Urdu site‎ > ‎

کشمیری مسلمانوں میں جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت

از نصرت آرا
(مقبوضہ کشمیر)
شازیہ اختر اور اس کے اہل خانہ مہینوں سے اس کی شادی کی تیاریاں کررہے تھے۔ انہوں نے اس دن کے لیے رقم پس انداز کی تھی۔ کشمیر میں شادیاں زیادہ سے زیادہ مہنگی ہوتی جارہی ہیں اس لیے خصوصاً بیٹیوں کے والدین پر بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔
دلہن کو دیے جانے والے زیورات اور دوسرے گھریلو تحائف اور دولہا کے گھر والوں اور رشتہ داروں کے لیے تحائف اخراجات کا بڑا حصہ ہیں۔ دلہن کے دیگر تحائف، ملبوسات اور شادی کے دن کی ضیافت بھی بڑے اخراجات میں شامل ہیں۔
شازیہ کا کہنا ہے کہ میرے والدین نے میرے لیے دس بارہ لاکھ کے زیورات خریدے جبکہ دولہا اور اس کے گھر والوں کے خریدے گئے زیورات پر پانچ لاکھ صرف ہوئے
شازیہ کو پریشانی ہے کہ مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ان دنوں لڑکی کی شادی کرنا ناممکن ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ فہرست لمبی ہوتی جارہی ہے کیونکہ طرز زندگی بدل رہا ہے اور لوگ زیادہ مادہ پرست ہوتے جارہے ہی
اگرچہ جہیز مسلمانوں کی روایت نہیں تاہم کشمیر میں یہ معمول بن گیا ہے جس کا کچھ سبب علاقے پر ہندو اثرات ہیں۔ یہ کہانی میرے لیے بہت جانی پہچانی ہے۔ بار بار میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے اسی طرح کی کہانیاں سنتی ہوں۔ تعلیم، سماجی حیثیت اور مذہبی تنافر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتے۔
6 نومبر 2011ء کو شازیہ مجید اپنے گھر میں رسی سے لٹکی ہوئی مردہ پائی گئی۔ کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ شازیہ مجید اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں لائبریرین تھی۔ اس کے والد کے مطابق اسے اس کے شوہر نے قتل کیا اور وہ جہیز اور گھریلو تشدد کے مسئلے کا شکار ہوئی۔ شوہر اس پر دباؤ ڈالتا رہتا تھا کہ سسرال سے الگ گھر بنوانے کے لیے اپنے گھر سے مزید پیسہ لائے۔
وکیل اور سماجی کارکن ندیم قادری نے تین دیگر دوستوں کے ہمراہ شازیہ مجید کے لیے احتجاجی مظاہرہ منظم کیا جس میں خواتین اور سول سوسائٹی کے دیگر ارکان کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
دعوت نامے میں کہا گیا تھا ہمارے معاشرے میں بہت سے شازیائیں ہیں۔ وہ قتل یا خودکشی کے دہانے پر ہوسکتی ہیں۔ معاشرے کا اخلاقی فرض ہے کہ اٹھے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ شازیہ کو انصاف ملے اور ساتھ ہی ان بدقسمت خواتین کے حق میں آواز اٹھائے جو ابھی تک ظلم سہ رہی ہیں۔
سرینگر کی رہائشی سمیرا جان نے لگ بھگ چار سال پہلے اپنے کزن بلال احمد پنڈت سے شادی کی۔ پچھلے مئی میں اسے مبینہ طور پر پنڈت اور سسرالیوں نے قتل کردیا۔ سمیرا کے والد فاروق احمد خان نے مجھے بتایا کہ شادی کے کچھ دن بعد ہی جہیز کے معاملات پر سسرال والوں سے جھگڑے سے شروع ہوگئے تھے۔
خان کے مطابق پہلے چند ماہ سب کچھ ٹھیک رہا۔ پھر انہوں نے سمیرا سے کہا کہ زمین کا ایک قطعہ خریدنا ہے اس لیے اپنے زیورات بیچ دو۔ سمیرا نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں مختلف بہانوں سے اس کے لیے مسائل پیدا کیے گئے۔
چند روز قبل سمیرا نے اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین سے رابطہ کیا تھا۔ یہ ایک سرکاری ادارہ ہے جس کا کام عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ خان کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر اور شوہر کے خاندان نے حکام کے سامنے اتفاق کیا کہ وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے لیکن سمیرا کے لیے کچھ نہ بدلا۔
اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن شمیم فردوس نے کہا کہ ہمیں قصبوں، دیہات اور دوردراز علاقوں سے ایسی عورتوں کے کیس موصول ہوتے ہیں جن میں سسرالی کاروں، موٹر بائیکس، ٹی وی، زمین یا نقدی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مطالبات پورے نہ ہونے پر سسرالی انہیں اذیت اور طلاق کی دھمکی دیتے ہیں۔
اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین کو شادی کے قضیوں سے متعلق بہت سی شکایات ملتی ہیں۔ شکایات کی نوعیت کچھ بھی ہو ان کی جڑیں جہیز میں ہوتی ہیں۔ بھارت میں 2010ء میں جہیز سے متعلق اموات کے 8391 واقعات ہوئے۔ اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک صورتحال ہے کیونکہ جہیز کا سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ کمیشن برائے خواتین کی ترجمان کے مطابق اسلام جہیز سے منع کرتا ہے۔ کشمیر میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہونے کے باوجود ہم جہیز دیتے ہیں کیونکہ ڈرتے ہیں کہ ورنہ ہماری بیٹی سے اچھا سلوک نہیں ہوگا۔ یہ ایک شدید نفسیاتی خوف کی کیفیت ہے اور بلاشبہ بیٹیوں سے اچھا سلوک نہیں ہورہا۔
جہیز ممنوع ہے اور مجرموں کو سزا دینے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں۔ جموں اینڈ کشمیر ڈاؤری ریسٹرینٹ ایکٹ (بھارت) کے تحت جہیز لینے دینے پر مقدمہ درج ہوسکتا ہے اور سزا ہوسکتی ہے۔ لیکن زمینی صورتحال کچھ اور کہانی سناتی ہے۔
عورتوں عدالت جانے سے ڈرتی ہیں کیونکہ اس میں بدنامی ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ اور آزاد خواتین بھی عدالت سے بچتی ہیں۔ وہ سوچتی ہیں لوگ کیا کہیں گے؟ اور مدد لینے میں شرم محسوس کرتی ہیں۔ 
پلوامہ کے رہائشی غلام نبی بھٹ اپنی بیٹی کو طلاق دلوانا چاہتے ہیں جو سسرال میں ہراساں کیے جانے کے بعد اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہے۔ سسرالی جہیز واپس کرنے سے منکر ہیں۔ بھٹ نے ویمنز کمیشن میں کیس دائر کیا ہے۔
بھٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے شریعت کورٹ تک سے سفارش لے لی ہے کہ تمام جہیز پر عورتوں کا حق ہے لیکن سسرالی ٹس سے مس نہیں ہورہے اسلام میں لازمی مہر کی شرط ہے جو شادی یا نکاح کے وقت دولہا کی جانب سے دلہن کو ادا کی جانے والی رقم ہے۔ یہ رقم دلہن کی ملکیت ہوتی ہے اور وہ جیسے چاہے خرچ کرسکتی ہے۔
حقیقی صورتحال تاریک معلوم ہوتی ہے۔ مرد اپنے والدین کو ناخوش کرنا نہیں چاہتے جبکہ عورتیں اپنے والدین کے لیے مسائل پیدا کرنا نہیں چاہتیں۔ لیکن جب تک مرد اور عورت، جو ازدواجی رشتے کے اصل شریک ہوتے ہیں، تبدیلی نہیں چاہیں گے صورتحال نہیں بدلے گی۔ حالات اس وقت بہتر ہوں گے جب دولہا جہیز لینے سے اور دلہن دینے سے انکار کرے گی۔
مارچ 2012ء میں The WIP پر انگریزی میں شائع ہوا۔
ترجمہ: سہیل انجم
بشکریہ : زبیدہ مصطفی ڈاٹ کام
Comments