Urdu site‎ > ‎

تجارت معطل، کشمیری حلقوں میں تشویش


پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی متنازعہ لائن آف کنٹرول کےدونوں جانب تجارت اور بس سروس جزوی طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر بعض کشمیری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے
انیس جون کو پہلی مرتبہ پاکستان نے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت اور بس سروس معطل کردی جو ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔
لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کرنے والے بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ بھارت کی فوج کی جانب سے راولاکوٹ سیکٹر میں فائرنگ اورگولہ باری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک مقامی تاجر شاہد محمود نے بھی ایسی ہی شکایت کی۔
انہوں نے کہا کہ 146اس صورت حال میں ہم کھل کر کام نہیں کرسکتے کیوں بغیر بتائے کسی بھی وقت سرحد بند کر دی جاتی ہے اور دونوں جانب کے تاجر ڈر جاتے ہیں کہیں ہم مار نہ کھا جائیں145۔
لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کے آغاز کے بعدکشمیر کے تاجروں پر مشتمل جوائنٹ چیمبرز آف کامرس کے پہلے صدر ذوالفقار عباسی نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔
نہوں نے کہا کہ 145ہم اس کو تویش کی نظر سے دیکھتے ہیں، کشمیر کے دونوں طرف کے لوگوں کو اس پر تشویش ہے خاص طور پر تاجر براداری کو145۔
عباسی کا کہنا ہے کہ یہ قدم اعتماد سازی کے تمام اقدامات کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ 146بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگیں بھی ہوچکی ہے جبکہ کشمیر کے دونوں جانب تو کوئی جنگ نہیں ہوئی اور کشمیر کے دونوں طرف ایک ہی قوم بستی ہے، آخر ان کو معمول کا کاروبار کرنے اور ایک دوسرے کو ملنے کیوں نہیں دیا جا رہا یہ چیز ہماری سمجھ سے باہر ہے145۔
ذوالفقار عباسی نے بھارت اور پاکستان سے اپیل کی کہ کشمیر کے لوگوں کو ملنے دیا جائے، انھیں کاروبار کرنے دیا جائے اور آپس میں مل بیھٹنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ مشکلات کم کرنے کے لیےدنیا ، بھارت اور پاکستان کو کوئی حل تجویز کرسکیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی تجزیہ نگار ارشاد محمود نے اس اقدام کو غیر معمولی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 146یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان جتنی بھی مفاہمت ہوجائے لیکن دونوں طرف کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں ابھی تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ ابھی بھی نوے کی دہائی میں رہے رہی ہے145۔
ان کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ سیاسی قیادت کے درمیان بات چیت، وسیع مفاہمت اور مسائل کے حل کے لیے سوچ اسٹببلشمنٹ اور فوج کی قیادت تک پوری طرح سے نہیں پہنچ سکا ہے۔
مظفرآباد میں مقیم صحافی اور تجزیہ نگار عارف بہار کہتے ہیں:146 تجارت کے لیے سہولیات دی جانی چاہیے تھیں اور اس میں حائل مشکلات کو دور کیا جانا چاہیے تھا لیکن ان مشکلات کو دور کرنے کے بجائے لکٹائے رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے145۔
عارف بہار کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے وہ طبقہ طاقتور ہوگا جو قیام امن کے سارے عمل کو پیچھے دھکیلنا چاہتا ہے۔
اگر پاکستانی حکام کے اشاروں کو بنیاد بنائے جائے تو راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت اور بس سروس اگلے کچھ دنوں میں بحال ہوجائے گی۔
لیکن یہ خدشہ تو موجود ہے کہ اس تعلطل نے ذہنوں کو جس بے یقینی سے دوچار کیا اس کے اثرات بعد میں محسوس کیے جاتے رہیں گے۔
طویل کشیدگی کے بعد 2003 میں روایتی حریف بھارت اور پاکستان کے درمیان قیام امن کے عمل کا آغاز ہوا۔
اس کے نتیجے میں دونوں ہی ممالک نے متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں اعتماد سازی کے کئی اقدامات کیے۔ مثلاً لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان فائر بندی ہوئی، کشمیر کے دونوں حصوں میں بسنے والے منقسم خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لیے مظفرآباد ، سرینگر اور راولاکوٹ، پونچھ کے درمیان بس سروس کے ساتھ ساتھ تجارت شروع کی گئی جبکہ وادی نیلم میں ایک مقام سے پیدل آر پار جانے کی سہولت دی گئی۔
بشکریہ : ذوالفقار احمد ، بی بی سی اردو سروس
Comments