وطن کا قرض تھا اتنا کہ سر دیا جاتا
زمیں کو سرخ گلابوں سے بھر دیا جاتا

میں جب بھی تخت نشینوں سے حق طلب کرتا
تو میری گود کو مٹی سے بھر دیا جاتا

مسرتوں سے مستفید ھو نہیں سکتے
نہیں ھے جب تلک تاوان بھر دیا جاتا

شب وصال کا کیا المیہ بیان کروں
اٹھا کے ایک طرف مجھ کو دھر دیا جاتا

کمال طرز حکومت تھا اس ریاست کا
لباس کفن کا ،مٹی کا گھر دیا جاتا

وثیقے توڑ کر بانٹو، زمین لوگوں میں
جو نعرہ زن ھوا ؛ وہ قتل کر دیا جاتا