Urdu site‎ > ‎

کشمیر کی قیدی نمبر100

-سید عارف بہار
8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ امن و آشتی کے ماحول سے مانوس اور ترقی یافتہ قوموں کے لیے تو یہ محض ایک فیشن، سیمینارز، واک اور ورکشاپس میں مل بیٹھنے کا بہانہ، ایک رسم، سرگرمی اور تقریب کا نام ہے، لیکن جنگ زدہ علاقوں کی خواتین کا دکھ، درد و کرب ان رسمی دنوں سے ماورا اور مستقل ہوتا ہے۔ بچھڑے ہوئوں کی یاد منانے،گم کردہ عزیزوں کا انتظار کرنے اور اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی پُرتشدد واقعے کو یاد کرنے کے لیے کسی ایک دن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہاں تو تلخ یادیں لوحِ حافظہ سے چپک کر رہ جاتی ہیں۔ کشمیر کی وادیٔ گل میں اب خوشیوں کا موسم اترے مدتیں گزر گئیں۔ بائیس برس کی مسلح تحریک کے دوران تصادم نے جہاں معاشرے میں عمومی طور پر دردناک داستانوں کو جنم دیا، وہیں ان میں سے بیشتر داستانیں یا تو خواتین کے گرد گھومتی تھیں یا وہ کسی نہ کسی حد تک خواتین سے جڑی تھیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ بائیس برس میں وادیٔ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ جبکہ گم کردہ لوگوں کی تعداد دس ہزار ہے۔ ان میں اکثریت مردوں کی ہوگی، لیکن انہیں بھی کسی عورت نے جنا ہوگا، وہ کسی کا سہاگ اور کسی کے بھائی اور والد ہوں گے۔ ان کی یاد میں کتنی آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہوگا اور کتنی ہی آنکھیں انتظار کے لمحوں کی طوالت کے آگے ہارکر بند ہوجانے پر مجبور ہوچکی ہوں گی۔ گزشتہ برس ایک ایسی ہی 68 سالہ ماں مُغلی بیگم کی کہانی کلکتہ کے اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع ہوئی تھی جو سولہ برس تک اپنے بیٹے کی یادوں کو سینے سے لگائے جہان فانی سے کوچ کرگئی۔ اس کا بیٹا نذیر احمد پھلوں کا تاجر تھا اور سری نگر میں بارڈر سیکورٹی فورس پر حملے کے ردعمل میں اسے فائرنگ کرکے شہید کردیا گیا تھا۔ اپنی موت سے چند برس پہلے مُغلی بیگم نے دی ٹیلی گراف کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے نذیر احمد کی یاد میں دیواروں سے باتیں کرنے کی عادت ہوگئی ہے اور میری عمر یہ جملہ دوہراتے ہوئے گزرتی جارہی ہے (مُغلی بیگم نے کشمیری زبان میں ایک جملہ کہا تھا، ٹیلی گراف نے جس کا انگریزی ترجمہ یوں کیا تھا''Oh my loved one,i am still waiting for you" مُغلی بیگم نے کہا تھا کہ دنیا والے میری باتیں سن سن کر اُکتا جاتے ہوں گے لیکن یہ دیواریں مجھے صبر سے سنتی رہتی ہیں۔ مغلی بیگم انتظار کی صلیب پر جھولتے جھولتے آخرکار داغِ جدائی کے ساتھ راہیٔ ملکِ عدم ہوگئیں۔ اِس بار عالمی یوم خواتین کے موقع پر ایک طرف گم کردہ افراد کی رشتہ دار خواتین نے مظاہروں کے ذریعے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، تو دوسری طرف وادیٔ گل کی اس عورت کے جذبات اور دکھ کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کی بیگم مشعل ملک نے اپنی ایک پینٹنگ کے ذریعے زبان عطا کی۔ مشعل کی اس پینٹنگ کو عالمی یوم خواتین کے موقع پر کشمیری خواتین کی سب سے خوبصورت اور بامعنی سرگرمی کہا جا سکتا ہے۔ مشعل ملک کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہ 2008ء میں محمد یاسین ملک سے بیاہ کر سری نگر سدھار چکی ہیں۔ عورت ہونے کے ناتے مشعل ملک کو کشمیری عورت کے جذبات کا احساس تو بخوبی ہو ہی رہا تھا لیکن مصورہ ہونے کی حیثیت سے وہ ان جذبات کی خوبصورت ترجمانی کا فن بھی رکھتی ہیں۔ اس تصویر میں تین عورتوں کو خاردار تاروں کے اس پار مناسب رنگوں میں دکھایا گیا تھا۔ ان میں ایک زیادہ عمر کی اور دو نوجوان عورتیں دکھائی گئی تھیں۔ دونوں نوجوان عورتیں بے پایاں انتظار کی تصویر بنی بیٹھی ہیں۔ ان عورتوں کے ذریعے وادی کے کشمیری اور گوجری کلچر کی ترجمانی کی گئی تھی۔ مشعل ملک نے اپنی یہ پینٹنگ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی اَپ لوڈ کی، جہاں اسے دنیا بھر میں زبردست سراہا گیا۔ ایک گھنٹے کے اندر ہی 103 افراد نے اسے پسند کیا اور 64 سے زیادہ نے اس پر باقاعدہ تبصرے کیے۔ کئی ایک نے اسے کشمیری خواتین کو مصورہ کا بہترین خراج تحسین قرار دیا۔ ایک کشمیری لڑکی نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کشمیری اور گوجری خواتین نے نیلے، پیلے رنگوں کو ترک کرکے سفید اور سیاہ لباس استعمال کرنا شروع کیا ہے جو بے رنگ اور سپاٹ زندگی کی عکاسی ہے، جیسے کہ خوشیوں کے دریچوں پر غم و الم کے پردے آویزاں ہوں۔ یہ محض حسن ِاتفاق تھا یا کچھ اور کہ عالمی یوم خواتین سے چند دن پہلے مجھے سری نگر سے ایک کتاب کا تحفہ ملا۔ کتاب کا نام ہے قیدی نمبر100۔ یہ کشمیری خواتین کی معروف تنظیم مسلم خواتین مرکز کی سربراہ محترمہ انجم زمرد حبیب کی جیل بیتی ہے۔ زمرد حبیب پیشے کے اعتبار سے لیکچرار تھیں لیکن آزادیٔ وطن کا نظریہ انہیں تدریس و تلقین سے نکال کر کردار و عمل کی راہوں میں لے آیا۔ انہوں نے مسلم خواتین مرکز کے نام سے تنظیم قائم کی۔ یہ تنظیم کل جماعتی حریت کانفرنس کی سرگرم اکائی بھی تھی۔ 2003ء میں بنکاک میں ہونے والی ایک کشمیر کانفرنس میں شرکت کے بعدزمرد حبیب دہلی پہنچیں تو وہاں انہیں گرفتار کرکے تہاڑ جیل میں ڈال دیا گیا۔ کشمیر کے خوش گوار موسموں کی یہ شناور دہلی کی جھلسا دینے والی گرمیاں جھیلتی رہی۔ 348 صفحات پر مشتمل یہ کتاب کشمیر کی خواتین کے درد و کرب اور قربانیوں کی کہانی سناتی ہے۔ زمرد حبیب رہا تو ہوچکی ہیں لیکن وہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر آج بھی ایک قید کا شکار ہیں جس کا اظہار وہ خود یوں کررہی ہیں: رہائی پانے کے بعد بھی میں بے خوابی کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ نیند کی دوائی کھائے بغیر مجھے نیند نہیں آتی، رات رات بھر جاگتی رہتی ہوں۔گھٹن بھرے خواب اب بھی مجھے ستاتے ہیں، کیونکہ خواب میں جیل، جیل کی سلاخیں، جیل کا اسٹاف اور جیل کا پُرتنائو ماحول دیکھتی ہوں۔ ابھی بھی جب شام کے چھ بج جاتے ہیں تو ایک خوف سا طاری ہوجاتا ہے۔ چھ بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنا مجھے ایک معما سا لگتا ہے کیونکہ شام کے چھ بجے جیل کی گنتی بند ہوجایا کرتی تھی۔ اس عادت نے میرے ذہن کو مقفل کردیا ہے۔ بظاہر تو میں آزاد دنیا میں ہوں مگر ابھی بِنا ہاتھ پکڑے میں سڑک پر اطمینان سے چل نہیں سکتی، کیونکہ پانچ سال تک پولیس والے میرا ہاتھ پکڑے مجھے تہاڑ جیل سے عدالت اور عدالت سے تہاڑ جیل لے جایا کرتے تھے، اور اس عادت نے میرے ذہن میں وہ نقوش چھوڑے ہیں کہ جن کا مٹنا مشکل ہے۔ اس سے پہلے زمرد حبیب جیل کا احوال کچھ یوں قلم بند کرتی ہیں: آج کل میں بہت زیادہ افسردہ اور غمگین رہتی ہوں۔ ایک لمبے عرصے سے ایسے ماحول میں ہوں جہاں کھل کر سانس بھی نہیں لے سکتے۔ اندر سے گھٹن محسوس ہوتی ہے، جی چاہتا ہے کہ چیخ چیخ کر روئوں۔ زندگی نے ایک نئی دنیا میں لاکر بند کیا ہے جہاں ہر طرف تاریکی پھیلی ہے اور طبیعت کو کسی طرح سکون میسر نہیں۔ ہر طرف سلاخیں، زنجیریں باہر کی رونقیں نظروں سے اوجھل اور خوشیوں کی صدائیں کم کم، کھانے پینے کے مسائل، جسمانی راحتوں سے محرومی، اپنوں کی جدائی، ساری دنیا اُجڑی اُجڑی، پھر طبیعت کی یہ ناسازی، جھلسا دینے والی گرمی۔ قید خانے کی اس چار دیواری کی زندگی کو موت سے تعبیر کرتی ہوں۔ مُغلی بیگم کا انتظار، مشعل ملک کی پینٹنگ اور زمرد حبیب کی داستانِ اسیری آج کی کشمیری خاتون کی ساری کہانی بس یہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج عورتوں کو طاقتور بنانے کی دُہائی دینے والوں کو طاقت کے ہاتھوں مسلتی کچلتی عورتوں سے کوئی سروکار نہیں۔
Comments