے، اپنے ایک شعر پر اختتام کرتا ہوں

کسی مظلوم بیوہ کی میں جب آواز سنتا ہوں

مری نظروں کے آگے پھر مرا کشمیر ہوتا ہے