تحریر: ظفر تنویر – بریڈ فورڈ 

انیس سو اکسٹھ کے پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ کے باعث کے جو متعدد اخبارات و جرائد متائثر ہوئے ان میں سے ایک ہفت روزہ“صادق”راولپنڈی بھی تھا جسے اپنی اشاعت بند کرنا پڑی،ہفت روزہ صادق دراصل ریاستی اخبار تھا جس نے 1931میں پونچھ(مقبوضہ کشمیر)سے اپنی اشاعت کا اغاز کیا۔”صادق”کے بانی ایڈیٹر سراج حسن سراج تھے جو ضیا ء الحسن ضیا کے بڑے اور مولانا چراغ حسن حسرت کے چھوٹے بھائی تھے ادب و صحافت گویا ان تینوں بھائیوں کا ذریعہ روزگار رہا۔

1947میں پونچھ سے ہجرت کرنے کے بعدچراغ حسن حسرت لاہور میں جبکہ سراج حسن سراج اور ضیا ء الحسن ضیا راولپنڈٰی میں آباد ہوگے -سراج صاحب کو ریڈیو آزادکشمیر میں ملازمت کا موقع مل گیا جبکہ “صادق “ کو جاری رکھنے کی ذمہ داری ضیا ء صاحب کے کاندھوں پر آپڑی،انہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھائی اور جھنگی محلہ راوالپنڈی سے شائع ہونے والا یہ جریدہ ریاستی آواز کا کردار ادا کرتا رہا -1958کے ایوبی مارشل لاء کی حفاظت کے لیے بنائے گئے پریس اینڈ پبلی کیشن ایکٹ 1961نے پاکستانی صحافیوں کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا تو اس کی لپیٹ میں آنے والوں میں ہفت روزہ صادق بھی شامل تھا-

اخبار بند ہوا تو ضیا ء الحسن ضیا بے روزگار ہو گئے اور اسی بے روزگاری کا مقابلہ کرتے  ہوئے انہیں ایک مرتبہ پھر راولپنڈی سے میرپور ہجرت کرنا پڑی –


ضیاء الحسن ضیا فائل فوٹو

غالبا یہ 1962 کا ذکر ہے جب میر پورسے ڈیکلریشن لے کر”صادق”  کا دوبارہ اجرا کیا گیا اور پھر اسے  اپنا سانس بند ہونے تک بند نہں ہونے دیا،گو ضیا ء الحسن ضیا کے آباؤاجداد کاتعق کھوئی رٹہ سے تھا ان کے والد لالہ کشمیری چند نے اوائل عمری میں اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنے والد  لالہ فقیر چند کپورکے خوف سے راتوں رات کھوئی رٹہ سے نقل مکانی کر گئے تھے۔لالہ کشمیری چند شیخ بدرالدین کے نام سے مشہورہوئے اور درس و تدریس کے ذریعہ لوگوں تک پہنچتے رہے-انہوں نے کھوئی رٹہ کے بجائے پونچھ کو اپنا گھر بنایا اور یہیں دفن ہوئے -ضیا ء الحسن ضیا 1912میں پونچھ میں پیدا ہوئے- انہوں نے پہلی بار 1929میں کوچہ صحافت میں قدم رکھا اور“دیہات کی دنیا“کے نام سے ایک رسالہ نکالا لیکن 1931میں “صادق “کے اجرا کے ساتھ ہی اپنے بڑے بھائی سراج حسن سراج کے ساتھ ہفت روزہ“ صادق “پونچھ کی گاڑی کو دھکیلنے میں لگ گئے،ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں جب میر پورسے صادق کا اجرا کیا گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ ہفت روزہ میر پور کا مقبول ترین اور واحد ذریعہ اطلاعات بن گیا،ضیا ء الحسن ضیا کو فن سخن وری پر بھی کمال حاصل تھا- وہ ایک مکمل شاعر تھے،غزل اور نظم دونوں اصناف میں بڑی آسانی سے بات کہہ دیتے –


حرف و حکایت

انہوں نے حمد و نعت،منقبت اور تحریک آزادی کشمیر کو اپنے کلام کا موضوع بنائے رکھا-وہ اپنے قلمی نام“الف خان“کے ذریعے صادق میں شائع ہونے والے اپنے منظوم کالم“حرف وحکایت“میں رنگ بکھیرتے اور شہر کو درپیش مسائل اور آنے والے دنوں میں پیش آنے والے مسئلوں کا ذکر کرتے ہوئے انتظامیہ اورارباب اختیار کی نااہلی کا ماتم کرتے رہے،میرپور میں آباد ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا لیکن میر پور کی محبت میں وہ بڑے بڑے سرداروں سے ٹکرا جاتے اوراکثر میرپور کے برادری ازم کے خلاف بھی آواز بلند کرتے،پروفیسر نذیر تبسم نے حرف و حکایت کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ“ضیا ء الحسن ضیا کی شاعری کا ایک اہم پہلو جس سے صرف نظرممکن نہیں یہ ہے کہ ان کا خمیر پونچھ شہر سے اٹھا تھا لیکن میرپور شہر ان کے رگ وپے میں اس قدر سمویا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ پونچھ سے ان کی نسبت پر حیرانگی سی ہونے لگتی ہے

پورے کلام کا مجموعی تاثر جس حققیت کی نقاب کشائی کرتا  ہے وہ یہ ہے کہ ضیا ء الحسن ضیا کے کلام میں میرپوری تہذٰیب و تمدن نقطہ عروج پر دکھائی دیتا ہے- ان کی جس ظرافت میں میرپور کی روح کی تڑپ صاف محسوس ہوتی ہے -ہر شعر میں میر پور کادل دھڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ایک ایک لفظ اورترکیب سے میر پور کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو آتی ہے -لگتا ہے کہ ضیاء صاحب نے غیر شعوری طور پر اپنے آپ کو میر پور کے ٹیلوں،پہاڑوں،ندی نالوں،جنگلوں،تالابوں اور یہاں تک کہ میرپور کی حسیات تک کو اس طرح اپنا لیا تھاکہ ان کی نسبت پونچھ سے ظاہر کرتے ہوئے مجھے احساس جرم ہو رہا ہےکہ شاید  یہ اخلاقی طور پر مستحسن نہ ہو

By editor