مظفرآباد کے اوپر زہریلی ہواؤں کا کمبل

اتنے سنگین خطرات کے بار بار سامنے لاے جانے کے باوجود بھی ابھی تک حکومت اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے زلزلے کے بعد کوئی ٹھوس اقدامات ماحولیاتی بحالی کے حوالے سے سامنے نہیں لائے گے بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کے تحت بڑے تعمیراتی منصوبہ جات کا کل قیمت کا دو سے پانچ فیصد ماحولیاتی بحالی کے مختص کیا جاتا ہے مگر دو ہزار پانچ کے زلزلے کے بعد کھربوں کے پروجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں مگر ماحولیات
دریا ے نیلم میں پانی کی سطح اگر مزید کم ہوگئی تو  حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں 
سے متعلق خانہ پری بھی نہیں کی گئی ۔
صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے کے اندر نیلم اورجہلم ویلی کی سڑکات پر شجرکاری کی گئی تاہم ابھی تک نیلم ویلی روڈ پر شجرکاری کرنے والی تنظیموں کو آٹھ ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی جاسکی اور ماحولیات کے نام پر آنے والے پیسوں کو دوسری مدات میں منتقل کر دیا گیا ہے نیلم جہلم پروجیکٹ کے بننے کی صورت میں شہر کے وسط سے گزرنے والے دریا ے نیلم میں پانی کی سطح اگر مزید کم ہوگئی تو 
پھر حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں ۔

شجرکاری کرنے والی تنظیموں کو آٹھ ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی جاسکی

۔شہر میں جو موجودہ حالت ہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ دو دریا یہاں سے گزرتے ہیں جس سے کچھ اثرات کم ہو جاتے ہیں ۔شفیق قریشی کے مطابق پیر چناسی سے اگر صاف موسم میں دارلحکومت کا فضائی نظارہ کیا جائے تو زہریلی ہواؤں کا یہ کمبل واضع طور پر دیکھا جا سکتا ہے شہر کے چشموں میں سیوریج کا پانی شامل ہورہا ہے جس کو پینے سے شہر کی بڑی آبادی مختلف بیماریوں کا شکار ہورہی ہے دارلحکومت کے مخصوس محل وقوع کے پیش نظر دو ماہ سردیوں اور دو ماہ گرمیوں میں شہری انتہائی آلودہ گندگی میں سانس لیتے ہیں جس سے الرجی ،سانس کی تکالیف سمیت دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں یہاں پر اگنے والی سبزیات بھی زہریلی ہوتی ہیں ۔شہر کے اندر ہیپٹاٹیس کے حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے وارننگ بھی جاری کی ہوئی 
ہے۔
۔برطانیہ کی سرے یونیورسٹی سے فارغ التحصیل معروف ماہر ماحولیات صاحبزادہ آفتاب عالم نے آزادی کو بتایا کہ ہیپٹاٹیٹس سی سے سب سے زیادہ کیسیسز مظفرآباد سے سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ آبی آلودگی ہےecoli نامی بیکٹریا کی کثرت کی وجہ سے گردے کی بیماریاں عام ہیں ۔ درختوں کی روز بروز کمی کے باعث ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ۔دارلحکومت کے پہاڑ زلزلے سے بوسیدہ ہو چکے ہیں اگر ان پر شجرکاری نہ کی گئی تو تمام مٹی بارش میں طوفانی شکل میں بہہ کر نیچے آنے کا خدشہ ہے آفتاب عالم کے مطابق شہر کے اندر شجرکاری انتہائی ضروری ہے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوجائینگے ۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دارلحکومت میں جھیل بنانا انتہائی ضروری ہے جس سے ماحولیاتی بہتری کا امکان ہے اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے چائیں ۔
جگہ جگہ کیمونیکشن ٹاورز بھی تابکاری کا اخراج کررہے ہیں جس سے زیادہ عورتیں اور بچے متاثر ہو 
رہے ہیں ۔

 راجہ وسیم انسانی حقوق ، ترقی اور قیام امن کے لئے مصروف عمل تنظیم پریس فار پیس کے آزادکشمیر میں ڈائریکٹر ہیں 
مظفرآبادسے راجہ وسیم کی چونکا دینے والی رپورٹ
 ماہرین ماحولیات نے دارلحکومت مظفرآباد کو انتہائی خطرناک علاقہ قرار دے دیا ۔اگر بچاؤ کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ پندر ہ سالوں تک ہر دوسرا شخص دل ،گردوں ،و دیگر بیماریوں کا مریض ہو گا ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پیپٹاٹییٹس میں سب

آئندہ پندر ہ سالوں تک ہر دوسرا شخص دل، گردوں ،و دیگر بیماریوں کا مریض ہو گا

سے زیادہ  پانی بیماریاں پھیلانے لگا
ہے
زلزلے کے بعد ابتدائی عمر میں ہارٹ اٹیک کی شکایات عام ہیں مظفرآباد کے اوپر زہریلی ہواؤں کا کمبل بن گیا ہے جو کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پرکام کرنے کی ضرورت ہے ۔آزادی سے بات چیت کرتے ہوے ماہر ماحولیات و ارضیات شفیق قریشی جنہوں نے امریکہ ،اقوام متحدہ کے مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دیں کہا کہ زلزلہ کے بعد پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نے مظفرآباد کے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے ۔انتہائی ضروری ہے کہ نیلہ دندی سے دھول کا اخراج کم کرنے کے الیے اقدامات کیے جائیں اور شہر کے اندر تعمیراتی کاموں کے دوران دھول سے عوام الناس کو بچانے کے
لیے ا
قدامات کیے جائیں ۔


Comments