آزاد احمد چوہدری


‌آزاد کشمیر میں 2021  کا سال الیکشن کا سال ہے ۔ جس  میں مختلف سیاسی پارٹیاں زورِ بازو آزما ئیں گی۔ ابھی تو مسلم لیگ نون کی حکومت موجود ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر سے  حکومت بنانے کی کوشش کرے گی جبکہ پیپلز پارٹی  ، مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف بھی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی کوشش کریں گی۔

تحریک انصاف آزاد کشمیر  تو تقریبا گزشتہ دو سال سے الیکشن کی مہم میں مصروف ہے ۔ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف آزاد کشمیر  حکومت بنانے کے لیے پر امید  ہے ۔

جبکہ گزشتہ الیکشن میں مسلم کانفرنس ، جوکہ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت تھی، وہ بھی پر امید ہے۔ کہ اتحاد کی ساتھ دونوں جماعتیں حکومت بنا سکتی ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی مرکزی حکومت مہنگائی  ، لوڈ شیڈنگ ، چینی،آٹا اور گیس بحران جیسے کئی مسائل میں جکڑی ہوئی ہے ۔

وزیراعظم عمران خان صاحب تقریباً ہر ایک اس بات سے انکاری ہیں جو انہوں نے حکومت میں آنے سے پہلے یا اپوزیشن کے دور میں  کی تھیں۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت جو چل رہی ہے ساڑھے چار سال ہو چکے ہیں سوائے وزراء کو راضی کرنے ، تقاریب منعقد کرانے کہ کچھ خاص نہیں کیا ۔

مگر ایک بات کا کریڈٹ ملتا ہےکہ گزشتہ حکومت کے دئیے گے تمام منصوبے مکمل کروائے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس سرکار نے کیا کچھ کیا ہے وہ ابھی تک تو نظر نہیں آ رہا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے اپنے دور میں تین میڈیکل کالجز پانچ یونیورسٹیوں کے علاوہ بے شمار افراد کو سرکاری نوکری دلوائی۔ اس کہ علاوہ ٹوریزم کے لئے خاطر خواہ کام کروائے ۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر پر امید ہے کہ لوگ اسکے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے ووٹ دیں گے ۔ کیونکہ فاروق حیدر گورنمنٹ نے کرونا کے دنوں میں سخت لاک ڈاؤن کر کہ جہاں کافی کچھ بہتر کیا وہاں ہزاروں لوگوں کو بیروزگار کیا ۔ حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی تعاون و مدد نہیں کی گئی ۔اگرکچھ ہوا یا کیا بھی ہے تو سوائے اعلانات تک ۔

آزاد کشمیر میں اگر کسی کام کی ہنگامی صورتوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو وہ ہے صحت کا نظام اس پر بھی کچھ توجہ نہیں دی گئی۔ کچھ اداروں کی معلومات کے مطابق آزاد کشمیر میں کوئی بھی ایک جماعت اکیلے حکومت بنانے کے قابل نہیں ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ماضی کے کون کون مدمقابل اتحاد کرتے ہیں یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہیں۔

ابھی بہت کچھ ہونے والا ہے بے شمار نئے چہرے اس مرتبہ الیکشن کہ میدان میں اتریں گے دیکھتے ہیں کتنے نئے  چہرے اسمبلی کی زینت بنتے ہیں؟ اور کتنے پرانے لوگ اپنے حلقے کی عوام کا اعتماد ایک مرتبہ پھر سے اسمبلی میں پہنچیں گے۔ خیال رہے مرکزی حکومت کا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے  کے اعلان کے بعد آزاد کشمیر کی عوام میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ جس سے تحریک انصاف آزاد کشمیر کو الیکشن مہم میں فرق پڑ سکتا ہے ۔

مسلم کانفرنس کا موجودہ سیٹ اپ اس حال میں نہیں کہ کچھ مل کر حکومت بنوا سکے اور ن لیگ حکومت کا حال سامنے ہے ۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اس تمام صورتحال میں بہتر الیکشن کمپین کر سکتی ہے ایسے میں آزاد کشمیر میں سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی کا الیکشن کمپین کے لحاظ سے پلہ بھاری ہے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟