Urdu site‎ > ‎

کشمیر میں پائیدار امن

پاکستان اور ہندوستان کی سول سو سائٹی ، میڈیا ، ادیب اور دانشور ایک عرصے سے اس بات پر متفق ہیں کہ دونوں ممالک میں ترقی و خوشحالی اور عوام کے معیار زندگی کی بہتری کے لیے خطے میں پائیدار امن کا قیام ضروری ہے اور جنوبی ایشیا میں امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے ۔ یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی گرم یا سرد جنگ سے ممکن نہیں کیونکہ دونوں ممالک ساٹھ سالہ جنگ کو کسی نتیجے تک نہیں پہنچا سکے اب اگر مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہے تودونوں ممالک کو سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا ۔ مگر نہ جانے کیو ں کچھ قوتیں اب بھی اس بات پر ڈٹی ہوئی ہیں کہ کشمیر حاصل کرنے کے لیے مسلح جنگ ضروری ہے اور اس جنگ کے بغیر نہ پا کستان ہندوستان کی بات ماننے کو تیار ہے اور نہ ہندوستان پاکستان کی تجویز پر عمل کرنے کا متمنی ۔اس سارے عمل میں کسی نے کبھی کشمیری عوام سے یہ پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور عالمی امن کی ضامن اقوام متحدہ اس کی تو آنکھوں پر پٹی ہے جسے دنیا کے نقشے پر کشمیر کا خطہ شائد دکھائی ہی نہیں دیتا اور نہ کشمیروں پر روا رکھے گئے مظالم
 عالمی امن کی ضامن اقوام متحدہ کی  آنکھوں پر پٹی ہے جسے دنیا کے نقشے پر کشمیر کا خطہ شائد دکھائی ہی نہیں دیتا
کی چیخ و پکار اس کے کانوں تک پہنچی ہے۔ 
ساٹھ سال قبل اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایک قرارداد پاس کر کے اپنا حق ادا کر دیا ہے ۔اب اس پر عمل درآمد ہو نہ ہو اس کی بلا سے۔ یہ دونوںممالک کا ذاتی مسئلہ ہے کہ وہ ان قرارداوں پر کس حد تک خود عمل کرتے ہیں اور کس حد تک دوسرے کو اس پر عمل کرنے کا پابند بنا سکتے ہیں۔ رہی بات کشمیریوں کی تو عالمی برادری نے آج تک انہیں شائد انسانی مخلوق بھی تسلیم نہیں کیا ۔ دنیا میں تو اب جانوروں کے حقوق کی باتیں ہو رہی ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے تحریکیں چل رہی ہیں مگر کشمیر ی شائد حقوق سے مبراءکوئی مخلوق ہیں جن کے حقوق کے تحفظ کے لیے ابھی تک نہ کوئی قانون بنا ہے اور نہ ضابطہ اخلاق طے پایا ہے۔
کشمیر اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کی ہٹ دھرمی اپنی جگہ مگر عالمی برادری کے منافقانہ کردار کی وجہ سے یہ مسئلہ باسٹھ سالوں سے حل نہیں ہو سکا اور تین مسلح جنگوں کے بعد سات سالہ عارضی جنگ بندی کے استحکام بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک عالمی برادری دونوںممالک کو قیام امن کے لیے مجبور نہیں کریں گے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کروایا جائے گا اور کشمیریوں کو انسان تسلیم کرتے ہوئے ان کے مسلمہ حقوق دینے کے لیے دباﺅ نہیں ڈالا جائے گا ،پاکستانی ، کشمیری اور ہندوستانی عوام کے دلوں سرحدوں پر کبڈی کھیلنے کے جذبات لیے امن کی آشائیں سر اٹھاتی اور دم توڑتی رہیں گی۔
دونوں ممالک کے حکمران اور عسکری قیادت آج تک 
یہ فیصلہ نہیں کر پائے کے باسٹھ سالہ پرانے مسئلہ کشمیر کو 


حل کیسے کیا جائے ۔
 پاکستان اور ہندوستان کے عوام امن اور کشمیری عوام آزادی چاہتے ہیں مگر بھارت اور پاکستان ان کی خواہشات کی
جلال الدین مغل  پریس فار پیس
 کے  ترجما ن اور  کالم نگا ر  ہیں 


تکمیل میں رکاوٹ ڈالے ہوئے ہیں ۔ 
تین بڑی جنگوں ہزاروں اموات اور اربوں کی املاک کی تباہی کے باوجود نہ تو پاکستان کشمیر کی ایک انچ زمین حاصل کر سکا ہے اور نہ ہی ہندوستان اپنے زیرانتظام علاقوں سے ایک قدم آگے بڑھ سکا ہے ۔تاہم دونوں جانب سے شہ رگ اور اٹوٹ انگ کے نعرے ابھی بھی بلند ہو رہے ہیں ایک کا اٹوٹ انگ دوسرے کے قبضے میں اور دوسرے کی شہ رگ پہلے کے تسلط میں ہے۔ اس ساری صورتحال کے دوران گہیوں میں گھن کی طرح پستے ہیں تو بے چارے کشمیری۔
حیرت انگیز طور پر اگر کسی غیر مسلم خطے کے عوام پر معمولی سا تنازعہ ہو جائے تو امریکہ اور اس کی باندی اقوام متحدہ کی فوجیں بوٹوں سمیت چڑھ دوڑتی ہیں اور فوراً تنازعہ کو حل کرنے کےلئے سر گرم ہو جاتی ہیں مگر باسٹھ سال سے جاری کشمیریوں کی چیخ و پکار ان تک نہیں پہنچ سکی ۔افغانستان میں طورا بورا کے پہاڑوں میں چھپے دہشت گرد تو امریکہ کو نظر آجاتے ہیں ۔عراق میں تیل کے کنووںمیں چھپے کیمیائی ہتھیار امریکی نظر سے بچ نہیں سکتے مگر خدا جانے کیوں عالمی برادری کو ساٹھ سالوں کے دوران کشمیر جاری آگ اور کون کا کھیل نظر نہیںآیا ۔ سندھ ، پنجاب اور بلوچستان کے کسی علاقے میں کسی خاتون کی آبرو ریزی ہو جائے تو عالمی سطح پر ایک تنازعہ کھڑا ہو جاتا ہے ، انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار تنظیمیں ہنگامہ کھڑا کر دیتی ہیں۔ یہی آبرو ریزیاں ساٹھ سال سے کشمیر میں ہورہی ہیںمگر مجال جو عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی نظریں وہاں تک پہنچ سکیں ۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران میڈیا نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہندوستانی مظالم کو بے نقاب کیا اور عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے مگر اس کے باوجود یہ لوگ خدا جانے کیوں 
آنکھیں بند کر کے اور نظریں چرا کر گزر جاتے ہیں۔
تحریر: جلال الدین مغل 
 پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر 2003سے جاری عارضی جنگ بندی کو ان دنوں خطرات لاحق ہیں ۔گزشتہ تین ماہ کے دوران کنٹرول لائن کے مختلف مقامات پر ہندوستان کی بلا اشتعال فائرنگ اور ہندوستانی حکام کی جانب سے پاکستان پر دراندازی کے الزامات نے اس سیز فائر کے استحکام کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے ۔ سرحدی علاقوں کے عوام اس صورت حال کے باعث تشویش کا شکار ہیں ۔ وادی نیلم ہندوستانی گولہ باری کے شکار علاقوں میں سر فہرست ہے جہاں چودہ سال تک لگا تار ہندوستانی فوج کی اشتعال انگیزی اور فائرنگ کے باعث ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوئے اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں اور عملی طور پر اس علاقے میں نظام زندگی مفلوج رہا ۔ سات سالہ عارضی جنگ بندی کے دوران وادی نیلم کے عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے اور زندگی اپنے معمول کی طرف لوٹنے لگی ہے ۔ مگر کنٹرول لائن پر فائرنگ کے حالیہ واقعات نے یہاں کے عوام کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔سات سالہ سیز فائر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستانی فوج نے کنٹرول لائن پر اپنی پوزیشن اس حد تک مستحکم کر لی ہے کہ ہندوستانی فوج کا محض ایک حوالدار معمولی سے اشارے پر نیلم ویلی کی شہ رگ (نیلم ویلی روڈ) کاٹ سکتا ہے ۔گزشتہ دنوں کیرن سیکٹر میں دریائے نیلم کے کنارے ہندوستانی فوج کی جانب سے مورچوں کی تعمیر پر ہونے والی جھڑپ کے دوران وادی نیلم کے عوام کو یہ یقین ہو گیا تھا کہاا نہیں ایک بار پھر اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے وہ چودہ سال تک نبرد آزما رہے ہیں۔ اس کے فوراً بعد سرحدی گاﺅں فلاکاں کے دو رہائشیوں سلیم اور 
اقبال کی ہندوستانی فوج کے ہاتھوں شہادت نے صورت
حال کو اور بھی گھمبیر تر کر دیا ہے ۔
پاکستانی ، کشمیری اور ہندوستانی عوام کے دلوںمیں  امن کی آشائیں سر اٹھاتی اور دم توڑتی رہیں گی




Comments