موسمی تبدیلی: عالمی امن کو خطرے کا باعث

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ ہے۔

ماحولیاتی پروگرام کے افسر اشم سٹائنر کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات میں بھی اضافہ ہو گا۔

سٹائنر کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات میں اضافے کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران جیسے کہ صومالیہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم کس قدر تیار ہیں اس قسم کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اور خاص طور پر اس وقت جب اس قسم کے بحران پے درپے پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یکے بعد دیگرے آئے بحران سے عالمی خوراک کی منڈی، خطے میں خوراک کی صورتحال، لوگوں کی نقل مکانی جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔

سٹائنر نے یہ بات اس وقت کی ہے جب اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں چار سال میں پہلی بار ماحولیات پر بحث ہوئی ہے۔ اس بحث میں جرمنی نے کونسل کی اس موضوع پر بحث کی حمایت کی ہے جس میں موسمی تبدیلی کو عالمی امن اور سکیورٹی سے منسلک کیا گیا ہے۔

یکے بعد دیگرے آئے بحران سے عالمی خوراک کی منڈی، خطے میں خوراک کی صورتحال، لوگوں کی نقل مکانی جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جرمنی اور روس کے درمیان مذاکرات ہوئے کیونکہ روس اس موسمی تبدیلی کو ایجنڈے پر لانے کے خلاف تھا۔ تاہم بعد میں اس موضوع پر ایک بیان جاری کیا گیا۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر ایلیگزینڈر پینکن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے میں موسمی تبدیلی کو لانے کے بارے میں تحفظات ہیں۔

سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو موسمی تبدیلی کے باعث عالمی امن اور سکیورٹی کو لاحق خطرات پر گہری تشویش ہے۔

اس سے قبل دو ہزار سات میں موسمی تبدیلی سے رونماء ہونے والے اثرات کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں لانے کی کوشش ناکام رہی تھی۔ یہ کوشش برطانیہ کی جانب سے کی گئی تھی۔

بشکریہ : بی بی سی اردو سروس